اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

عالمی مارکیٹ: ڈالر مضبوط، گولڈ مستحکم اور تیل دباؤ میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی مہنگائی
امریکی ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم ہوگیا

امریکی ڈالر آج ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا کیونکہ امریکہ میں مہنگائی کے توقعات سے زیادہ آنے والے اعداد و شمار نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی بے چینی پیدا کر دی۔ 

بلند افراطِ زر کے باعث سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو مستقبل قریب میں شرح سود میں کمی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ڈالر کو سہارا ملا۔

مزید پڑھیں

ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں یورو 1.1735 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3532 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، اور دونوں کرنسیاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 0.05 فیصد نیچے رہیں۔ دوسری جانب ڈالر انڈیکس، جو دنیا کی 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، 98.335 پوائنٹس پر برقرار رہا، جو گزشتہ ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب شمار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی معیشت میں مہنگائی کی مسلسل مضبوطی اس بات کا اشارہ ہے کہ فیڈرل ریزرو جلد شرح سود کم کرنے کے موڈ میں نہیں، جس سے عالمی سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

single oil barrel on white background 2026 03 09 04 28 13 utc
برینٹ خام تیل 106 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا

دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.72365 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5954 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہے، جبکہ جاپانی ین 157.715 ین فی ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ 

ادھر چینی یوآن تقریباً 6.79 فی ڈالر پر برقرار رہا، جو فروری 2023 کے بعد اس کی مضبوط ترین سطح کے قریب تصور کیا جا رہا ہے۔

 

مہنگائی کے
بلند اعداد
و شمار نے فیڈرل
ریزرو پر
دباؤ بڑھا دیا

کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان متوقع اعلیٰ سطحی مذاکرات، عالمی تجارتی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں ایشیائی تجارت کے آغاز میں تقریباً مستحکم رہیں، کیونکہ سرمایہ کار بیجنگ میں ہونے والی اہم امریکہ، چین سربراہی ملاقات کے نتائج اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
اسپاٹ گولڈ 4713.39 ڈالر فی اونس پر تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہا، جبکہ جون ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4721.80 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سیاسی کشیدگی، جنگی خدشات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔

چاندی کی قیمت میں ایک فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87.40 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم 0.1 فیصد کمی کے بعد 2124.70 ڈالر پر آگیا۔ 

دوسری جانب پیلیڈیم 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 1497 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔

gold bars concept 2026 01 08 21 53 24 utc
سونے کی قیمتیں عالمی کشیدگی کے باعث مستحکم رہیں

ادھر عالمی توانائی مارکیٹ میں مسلسل 3 سیشنز تک اضافے کے بعد آج تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ 

سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سپلائی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر 82 سینٹ یا 0.76 فیصد کمی کے بعد 106.95 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 66 سینٹ یا 0.65 فیصد کمی کے ساتھ 101.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔ 

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت سامنے آئی تو عالمی منڈیوں میں دباؤ کم ہوسکتا ہے۔