اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

جنگ کے اثرات: افریقہ مہنگائی اور توانائی بحران کی زد میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنگ افریقی ممالک کے لیے سنگین اقتصادی خطرہ بن چکی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

افریقی یونین، افریقی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں نے ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ افریقی ممالک کے لیے سنگین اقتصادی خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث براعظم میں مہنگائی، خوراک کی کمی اور معاشی دباؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، افریقہ کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں سے افریقہ اپنی درآمدات کا 15.8 فیصد اور برآمدات کا 10.9 فیصد حاصل کرتا ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر افریقی معیشتوں پر پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی (UNDP) اور اقوام متحدہ کی اقتصادی کمیشن برائے افریقہ نے کہا ہے کہ اگر یہ جنگ 6 ماہ سے زیادہ جاری

 رہی تو 2026 میں افریقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں 0.2 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

46544646
کھاد کی پیداوار متاثر ہونے سے زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

رپورٹ میں سب سے بڑا خطرہ مہنگائی کا بحران قرار دیا گیا ہے، کیونکہ تیل، گیس اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سپلائی چین میں رکاوٹیں عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ آئل کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اور گیس کی قیمت میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

اس صورتحال نے بجلی، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کو بھی بڑھا دیا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور بڑا بحران خوراک اور کھاد کا ہے۔ 

عالمی کھاد کی تجارت کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتا ہے لیکن جنگ اور گیس سپلائی میں رکاوٹ کے باعث کھاد کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس سے زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑا ہے، خصوصاً گندم اور مکئی جیسی فصلوں پر۔

مزید یہ کہ کئی افریقی ممالک میں مقامی کرنسیوں کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہو گئی ہیں، جس سے قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے اور بعض ممالک کے لیے مالی ادائیگیاں مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔

46545654
کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر افریقی معیشتوں پر پڑتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسانی امداد کی ترسیل بھی مہنگی اور مشکل ہو گئی ہے، جس سے صومالیہ اور سوڈان جیسے ممالک میں انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق کچھ افریقی ممالک، خصوصاً تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک جیسے نائیجیریا اور موزمبیق، مختصر مدت میں عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر خطہ شدید معاشی دباؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔