انڈیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے عالمی سطح پر توقعات بلند ہیں، تاہم تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معاشی ترجیحات نے نئی دہلی کے لیے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ انڈیا نے انفرااسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ میں پیش رفت کی ہے، مگر اب عالمی سرمایہ کار صرف کم لاگت پر نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی، جدت اور بہتر پالیسیوں پر توجہ دے رہے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاری کے بدلتے تقاضے
انٹرنیشنل کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (UNCTAD) اور میکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹس کے مطابق عالمی سرمایہ کاری کا رجحان
اب ایسی معیشتوں کی طرف ہے جو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر سے لیس ہوں۔
بلومبرگ کا تجزیہ بتاتا ہے کہ صرف چائنا سے سپلائی چین کی منتقلی انڈیا کے لیے خود بخود فائدہ نہیں ہے۔
انفرااسٹرکچر اور تکنیکی چیلنجز
انڈیا کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مون سون کے دوران بار بار آنے والے سیلاب ثابت کرتے ہیں کہ انفرااسٹرکچر کا معیار اور منصوبوں کی بروقت تکمیل اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
سرمایہ کاروں کو صرف سڑکیں اور بندرگاہیں کافی نہیں لگتیں، انہیں خصوصی مہارت، مسابقتی فنانسنگ اور تحقیق و ترقی (R&D) کی ضرورت ہے۔
پیداواری سرمایہ کاری کا موازنہ
میکنزی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق انڈیا دنیا کی ٹاپ 4 بڑی معیشتوں میں شامل ہے جہاں سرمایہ کاری کا حجم بہت زیادہ ہے۔
قوت خرید (PPP) کے لحاظ سے انڈیا میں سالانہ سرمایہ کاری 2.6 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں 1.1 ٹریلین اور یورپی یونین میں 700 ارب ڈالر ہے۔
تاہم چین اس دوڑ میں 8.8 ٹریلین ڈالر کے ساتھ اب بھی سب سے آگے ہے۔
سرمایہ کاری کا رُخ اور شعبہ جاتی تبدیلی
انڈیا کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی سرمایہ کاری کو رئیل اسٹیٹ اور روایتی مینوفیکچرنگ سے نکال کر ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور جدید صنعتوں کی طرف موڑ سکتا ہے؟
گوگل کا 14.5 ارب ڈالر کا ڈیٹا سینٹر اور ہائیجینکو گرین انرجی کا 4 ارب ڈالر کا ہائیڈروجن منصوبہ اسی سمت میں اہم پیش رفت ہیں۔
بین الاقوامی مسابقت کا دباؤ
انڈیا 2025 میں 39 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری (FDI) کے ساتھ عالمی سطح پر 11 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 27 ارب ڈالر کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ہے۔
اس کے باوجود متحدہ عرب امارات (48 ارب ڈالر) اور میکسیکو (41 ارب ڈالر) جیسے ممالک انڈیا سے آگے نکل گئے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ عالمی مقابلہ انتہائی سخت ہے۔
لاگت اور مالیاتی رکاوٹیں
اگرچہ انڈیا اسٹیل کی پیداوار اور سولر انرجی میں لاگت کے لحاظ سے مسابقتی ہے، مگر بلند شرح سود سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہے۔
سیمی کنڈکٹر جیسی صنعتوں میں، جہاں آلات کی قیمتیں عالمی سطح پر یکساں ہیں، وہاں انڈیا میں تعمیراتی تاخیر اور مہنگا قرض منافع کے مارجن کو کم کر دیتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
مسابقت کی کمی
انڈیا میں زمین کے حصول کے تنازعات اور ریاستی سطح پر مسابقت کی کمی بڑی رکاوٹیں ہیں۔
چین نے اپنے انفرااسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ سرکاری فنڈنگ سے تیار کیا، جبکہ انڈیا میں ٹاٹا اور ریلائنس جیسے بڑے گروپس کو خود بنیادی ڈھانچہ بنانا پڑتا ہے۔
یہ ماڈل بڑے گروپس کے لیے تو ٹھیک ہے، مگر چھوٹی کمپنیوں کے لیے ترقی کے راستے مسدود کر دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کی معاشی کامیابی کا انحصار اب محض سستے مزدوروں یا بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات پر ہے۔
اگر انڈیا اپنے مالیاتی نظام کو سہل اور سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف نہیں بناتا تو وہ عالمی سرمایہ کاروں کی بدلتی ہوئی ترجیحات (یعنی ٹیکنالوجی اور جدت) میں پیچھے رہ سکتا ہے۔