اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

بحرینی خاتون ’بدور‘ نے پاسدارانِ انقلاب کو ملک کے راز کیسے دیئے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بحرین جاسوسی کیس
بحرینی خاتون کو جاسوسی کیس میں عمر قید کی سزا سنادی گئی

بحرینی خاتون بدور عبد الحمید کا معاملہ خلیجی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے، جب حالیہ برسوں کے نمایاں ترین جاسوسی مقدمات میں سے ایک میں انہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلقات کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق بحرینی تحقیقات میں کیس کا آغاز مشتبہ آن لائن سرگرمیوں اور ڈیجیٹل نقل و حرکت کی نگرانی سے ہوا، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا اور مبینہ طور پر ملزمہ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ عناصر کے ساتھ براہِ راست روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں

حکام کے مطابق ملزمہ آن لائن ایسے مواد کی تشہیر میں بھی ملوث تھیں جس میں بحرین کے اندر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے پر اکسانا اور اشتعال انگیز مواد پھیلانا شامل تھا۔

گزشتہ چند دنوں میں ’بدور‘ کا نام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، خاص طور پر اس انکشاف کے بعد کہ وہ ایکس پلیٹ فارم پر ’بحرانیہ‘ نامی اکاؤنٹ چلا رہی تھیں۔ 

تحقیقات کے مطابق یہ اکاؤنٹ ریاست مخالف مواد نشر کرنے اور ایسے اکاؤنٹس کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو بحرین کے خلاف اشتعال انگیز اور سخت بیانیہ پھیلا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے گزشتہ مارچ میں ملزمہ کے گھر پر ایک خصوصی سکیورٹی آپریشن کیا، جس دوران موبائل فونز، کمپیوٹرز اور الیکٹرانک اسٹوریج ڈیوائسز قبضے میں لی گئیں۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈیوائسز میں بیرونی عناصر کے ساتھ رابطوں سے متعلق ڈیجیٹل شواہد موجود تھے۔

ملزمہ پر حساس
مقامات کی تصاویر
اور لوکیشنز
بھیجنے کا
الزام ہے

بحرینی میڈیا کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمہ نے خفیہ ایپلی کیشنز کے ذریعے بحرین کے حساس مقامات کی تصاویر اور جغرافیائی معلومات بیرونِ ملک عناصر کو ارسال کیں، جبکہ انہی مقامات کو نشانہ بنانے پر اکسانے والا مواد بھی نشر کیا۔
حکام نے اسے قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بحرین کی پبلک پراسیکیوشن نے فوری تحقیقات شروع کیں۔
سرکاری بیان کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بحرین کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا۔
بیان کے مطابق انہوں نے اہم تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشنز ایسی عبارتوں کے ساتھ پوسٹ کیں جن سے ان مقامات کو نشانہ بنانے کی ترغیب ملتی تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے ان مقامات سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں جو حملوں کا شکار ہوئے تھے تاکہ ان کارروائیوں کی تشہیر اور حمایت کی جاسکے۔

بعد ازاں ملزمہ کے خلاف مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں بحرین کی فوجداری عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی اور ضبط شدہ سامان بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا۔