ایران میں مسلسل انٹرنیٹ بندش اور عالمی نیٹ ورک تک محدود رسائی نے سرحدی علاقوں میں ایک نئی غیر قانونی مارکیٹ کو جنم دے دیا ہے، جہاں لوگ عراقی سم کارڈ استعمال کرکے بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔
تاجروں، فری لانسرز اور کاروباری افراد کیلئے یہ مسئلہ اب صرف تکنیکی نہیں بلکہ معاشی بقا کا سوال بن چکا ہے۔
اگر یہی صورتحال 60 دن تک جاری رہے تو تخمینہ ہے کہ نقصان 300 ہزار ارب تومان، یعنی تقریباً 1.67 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر کے مطابق تقریباً ایک کروڑ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ ہیں، اس لیے انٹرنیٹ بندش لاکھوں خاندانوں کے روزگار کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔
نجی شعبے کی جانب سے ایران چیمبر آف کامرس کی نالج بیسڈ کمپنیوں کی کمیٹی کے سربراہ افشین کلاہی نے انٹرنیٹ بندش سے براہِ راست یومیہ نقصان 3 سے 4 کروڑ ڈالر کے درمیان بتایا، جبکہ بالواسطہ نقصان 7 سے 8 کروڑ ڈالر روزانہ تک پہنچ سکتا ہے۔
معروف ایرانی ماہرِ معاشیات موسیٰ غنی نژاد نے بھی اپنے ایک اداریے میں ان اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنا صرف معاشی نقصان ہی نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف سکیورٹی یا انتظامی اقدامات میں نہیں، کیونکہ اس کی اصل وجہ صارفین کی عملی ضرورت ہے۔
سرحد پر جا کر عراقی نیٹ ورک کا سگنل حاصل کرنے والا تاجر لازماً حکومت کو چیلنج نہیں کر رہا بلکہ اپنے کاروبار کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خوزستان کی سرحدی جغرافیائی حیثیت اس صورتحال کو مزید منفرد بناتی ہے، کیونکہ عراق سے قربت بعض علاقوں میں عراقی نیٹ ورکس کے سگنلز وصول کرنے کی سہولت دیتی ہے، جس سے سرحد ایک متبادل تکنیکی راستہ بن گئی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام غیر ملکی سم کارڈز کے بڑھتے استعمال سے کیسے نمٹیں گے، مگر یہ صورتحال ایک واضح حقیقت سامنے لا رہی ہے:
جتنا زیادہ سرکاری انٹرنیٹ رابطہ معطل ہوگا، اتنا ہی زیادہ لوگ غیر رسمی متبادل تلاش کریں گے۔
اس مرحلے پر انٹرنیٹ محض ایک ڈیجیٹل سہولت نہیں بلکہ روزگار اور زندگی کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔