بحرینی میڈیا کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمہ نے خفیہ ایپلی کیشنز کے ذریعے بحرین کے حساس مقامات کی تصاویر اور جغرافیائی معلومات بیرونِ ملک عناصر کو ارسال کیں، جبکہ انہی مقامات کو نشانہ بنانے پر اکسانے والا مواد بھی نشر کیا۔
حکام نے اسے قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بحرین کی پبلک پراسیکیوشن نے فوری تحقیقات شروع کیں۔
سرکاری بیان کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بحرین کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا۔
بیان کے مطابق انہوں نے اہم تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشنز ایسی عبارتوں کے ساتھ پوسٹ کیں جن سے ان مقامات کو نشانہ بنانے کی ترغیب ملتی تھی۔
بحرینی خاتون ’بدور‘ نے پاسدارانِ انقلاب کو ملک کے راز کیسے دیئے؟
Overseas Post