اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

ایف اے او کا خوفناک انتباہ: دنیا بڑے غذائی بحران اور قحط کے دہانے پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی غذائی بحران
آبنائے ہرمز بحران: ایف اے او نے دنیا کو قحط اور بھوک کے طوفان سے خبردار کر دیا

خوراک اور زراعت کی تنظیم FAO نے خبردار کیا ہے کہ ہرمز کی مسلسل بندش عالمی غذائی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق کھاد، گیس اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے زرعی پیداوار کم، خوراک مہنگی اور دنیا بھر میں بھوک و افراطِ زر میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر بحران فوری حل نہ ہوا تو دنیا ایک بڑے انسانی المیے کی طرف جاسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی خوراک اور زراعت کی تنظیم FAO نے آج پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو عالمی غذائی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے چند ہفتوں میں ’بڑے انسانی بحران‘ کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔

امریکا 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کئے ہوئے ہے، جس کے جواب میں ایران نے عالمی توانائی سپلائی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے چیف اکنامسٹ ماكسيمو توريرو نے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش ’عالمی غذائی سلامتی‘ پر بہت بڑا اثر ڈالے گی۔

ChatGPT Image 11 مايو 2026، 08 55 23 م

مزید پڑھیں

انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا کی تقریباً 35 فیصد خام تیل برآمدات اس آبنائے سے گزرتی ہیں، جبکہ نائٹروجن کھاد بنانے میں استعمال ہونے والی 20 فیصد قدرتی گیس بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔

توريرو نے مزید کہا کہ تیار شدہ کھاد کا 20 سے 30 فیصد حصہ بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جبکہ تقریباً 50 فیصد سلفر بھی اسی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اشیاء زرعی شعبے کے بنیادی اجزا ہیں، اور خبردار کیا کہ ان کی قیمتوں میں اضافہ آئندہ زرعی سیزن میں پیداوار کی لاگت بڑھا دے گا، جس کے اثرات 2026 کے دوسرے نصف اور 2027 میں خوراک کی قیمتوں پر پڑیں گے۔

a man farmer is harvesting vegetables in the garde 2026 03 17 04 18 16 utc
کھاد سازی میں استعمال ہونے والی 20 فیصد گیس آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے

انہوں نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک دنیا میں خوراک درآمد کرنے والے بڑے خطوں میں شامل ہیں، جہاں 55 سے 80 فیصد تک غذائی ضروریات درآمدات پر منحصر ہیں، اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی بے چینی ان ممالک کو خوراک برآمد کرنے والے ممالک کو بھی متاثر کرے گی۔

دنیا کی 20 سے
30 فیصد تیار کھاد
اور 50 فیصد
سلفر اسی راستے
سے منتقل ہوتا ہے

توريرو کے مطابق اس بحران سے توانائی، کھاد اور سلفر کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے باعث کسان زرعی اجزاء کے استعمال میں کمی کریں گے، اور اس کا منفی اثر زرعی پیداوار اور فصلوں پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے سبب بیجوں کی پیداوار، سپلائی چین اور لاجسٹک خدمات بھی متاثر ہوں گی، جس کے نتیجے میں خوراک کی دستیابی کم اور بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں اور عالمی غذائی مہنگائی بڑھ جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افراطِ زر میں مجموعی طور پر اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی، کیونکہ خاص طور پر اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے رکن ممالک کو غذائی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانا پڑ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ٹاسک فورس سربراہ نے بھی پیر کے روز خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کھاد کی ترسیل پر مسلسل پابندیاں چند ہفتوں میں ’بڑے انسانی بحران‘ کا سبب بن سکتی ہیں۔

کھاد کی محفوظ ترسیل کے ذمہ دار ٹاسک فورس کے سربراہ کورکھی موريرا دا سيلفا نے AFP

 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس صرف چند ہفتے باقی ہیں تاکہ ایک ممکنہ بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو ایسے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے جو مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو بھوک اور قحط کے خطرے میں دھکیل دے گا۔

hands sharing food giving help poverty famine 2026 03 30 17 35 51 utc
چند ہفتوں میں 4 کروڑ 50 لاکھ افراد قحط کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں

مارچ میں انٹونيو گوٹريچ نے موريرا دا سلوا کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی تھی تاکہ کھاد اور اس سے متعلق خام مال جیسے امونیا، سلفر اور یوریا کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ طریقہ کار بنایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے اس عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ اس منصوبے کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے، تاہم امریکا، ایران اور خلیجی ممالک سمیت تنازع میں شامل فریق اب تک مکمل طور پر قائل نہیں ہوئے۔

موريرا دا سلوا نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ زرعی موسم کسی کا انتظار نہیں کرتا اور وضاحت کی کہ افریقی ممالک میں بعض زرعی سرگرمیوں کی مقررہ مدت چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر روزانہ کھاد اور متعلقہ خام مال لے جانے والے پانچ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی جائے تو کسانوں کے لیے بحران کو روکا جا سکتا ہے۔

توانائی اور
کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی پیداوار اور فصلیں متاثر ہوں گی

انہوں نے مزید کہا یہ صرف وقت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے بحران کی بنیادی وجہ کو فوری طور پر حل نہ کیا تو پھر ہمیں انسانی امداد کے ذریعے اس کے نتائج سے نمٹنا پڑے گا۔
قوام متحدہ کے اس عہدیدار نے کہا کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 7 دن کے اندر اس نظام کو فعال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول بھی دی جائے تب بھی حالات معمول پر آنے میں 3 سے 4 ماہ لگیں گے۔
اگرچہ خوراک کی قیمتوں میں ابھی تک بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا تاہم موريرا دا سلوا نے کھاد کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی نشاندہی کی، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے زرعی پیداوار کم ہوگی اور بعد ازاں خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم فوری اور ممکن اقدامات میں تاخیر نہیں کر سکتے، یعنی آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی ترسیل بحال کی جائے تاکہ عالمی غذائی سلامتی کے شدید بحران کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

bright assortment of fruits and vegetables on grou 2026 01 07 07 15 48 utc
افریقی ممالک میں زرعی سیزن متاثر ہونے کا خدشہ، کھاد کی ترسیل رک رہی ہے

28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند کر دی، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد برآمدات گزرتی ہیں۔ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی برآمدات زیادہ تر برازیل، چین، بھارت اور افریقی ممالک کی طرف جاتی ہیں۔

بشکریہ: الجزیرہ