اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کی ایران کے خلاف نئی دھمکی: ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پروجیکٹ فریڈم پلس اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی بحری افواج کے تناؤ کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ نامی ایک نیا اور وسیع تر عسکری منصوبہ پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ منصوبہ امریکہ کی سابقہ حکمت عملی کا جدید ورژن ہے جس کا مقصد تجارتی جہازوں کی حفاظت ہے۔ اس نئے منصوبے کا بنیادی فرق دفاعی پالیسی سے ہٹ کر پیشگی حملوں کی پالیسی اپنانا ہے۔ 

امریکی عسکری حکام کے مطابق اب صرف حملوں کا جواب نہیں دیا جائے گا بلکہ ایرانی خطرات کو ان کے آغاز سے پہلے ہی کسی بھی مقام پر مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق فریڈم پلس کے تحت تحفظ کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے خلیج عرب اور بحیرہ عرب کے دُور دراز علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا۔

پروجیکٹ فریڈم پلس اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی بحری افواج کے تناؤ کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس پروجیکٹ کا مقصد ایرانی پلیٹ فارمز کو کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل ہی مؤثر طریقے سے نشانہ بنانا ہے۔

کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہے اور رواں ماہ 7 اور 8  مئی کو کوئی جہاز نہیں گزرا، جبکہ 9 مئی کو صرف 2 جہازوں نے اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کرنے کی ہمت کی تھی۔

ان میں سے ایک بحری جہاز برازیل سے ایران کی امام خمینی بندرگاہ کی جانب روانہ ہوا تھا جبکہ دوسرا جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر پاکستان کی طرف چلا گیا۔ 

پروجیکٹ فریڈم پلس اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی بحری افواج کے تناؤ کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ صورتحال خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے شدید متاثر ہونے کی واضح عکاسی کر رہی ہے۔

امریکی اندازوں کے مطابق اس وقت خلیجی پانیوں میں 1500 سے 2000 کے قریب بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ اب تک 58 جہازوں کے راستے تبدیل کر چکی ہے جبکہ ناکابندی کے آغاز سے اب تک 4 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

اس عسکری تناؤ میں امریکی بحریہ نے بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہاز، جدید میزائل دفاعی نظام سے لیس تباہ کن بحری بیڑے اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں۔ 

پروجیکٹ فریڈم پلس اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی بحری افواج کے تناؤ کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ تمام اثاثے ایران کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جدید آبدوزوں، تیز رفتار کشتیوں اور خودکش ڈرونز کی موجودگی بڑھا دی ہے۔ 

تہران کا مقصد کھلے تصادم کے بجائے امریکی افواج پر دباؤ برقرار رکھنا اور اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع اب سمندری تہہ میں موجود انٹرنیٹ کیبلز پر ٹیکس لگانے یا انہیں نشانہ بنانے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ 

یہ فائبر آپٹک کیبلز خطے کے 97 فیصد مواصلاتی نظام اور عالمی انٹرنیٹ کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔

پروجیکٹ فریڈم پلس اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی بحری افواج کے تناؤ کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرین کے مطابق ان کیبلز سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان 30 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک گزرتی ہے، لہٰذا اس ڈیجیٹل ڈھانچے کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان تیل کی سپلائی روکنے سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے 3 براعظم براہ راست متاثر ہوں گے۔

اُدھر صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ مذاکرات ان کی خواہش کے مطابق کامیاب نہ ہوئے تو فریڈم پلس منصوبہ فوری نافذ کر دیا جائے گا۔ 

ماہرین اس پروجیکٹ کو  بحری گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا بڑا استعمال قرار دے رہے ہیں۔