اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

سگنل کی تلاش: ایران میں انٹرنیٹ کا بحران

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران انٹرنیٹ بحران
خوزستان کے سرحدی علاقوں میں عراقی سم کارڈز کی مانگ میں نمایاں اضافہ

ایران میں مسلسل انٹرنیٹ بندش اور عالمی نیٹ ورک تک محدود رسائی نے سرحدی علاقوں میں ایک نئی غیر قانونی مارکیٹ کو جنم دے دیا ہے، جہاں لوگ عراقی سم کارڈ استعمال کرکے بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔
تاجروں، فری لانسرز اور کاروباری افراد کیلئے یہ مسئلہ اب صرف تکنیکی نہیں بلکہ معاشی بقا کا سوال بن چکا ہے۔

ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں بعض تاجروں کا دن اب دفتر یا گودام سے نہیں بلکہ عراقی سرحد کے قریب سڑکوں سے شروع ہوتا ہے، جہاں عراقی موبائل نیٹ ورکس کے سگنلز موصول ہوتے ہیں۔

 وہاں وہ عراقی سم کارڈ استعمال کرکے بیرونِ ملک اپنے گاہکوں سے رابطہ کرتے، پیغامات کا جواب دیتے اور تجارتی امور کو منظم کرتے ہیں۔

ایک تاجر، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انٹرنیٹ کی بندش نے اسے اپنے صارفین سے باقاعدہ رابطہ رکھنے سے محروم کر دیا ہے۔ 

اس کے مطابق عراقی سم خریدنا کوئی آرام دہ انتخاب نہیں بلکہ کاروباری نقصان کم کرنے کیلئے ایک مجبوری بن چکا ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ بیرونی تجارت پیغامات میں طویل تعطل یا قیمتوں اور شپمنٹس کی نگرانی میں تاخیر برداشت نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھیں

ایرانی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ویب سائٹ ’سیتنا‘ کے مطابق خوزستان اور عراق سے ملحقہ علاقوں میں عراقی موبائل کمپنیوں، خصوصاً ’زین‘ اور دیگر آپریٹرز کے سم کارڈز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس تاجر کی کہانی دراصل ایک وسیع ہوتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایران کے بعض سرحدی علاقوں میں لوگ غیر رسمی 

طریقوں سے عالمی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کیلئے عراقی سم کارڈ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ملک میں انٹرنیٹ پابندیاں اور بندشیں مسلسل جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ سم کارڈ غیر رسمی راستوں سے ایران لائے جاتے ہیں اور اصل قیمت سے زیادہ نرخوں پر فروخت کیے جاتے ہیں، کیونکہ صارفین کو مستحکم بین الاقوامی انٹرنیٹ کنکشن کی شدید ضرورت ہے۔ 

بعض سرحدی مقامات پر لوگ بغیر سرحد عبور کیے عراقی نیٹ ورکس کے سگنلز حاصل کر لیتے ہیں، جس کے بعد گاڑیاں، کیفے اور سڑک کنارے عارضی دفاتر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ChatGPT Image 12 مايو 2026، 09 14 08 م
عراقی نیٹ ورکس کی سروس ایران کے بعض علاقوں میں قابلِ رسائی

یہ معاملہ اب صرف سرحدی علاقوں کی محدود تجارت نہیں رہا بلکہ اس بات کی علامت بن چکا ہے کہ انٹرنیٹ بحران ذاتی استعمال سے نکل کر روزگار اور معاشی زندگی تک پہنچ گیا ہے۔ پہلے لوگ وی پی این یا پابندی توڑنے والی ایپس استعمال کرتے تھے، مگر اب بعض صارفین مکمل طور پر مقامی نیٹ ورک سے باہر متبادل نیٹ ورک تلاش کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے اندر انٹرنیٹ بندش سے ہونے والے معاشی نقصانات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ 

ایرانی وزیرِ مواصلات ستار ہاشمی کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو روزانہ تقریباً 500 ارب تومان (تقریباً 27 لاکھ 80 ہزار ڈالر) کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ مجموعی قومی معیشت کو یومیہ تقریباً 5 ہزار ارب تومان (تقریباً 2 کروڑ 78 لاکھ ڈالر) کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

انٹرنیٹ بندش سے
ایران کی ڈیجیٹل
معیشت کو روزانہ
لاکھوں ڈالر نقصان

اگر یہی صورتحال 60 دن تک جاری رہے تو تخمینہ ہے کہ نقصان 300 ہزار ارب تومان، یعنی تقریباً 1.67 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر کے مطابق تقریباً ایک کروڑ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ ہیں، اس لیے انٹرنیٹ بندش لاکھوں خاندانوں کے روزگار کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔
نجی شعبے کی جانب سے ایران چیمبر آف کامرس کی نالج بیسڈ کمپنیوں کی کمیٹی کے سربراہ افشین کلاہی نے انٹرنیٹ بندش سے براہِ راست یومیہ نقصان 3 سے 4 کروڑ ڈالر کے درمیان بتایا، جبکہ بالواسطہ نقصان 7 سے 8 کروڑ ڈالر روزانہ تک پہنچ سکتا ہے۔
معروف ایرانی ماہرِ معاشیات موسیٰ غنی نژاد نے بھی اپنے ایک اداریے میں ان اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنا صرف معاشی نقصان ہی نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے ’انٹرانیٹ‘ اور ’طبقاتی انٹرنیٹ‘ جیسے تصورات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب غیر ملکی سم کارڈز کا استعمال ایرانی حکام کیلئے ایک نیا انتظامی چیلنج بھی بن رہا ہے۔ 

بیرونی موبائل آپریٹرز کی خدمات استعمال ہونے سے ڈیٹا کنٹرول اور نگرانی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ اس سے ایک ایسی ’گرے مارکیٹ‘ بھی جنم لے رہی ہے جسے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوگا۔

10 ملین سے زائد
افراد کی آمدن
ڈیجیٹل معیشت
سے وابستہ

ٹیلی کمیونیکیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف سکیورٹی یا انتظامی اقدامات میں نہیں، کیونکہ اس کی اصل وجہ صارفین کی عملی ضرورت ہے۔
سرحد پر جا کر عراقی نیٹ ورک کا سگنل حاصل کرنے والا تاجر لازماً حکومت کو چیلنج نہیں کر رہا بلکہ اپنے کاروبار کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خوزستان کی سرحدی جغرافیائی حیثیت اس صورتحال کو مزید منفرد بناتی ہے، کیونکہ عراق سے قربت بعض علاقوں میں عراقی نیٹ ورکس کے سگنلز وصول کرنے کی سہولت دیتی ہے، جس سے سرحد ایک متبادل تکنیکی راستہ بن گئی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام غیر ملکی سم کارڈز کے بڑھتے استعمال سے کیسے نمٹیں گے، مگر یہ صورتحال ایک واضح حقیقت سامنے لا رہی ہے:
جتنا زیادہ سرکاری انٹرنیٹ رابطہ معطل ہوگا، اتنا ہی زیادہ لوگ غیر رسمی متبادل تلاش کریں گے۔
اس مرحلے پر انٹرنیٹ محض ایک ڈیجیٹل سہولت نہیں بلکہ روزگار اور زندگی کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔