ایران کے دارالحکومت تہران کے قریبی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آنے والے مسلسل 9 زلزلوں نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بین الاقوامی ماہرینِ ارضیات کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
پے در پے آنے والے ان جھٹکوں نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا تہران کسی بڑی قدرتی آفت کی زد میں آنے والا ہے؟
پردیس اور گرد و نواح میں بے چینی کی رات
ایرانی میڈیا کے مطابق مشرقی تہران کے علاقے ’پردیس‘ میں رات گئے 9 چھوٹے زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں سب سے شدید جھٹکا 4.6 شدت کا تھا، جس نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔
خوش قسمتی سے ان زلزلوں کے نتیجے میں اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم ان کا تسلسل غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
خطرے کی گھنٹی یا توانائی کا اخراج؟
زلزلوں کے ماہر مہدی زارع کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ چھوٹے زلزلے زیرِ زمین جمع شدہ توانائی کا اخراج ہیں (جو بڑے زلزلے کے خطرے کو کم کرتے ہیں) یا یہ کسی آنے والی بڑی تباہی کا پیش خیمہ؟
- فالٹ لائنز کا جال: تہران ’موشا‘ جیسی انتہائی فعال فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے۔
- ٹیکٹونک دباؤ: ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے نیچے زمین کی تہوں میں مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے، جو کسی بھی وقت ایک بڑے زلزلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
آبادی اور انفرا اسٹرکچر: تہران کی کمزوری
تہران کی آبادی اس وقت 14 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہاں کوئی بڑا زلزلہ آتا ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
- گنجان آبادی: عمارتوں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور آبادی کا شدید دباؤ۔
- کمزور انفرا اسٹرکچر: قدیم طرز کی تعمیرات اور ناقص منصوبہ بندی ہنگامی امداد کے کاموں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
- تیاریوں کا فقدان: اتنی بڑی سطح کی آفت سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔
ماضی کے زخم
ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔
2003ء میں آنے والے بام زلزلے کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، جس نے 30 ہزار سے زائد افراد کی جان لی تھی۔ تہران میں حالیہ لرزتی زمین نے ان خوفناک یادوں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
اگرچہ حالیہ جھٹکوں کی شدت کم تھی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے شہریوں اور حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ قدرت کے یہ چھوٹے اشارے کسی بڑی آزمائش کی دستک بھی ہو سکتے ہیں۔