اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

زبان پھسلی یا حقیقت بے نقاب ہوگئی؟ ٹرمپ کے بیان پر طوفان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکیوں کی مالی حالت کے بارے میں ’ذرا بھی‘ نہیں سوچ رہے (فوٹو: الجزیرہ)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع بیان نے امریکہ میں سیاسی ہلچل مچا دی، جب انہوں نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کے دوران وہ امریکی عوام کی مالی مشکلات کے بارے میں ’بالکل بھی نہیں‘ سوچ رہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان کی واحد ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے جبکہ اس بیان پر ڈیموکریٹس اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئے سیاسی اور میڈیا طوفان کے مرکز بن گئے، جب انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران وہ امریکی عوام کی مالی صورتحال کے بارے میں بالکل بھی نہیں سوچ رہے، بلکہ ان کی واحد ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چین کے سفارتی دورے پر روانگی سے قبل ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ 

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آیا امریکی عوام کی مالی مشکلات ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش پر اثر انداز ہو رہی ہیں؟

اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’بالکل بھی نہیں‘ اور مزید کہا کہ ایران کے معاملے میں صرف ایک چیز اہم ہے، اور وہ یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں امریکیوں کی مالی حالت کے بارے میں نہیں سوچتا، میں کسی کے بارے میں نہیں سوچتا، میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہوں: ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے، بس۔

یہ بیان تنازع کم کرنے کے بجائے مزید بھڑکانے کا سبب بن گیا، خاص طور پر اس وقت جب ایک اور صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی جنگ کے اقتصادی اثرات کے بارے میں نہیں سوچتے؟

ٹرمپ نے دوبارہ اپنے مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہت بڑے فرق سے، سب سے اہم چیز ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ہی کیوں نہ آئے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ تاریخی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ ایک حساس معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوچکی ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد، جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیزل 5.64 ڈالر فی گیلن پر جا پہنچا ہے۔

اسی طرح اپریل میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی، جو تقریباً تین برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ 

امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق توانائی کی قیمتوں نے ماہانہ افراطِ زر میں 40 فیصد سے زائد اضافہ کیا۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی تازہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا، جبکہ پیر کو انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی ’وینٹی لیٹر پر‘ ہے، جس سے جنگ کے طویل ہونے اور امریکی معیشت پر مزید دباؤ کے خدشات بڑھ گئے۔

ٹرمپ کے اس بیان نے ڈیموکریٹس، مقامی حکام اور سوشل میڈیا کارکنوں کو سخت تنقید کا موقع فراہم کردیا۔ 

مخالفین نے اسے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ ٹرمپ امریکی عوام کی روزمرہ مشکلات سے کٹ چکے ہیں، خاص طور پر ایندھن، خوراک اور ہیلتھ انشورنس کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں۔

نینسی پیلوسی نے ایکس پر لکھا کہ کیا اب اس سے زیادہ واضح ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عوام کی پرواہ نہیں؟ جیسا کہ انہوں نے خود کہا ’بالکل بھی نہیں‘۔

پیلوسی کا یہ مختصر مگر سخت ردعمل ٹرمپ کے اپنے الفاظ کو ان ہی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔

جیسن کرو نے کہا کہ ٹرمپ کو نہ بڑھتی قیمتوں کی فکر ہے اور نہ امریکی عوام کی مشکلات کی۔ 

ان کے مطابق عوام اپنے منتخب رہنماؤں سے اس سے بہتر رویے کے مستحق ہیں۔

اسی طرح ایانا پریسلی نے کہا کہ پٹرول، انشورنس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں، اور ٹرمپ نے صرف وہی بات دہرائی ہے جو لوگ پہلے ہی جانتے تھے کہ وہ عوامی معاشی مسائل کی پرواہ نہیں کرتے۔

دوسری جانب کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے ٹرمپ کا دفاع کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے لیے یہ کام آسان نہ تھا کیونکہ صدر نے اپنے بیان کی وضاحت کرنے کے بجائے دوبارہ اسی مؤقف کو دہرا دیا تھا۔

یوں ایک مختصر سا جملہ امریکی سیاست میں ایک بڑے سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہوگیا، جہاں ڈیموکریٹس نے اسے ٹرمپ کے ’عوام سے لاتعلق‘ ہونے کی علامت قرار دیا، جبکہ ریپبلکن اس کے سیاسی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے۔