صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع بیان نے امریکہ میں سیاسی ہلچل مچا دی، جب انہوں نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کے دوران وہ امریکی عوام کی مالی مشکلات کے بارے میں ’بالکل بھی نہیں‘ سوچ رہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان کی واحد ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے جبکہ اس بیان پر ڈیموکریٹس اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئے سیاسی اور میڈیا طوفان کے مرکز بن گئے، جب انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران وہ امریکی عوام کی مالی صورتحال کے بارے میں بالکل بھی نہیں سوچ رہے، بلکہ ان کی واحد ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چین کے سفارتی دورے پر روانگی سے قبل ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آیا امریکی عوام کی مالی مشکلات ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش پر اثر انداز ہو رہی ہیں؟
President Trump said he doesn't think about Americans' financial situations as he negotiates with Iran, "not even a little bit," as he took questions from reporters before leaving for China.
— CBS News (@CBSNews) May 12, 2026
"The only thing that matters when I'm talking about Iran, they can't have a nuclear… pic.twitter.com/Yb2ErKl8t2
اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’بالکل بھی نہیں‘ اور مزید کہا کہ ایران کے معاملے میں صرف ایک چیز اہم ہے، اور وہ یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں امریکیوں کی مالی حالت کے بارے میں نہیں سوچتا، میں کسی کے بارے میں نہیں سوچتا، میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہوں: ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے، بس۔
Trump on Iran War:
— Acyn (@Acyn) May 12, 2026
Reporter: What extent are Americans’ financial situation motivating you to make a deal?
Trump: Not even a little bit. I don't think about Americans’ financial situation pic.twitter.com/TJ94pGpqD8
یہ بیان تنازع کم کرنے کے بجائے مزید بھڑکانے کا سبب بن گیا، خاص طور پر اس وقت جب ایک اور صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی جنگ کے اقتصادی اثرات کے بارے میں نہیں سوچتے؟
ٹرمپ نے دوبارہ اپنے مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہت بڑے فرق سے، سب سے اہم چیز ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ہی کیوں نہ آئے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ تاریخی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ ایک حساس معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوچکی ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد، جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیزل 5.64 ڈالر فی گیلن پر جا پہنچا ہے۔
اسی طرح اپریل میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی، جو تقریباً تین برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق توانائی کی قیمتوں نے ماہانہ افراطِ زر میں 40 فیصد سے زائد اضافہ کیا۔
Has it ever been clearer that Donald Trump doesn't care about you?
— Nancy Pelosi (@SpeakerPelosi) May 12, 2026
As he said, not even a little bit. https://t.co/HLkf4rCnrd
یاد رہے کہ اتوار کے روز ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی تازہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا، جبکہ پیر کو انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی ’وینٹی لیٹر پر‘ ہے، جس سے جنگ کے طویل ہونے اور امریکی معیشت پر مزید دباؤ کے خدشات بڑھ گئے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے ڈیموکریٹس، مقامی حکام اور سوشل میڈیا کارکنوں کو سخت تنقید کا موقع فراہم کردیا۔
مخالفین نے اسے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ ٹرمپ امریکی عوام کی روزمرہ مشکلات سے کٹ چکے ہیں، خاص طور پر ایندھن، خوراک اور ہیلتھ انشورنس کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں۔
نینسی پیلوسی نے ایکس پر لکھا کہ کیا اب اس سے زیادہ واضح ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عوام کی پرواہ نہیں؟ جیسا کہ انہوں نے خود کہا ’بالکل بھی نہیں‘۔
پیلوسی کا یہ مختصر مگر سخت ردعمل ٹرمپ کے اپنے الفاظ کو ان ہی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔
Donald Trump says doesn’t care about your rising costs and suffering.
— Rep. Jason Crow (@RepJasonCrow) May 12, 2026
“Not even a little bit.”
You deserve better from your elected leaders. https://t.co/WaFTtggNVP
جیسن کرو نے کہا کہ ٹرمپ کو نہ بڑھتی قیمتوں کی فکر ہے اور نہ امریکی عوام کی مشکلات کی۔
ان کے مطابق عوام اپنے منتخب رہنماؤں سے اس سے بہتر رویے کے مستحق ہیں۔
اسی طرح ایانا پریسلی نے کہا کہ پٹرول، انشورنس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں، اور ٹرمپ نے صرف وہی بات دہرائی ہے جو لوگ پہلے ہی جانتے تھے کہ وہ عوامی معاشی مسائل کی پرواہ نہیں کرتے۔
Gas at the pump is high.
— Congresswoman Ayanna Pressley (@RepPressley) May 13, 2026
Insurance premiums are high.
Groceries are the highest they've ever been.
And Donald Trump just confirmed what we've always known: He doesn't give a damn about lowering costs or the financial wellbeing of the American people.
He never did. https://t.co/gdAkLMm9Yt
دوسری جانب کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے ٹرمپ کا دفاع کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے لیے یہ کام آسان نہ تھا کیونکہ صدر نے اپنے بیان کی وضاحت کرنے کے بجائے دوبارہ اسی مؤقف کو دہرا دیا تھا۔
یوں ایک مختصر سا جملہ امریکی سیاست میں ایک بڑے سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہوگیا، جہاں ڈیموکریٹس نے اسے ٹرمپ کے ’عوام سے لاتعلق‘ ہونے کی علامت قرار دیا، جبکہ ریپبلکن اس کے سیاسی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے۔