اہم خبریں
12 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کے اعلانات سے قبل تیل قیمتوں پر اربوں ڈالر کی مشکوک سٹے بازی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی مارکیٹ میں مشکوک تجارتی سودوں کی عکاسی
مشتبہ سودوں کے ذریعے مارکیٹ میں قیمتیں گرنے پر بھاری منافع کمایا گیا (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اہم پالیسی اعلانات سے چند منٹ قبل خام تیل کی قیمتوں پر 7 ارب ڈالر کے مشکوک سودوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان مشتبہ سودوں کے ذریعے مارکیٹ میں قیمتیں گرنے پر بھاری منافع کمایا گیا۔

مارکیٹ ڈیٹا تجزیے سے پتا چلا کہ مارچ اور اپریل میں خام تیل، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی پر بڑے پیمانے پر شرطیں لگائی گئیں۔ 

یہ تمام کارروائیاں انٹرا کانٹینینٹل ایکسچینج اور شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں مشکوک وقت پر انجام دی گئی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق 23 مارچ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے مؤخر کرنے کے اعلان سے چند منٹ پہلے قیمتیں گرنے پر سٹہ کھیلا گیا تھا۔

اس کے بعد اپریل کے مہینے میں بھی یہی مشکوک رجحان بار بار دیکھا گیا۔

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی مارکیٹ میں مشکوک تجارتی سودوں کی عکاسی
مارچ اور اپریل کے دوران خام تیل، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی پر بڑے پیمانے پر شرطیں لگائی گئیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

7 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان سے برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی ہوئی، جبکہ 17 اور 21 اپریل کو آبنائے ہرمز اور جنگ بندی میں توسیع کے بیانات سے پہلے بھی اسی نوعیت کے بڑے اور مشکوک سودے کیے گئے تھے۔

ابتدائی تخمینوں کے مطابق صرف ان چار دنوں میں کی جانے والی سٹے بازی کی مالیت 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تھی، جبکہ پورے دورانیے میں مجموعی طور پر 7ارب ڈالر کے سودے ریکارڈ کیے گئے ہیں جن سے سرمایہ کاروں نے بڑا فائدہ اٹھایا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن ان غیر معمولی حرکات کا جائزہ لے رہا ہے۔ 

اس کے علاوہ شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج بھی بعض مخصوص سودوں کی جانچ کر رہی ہے، تاہم ابھی تک ان سودوں میں ملوث کسی بھی ادارے کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

دریں اثنا امریکی محکمہ انصاف نے بھی تیل کی مارکیٹ میں مشکوک وقت پر ہونے والے ان سودوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی مارکیٹ میں مشکوک تجارتی سودوں کی عکاسی
امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن ان غیر معمولی حرکات کا جائزہ لے رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ان سودوں میں ایسی حساس معلومات استعمال کی گئیں جو اس وقت تک عام نہیں ہوئی تھیں۔

یہ تحقیقات ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی محکمہ انصاف نے ایک فوجی اہلکار گینن کین وین ڈائک پر وینزویلا کے صدر کی گرفتاری سے متعلق خفیہ معلومات استعمال کر کے غیر قانونی منافع کمانے کا باقاعدہ الزام عائد کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تمام تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور فی الحال کسی مجرمانہ طرز عمل کے حتمی ثبوت نہیں ملے۔ 

تفتیش کار ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے دوران دیگر تجارتی پلیٹ فارمز پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔