اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

بیجنگ میں پاور گیم: ٹرمپ ایران کے بدلے چین کو کیا دیں گے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ چین دورہ
بیجنگ میں سپر پاورز کا ٹکراؤ! ٹرمپ ایران، تائیوان اور تجارت پر چین سے آخری جنگ لڑنے جارہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دار الحکومت بیجنگ پہنچ روانہ ہوگئے جہاں وہ چینی صدر کے ساتھ اہم اور حساس سربراہی ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہورہی ہے جب امریکہ، چین تعلقات تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران جنگ جیسے پیچیدہ مسائل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ٹرمپ کے ہمراہ ایلون مسک، ٹم کک اور جینسن ہوانگ سمیت امریکی ٹیکنالوجی و کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات بھی موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ کے روز چینی دار الحکومت بیجنگ پہنچ جائیں گے جہاں وہ چینی صدر Xi Jinping کے ساتھ ایک اہم سربراہی ملاقات کریں گے۔ 

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تجارت، ٹیکنالوجی، ایران جنگ اور عالمی توانائی بحران جیسے حساس معاملات دونوں طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے مرکز بن چکے ہیں۔

بیجنگ نے ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین، واشنگٹن کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے اور اختلافات کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، حالانکہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ چین، امریکہ کے ساتھ مل کر تعاون بڑھانے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کا خواہاں ہے۔

اس دورے کی معاشی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ٹرمپ

 کے ہمراہ امریکہ کی بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود ہیں، جن میں این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور ایپل کے سی ای او ٹِم کُک بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن سے روانگی کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ صدر شی جن پنگ سے کہیں گے کہ چین کو امریکی کمپنیوں اور تخلیقی ذہنوں کے لیے مزید کھولا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے چین کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

465564465465
شی جن پنگ کے ساتھ ایران اور آبنائے ہرمز پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے (فوٹو: ایجنسیاں)

یہ کسی بھی امریکی صدر کا 2017 کے بعد پہلا دورہ چین ہے، تاہم اس بار عالمی حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ، تجارتی تنازعات، مصنوعی ذہانت کی دوڑ اور ٹیکنالوجی پر پابندیاں دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہورہی ہیں۔

ایران اور آبنائے ہرمز ایجنڈے میں سرفہرست

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ایران کے معاملے پر ’طویل بات چیت‘ کریں گے، کیونکہ چین اب بھی امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے معاملے میں انہیں چین کی کسی ’مدد‘ کی ضرورت نہیں، اور ان کے مطابق بیجنگ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے خلاف کوئی خاص ردعمل نہیں دیا۔

ایلون مسک
ٹم کک اور
جینسن ہوانگ
بھی امریکی وفد
میں شامل ہیں

امریکہ نے یہ بحری محاصرہ ایران کی جانب سے فروری کے آخر میں آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد نافذ کیا تھا، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔
ٹرمپ نے شی جن پنگ کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جن کے ساتھ ہماری اچھی سمجھ بوجھ ہے، اور میرا خیال ہے کہ آپ بہت اچھی چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔
امریکی اور چینی صدور کے درمیان جمعرات اور جمعے کو بیجنگ میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے، جہاں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔
ملاقات کے دوران کئی حساس اور متنازع موضوعات زیر بحث آئیں گے، جن میں:
تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت
نایاب معدنیات کی چینی برآمدات پر پابندیاں
مصنوعی ذہانت میں عالمی مسابقت
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی کا مستقبل
ایران جنگ اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات

ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے پر بھی بات کریں گے، جسے امریکی پالیسی میں ایک غیرمعمولی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ واشنگٹن ماضی میں اس معاملے پر بیجنگ سے براہِ راست مشاورت سے گریز کرتا رہا ہے۔

چین مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تائیوان اس کا اٹوٹ حصہ ہے جبکہ امریکی فوجی حمایت کو وہ اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتا ہے۔

65445646
تائیوان کو امریکی اسلحہ فراہمی اہم تنازع بن گئی (فوٹو: الجزیرہ)

تعلقات میں بڑی تبدیلی

گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ اور چین کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 

ایک سال قبل ٹرمپ نے چین پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے تاکہ امریکی معیشت کے سب سے بڑے حریف پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے اور ٹرمپ بیجنگ میں تجارتی معاہدوں، بوائنگ طیاروں، سویابین، گائے کے گوشت اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے چینی تعاون کے خواہاں ہیں۔

اسی دوران جنوبی کوریا میں امریکی اور چینی وفود کے درمیان اقتصادی اور تجارتی مذاکرات بھی شروع ہوگئے ہیں، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے بدلے چین ممکنہ طور پر کوئی بڑی سیاسی یا تزویراتی رعایت طلب کرسکتا ہے اور اس سلسلے میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کی ترجیحات میں سرفہرست ہوسکتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر واشنگٹن نے تائیوان کے معاملے پر نرم رویہ اختیار کیا تو اس سے چین کو جزیرے پر دباؤ بڑھانے یا طاقت کے استعمال کی حوصلہ افزائی مل سکتی ہے۔