سام سنگ کے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 الٹرا نے اسکرین ریفلیکشن کے سخت ترین لیبارٹری ٹیسٹوں میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔
مزید پڑھیں
نئی پرائیویسی ڈسپلے ٹیکنالوجی شامل ہونے کے باوجود یہ ڈیوائس مارکیٹ میں موجود دیگر تمام حریف اسمارٹ فونز کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہی ہے۔
اسکرین ریفلیکشن کے نتائج کا موازنہ
فون ایرینا کی رپورٹ کے مطابق لیبارٹری میں کیے گئے ٹیسٹوں میں گلیکسی ایس 26 الٹرا کی ریفلیکشن شرح 3.9 فیصد رہی۔
اس کے مقابلے میں گلیکسی ایس 25 الٹرا کی شرح 3.1 فیصد، آئی فون 17 پرو میکس کی 4.6 فیصد، گوگل پکسل 10 پرو ایکس ایل کی 7.1 فیصد اور گلیکسی ایس 26 کی 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
گوریلا آرمر کی انوکھی ٹیکنالوجی
سام سنگ نے کارننگ کے اشتراک سے تیار کردہ ’گوریلا آرمر‘ شیشے کا استعمال کیا ہے۔
یہ عام اسکرین کوٹنگز سے مختلف ہے، کیونکہ اس کی اینٹی ریفلیکٹو خصوصیات سطح کے بجائے شیشے کی اندرونی ساخت میں موجود ہیں۔ ان کی باریک تہیں روشنی بکھیر کر انعکاس کو مؤثر طریقے سے کم کرتی ہیں۔
صارفین کے لیے حقیقی تجربہ
عملی استعمال میں گلیکسی ایس 26 الٹرا اور ایس 25 الٹرا کے درمیان فرق نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسکرین آن ہونے پر صارف کو کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی، تاہم اسکرین آف ہونے کی صورت میں ایس 26 الٹرا پر معمولی سا زیادہ ریفلیکشن نظر آتا ہے، لیکن حریف برانڈز کے مقابلے میں یہ اب بھی بہترین ہے۔
صرف دھوپ ہی نہیں، ہر جگہ واضح نظارہ
اینٹی ریفلیکشن ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف براہِ راست دھوپ میں نہیں، بلکہ گھر کے اندر بھی ملتا ہے۔
اس سے تصاویر کے رنگ زیادہ جاندار اور کنٹراسٹ بہتر ہو جاتا ہے۔ سام سنگ کی ڈائنامک امولیڈ 2 ایکس اسکرین کے ساتھ مل کر یہ ٹیکنالوجی بصری تجربے کو غیر معمولی حد تک نکھار دیتی ہے۔
ہارڈ ویئر میں مسلسل جدت پسندی
موجودہ دور میں کمپنیاں سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، تاہم سام سنگ کا ہارڈ ویئر کی بہتری پر زور اسے منفرد بناتا ہے۔
اسی طرح نیا پرائیویسی ڈسپلے فیچر کی شمولیت ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اسکرین ٹیکنالوجی میں مزید اختراعات لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔