امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دار الحکومت بیجنگ پہنچ روانہ ہوگئے جہاں وہ چینی صدر کے ساتھ اہم اور حساس سربراہی ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہورہی ہے جب امریکہ، چین تعلقات تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران جنگ جیسے پیچیدہ مسائل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ٹرمپ کے ہمراہ ایلون مسک، ٹم کک اور جینسن ہوانگ سمیت امریکی ٹیکنالوجی و کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات بھی موجود ہیں۔
ایلون مسک
ٹم کک اور
جینسن ہوانگ
بھی امریکی وفد
میں شامل ہیں
امریکہ نے یہ بحری محاصرہ ایران کی جانب سے فروری کے آخر میں آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد نافذ کیا تھا، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔
ٹرمپ نے شی جن پنگ کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جن کے ساتھ ہماری اچھی سمجھ بوجھ ہے، اور میرا خیال ہے کہ آپ بہت اچھی چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔
امریکی اور چینی صدور کے درمیان جمعرات اور جمعے کو بیجنگ میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے، جہاں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔
ملاقات کے دوران کئی حساس اور متنازع موضوعات زیر بحث آئیں گے، جن میں:
تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت
نایاب معدنیات کی چینی برآمدات پر پابندیاں
مصنوعی ذہانت میں عالمی مسابقت
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی کا مستقبل
ایران جنگ اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات
ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے پر بھی بات کریں گے، جسے امریکی پالیسی میں ایک غیرمعمولی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ واشنگٹن ماضی میں اس معاملے پر بیجنگ سے براہِ راست مشاورت سے گریز کرتا رہا ہے۔
چین مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تائیوان اس کا اٹوٹ حصہ ہے جبکہ امریکی فوجی حمایت کو وہ اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتا ہے۔
تعلقات میں بڑی تبدیلی
گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ اور چین کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
ایک سال قبل ٹرمپ نے چین پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے تاکہ امریکی معیشت کے سب سے بڑے حریف پر دباؤ ڈالا جاسکے۔
لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے اور ٹرمپ بیجنگ میں تجارتی معاہدوں، بوائنگ طیاروں، سویابین، گائے کے گوشت اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے چینی تعاون کے خواہاں ہیں۔
اسی دوران جنوبی کوریا میں امریکی اور چینی وفود کے درمیان اقتصادی اور تجارتی مذاکرات بھی شروع ہوگئے ہیں، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے بدلے چین ممکنہ طور پر کوئی بڑی سیاسی یا تزویراتی رعایت طلب کرسکتا ہے اور اس سلسلے میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کی ترجیحات میں سرفہرست ہوسکتا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر واشنگٹن نے تائیوان کے معاملے پر نرم رویہ اختیار کیا تو اس سے چین کو جزیرے پر دباؤ بڑھانے یا طاقت کے استعمال کی حوصلہ افزائی مل سکتی ہے۔