خوراک اور زراعت کی تنظیم FAO نے خبردار کیا ہے کہ ہرمز کی مسلسل بندش عالمی غذائی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق کھاد، گیس اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے زرعی پیداوار کم، خوراک مہنگی اور دنیا بھر میں بھوک و افراطِ زر میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر بحران فوری حل نہ ہوا تو دنیا ایک بڑے انسانی المیے کی طرف جاسکتی ہے۔
توريرو کے مطابق اس بحران سے توانائی، کھاد اور سلفر کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے باعث کسان زرعی اجزاء کے استعمال میں کمی کریں گے، اور اس کا منفی اثر زرعی پیداوار اور فصلوں پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے سبب بیجوں کی پیداوار، سپلائی چین اور لاجسٹک خدمات بھی متاثر ہوں گی، جس کے نتیجے میں خوراک کی دستیابی کم اور بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں اور عالمی غذائی مہنگائی بڑھ جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افراطِ زر میں مجموعی طور پر اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی، کیونکہ خاص طور پر اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے رکن ممالک کو غذائی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانا پڑ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ٹاسک فورس سربراہ نے بھی پیر کے روز خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کھاد کی ترسیل پر مسلسل پابندیاں چند ہفتوں میں ’بڑے انسانی بحران‘ کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا یہ صرف وقت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے بحران کی بنیادی وجہ کو فوری طور پر حل نہ کیا تو پھر ہمیں انسانی امداد کے ذریعے اس کے نتائج سے نمٹنا پڑے گا۔
قوام متحدہ کے اس عہدیدار نے کہا کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 7 دن کے اندر اس نظام کو فعال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول بھی دی جائے تب بھی حالات معمول پر آنے میں 3 سے 4 ماہ لگیں گے۔
اگرچہ خوراک کی قیمتوں میں ابھی تک بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا تاہم موريرا دا سلوا نے کھاد کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی نشاندہی کی، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے زرعی پیداوار کم ہوگی اور بعد ازاں خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا۔