براہ راست نشریات

سیلاب بیوی کو لے گیا.. اب بیٹی کی شناخت بھی نہ بہہ جائے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Nepal floods

نیپال کے سیلاب نے تسیرنگ گیلبو لاما سے اس کی اہلیہ اور گھر چھین لیا۔
اب اپنی 4 سالہ بیٹی کے ساتھ عارضی پناہ گاہ میں رہنے والے باپ کو ایک اور خوف ستا رہا ہے—اگر ان کا پورا معاشرہ بکھر گیا تو کیا اس کی بیٹی اپنی ثقافت اور شناخت بھی کھو دے گی؟

کٹھمنڈو کے ایک بدھ خانقاہ کے فرش پر بیٹھے تسیرنگ گیلبو لاما اپنی 4 سالہ بیٹی کو چاول کھلا رہے ہیں۔ 

بچی شاید ابھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہے۔

اس کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب میں لاما کی اہلیہ پانی کے بے رحم ریلے میں بہہ گئی، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود وہ اپنی 4 سالہ بیٹی کو یہ بتانے کی ہمت نہیں کر سکے کہ اس کی ماں واپس نہیں آئے گی۔

آنسو پونچھتے ہوئے لاما کو صرف اپنی اہلیہ کے جانے کا غم نہیں۔ 

انہیں ایک اور خوف اندر سے کھائے جا رہا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTنیپال سیلاب — اہم نکات
  • نیپال۔تبت سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب نے ہزاروں افراد کو بے گھر کیا اور ہمالیائی ضلع راسووا کی کئی بستیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
  • تسیرنگ گیلبو لاما نے سیلاب میں اپنی اہلیہ کھو دی؛ وہ اپنی چار سالہ بیٹی کے ساتھ کٹھمنڈو کی ایک بدھ خانقاہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
  • متاثرین کا کہنا ہے کہ نقصان صرف گھروں اور سامان کا نہیں، بلکہ زبان، رسومات، تہوار اور ثقافتی تسلسل بھی خطرے میں ہے۔
  • کئی خاندان اپنی آبائی اشیا، خانقاہوں اور ان مقامات سے محروم ہوگئے جہاں نسل در نسل ثقافت منتقل ہوتی تھی۔
  • بچوں اور نوجوانوں کی مسلسل نقل مکانی نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ مقامی روایات اگلی نسل تک مکمل طور پر نہ پہنچ سکیں۔
overseaspost.net

وہ سوچتے ہیں کہ جس ثقافت، روایات اور طرز زندگی میں وہ خود بڑے ہوئے، اب اسے اپنی بیٹی تک کیسے پہنچائیں گے۔

لاما اور ان کی بیٹی اس وقت کٹھمنڈو کی ایک بدھ خانقاہ میں رہ رہے ہیں جسے سیلاب کے بعد عارضی پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ 

یہاں دور دراز پہاڑی علاقوں سے نکالے گئے سیکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں

گھر ہی نہیں، پوری دنیا بہہ گئی

سیلاب متاثرین کے لیے یہ تباہی صرف مکانات، زمین یا مال و اسباب کے نقصان کا نام نہیں۔

ہمالیہ کے دشوار گزار علاقوں میں بسنے والی بہت سی برادریوں کا طرز زندگی ان کی زمین، خانقاہوں، پہاڑوں، جنگلات اور آبائی بستیوں سے گہری طرح جڑا ہوا تھا۔

راسووا کے رہائشی 36 سالہ تسیرنگ شیرپا کہتے ہیں کہ وہ صرف اپنی زمین کھونے کی وجہ سے بے گھر نہیں ہوئے بلکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی ثقافت اور روایت کے اعتبار سے بھی بے گھر ہو گئے ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXنیپال سیلاب: فیکٹ باکس
مرکزی علاقہراسووا، شمالی نیپال
جغرافیہنیپال۔تبت سرحد کا ہمالیائی خطہ
اہم انسانی کہانیتسیرنگ گیلبو لاما اور ان کی چار سالہ بیٹی
ثقافتی شناختبدھ اور مقامی تمانگ روایات
بڑا خطرہنقل مکانی کے ساتھ زبان، تہوار اور روایات کا کمزور ہونا
بچوں کی صورتحالہزاروں بچوں کو انسانی امداد درکار ہونے کا اندازہ
overseaspost.net

نیپال میں 120 سے زیادہ نسلی گروہ آباد ہیں اور ان میں سے بہت سے اپنی الگ زبانوں، مذہبی رسومات، تہواروں اور ثقافتی روایات کو نسل در نسل محفوظ رکھتے آئے ہیں۔

تبت کی سرحد سے متصل ہمالیائی ضلع راسووا اپنی مخصوص بدھ ثقافت اور مقامی برادریوں کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 

یہاں کا معروف تامانگ ہیریٹیج ٹریل بھی دنیا بھر کے ان سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے جو تبتی بدھ ثقافت کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

تصویروں میں باقی رہ جانے والی زندگی

کٹھمنڈو کی عارضی پناہ گاہ میں موجود متاثرین اپنے موبائل فونز میں سیلاب سے پہلے کی زندگی کی تصاویر اور ویڈیوز دکھاتے ہیں۔

کسی تصویر میں سرسبز پہاڑ ہیں، کسی میں گھنے جنگلات، کسی میں دریا کے کنارے آباد چھوٹی بستیاں۔

OVERSEAS POST | HUMAN STORYایک باپ کا سب سے مشکل سوال

سیلاب تسیرنگ گیلبو لاما کی اہلیہ کو بہا لے گیا۔ اب وہ اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ عارضی پناہ گاہ میں ہیں، مگر ان کا دکھ صرف شریکِ حیات کے نقصان تک محدود نہیں۔

ماں کا نقصانچار سالہ بچی ابھی تک اپنی ماں کی موت کی حقیقت سے پوری طرح واقف نہیں۔
گھر سے دوریباپ اور بیٹی اپنی آبائی بستی سے دور کٹھمنڈو کی خانقاہ میں رہ رہے ہیں۔
شناخت کا خوفوالد کو فکر ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو آبائی ثقافت اور روایات کس طرح منتقل کریں گے۔

اصل سوال: جب گھر، گاؤں، خانقاہ اور برادری بکھر جائیں تو نئی نسل اپنی شناخت کہاں اور کس سے سیکھے گی؟

overseaspost.net

کہیں خواتین جونیپر کی لکڑی اور پودوں سے روایتی بخور تیار کر رہی ہیں، کہیں لوگ زیر تعمیر خانقاہ کے لیے سجاوٹ بنا رہے ہیں اور کہیں مرد و خواتین رنگ برنگے روایتی لباس پہن کر مقامی تہواروں میں رقص کر رہے ہیں۔

20 سالہ تنزین ڈولما گھالے کے لیے یہ تصاویر اب ایک گزرے ہوئے زمانے کی یاد بن چکی ہیں۔

ان کے مطابق جو کچھ کبھی ان کی روزمرہ زندگی تھا، اب تقریباً سب ختم ہو چکا ہے۔

سیلاب اتنی تیزی سے آیا کہ بہت سے لوگوں کو گھر سے کوئی سامان نکالنے کا موقع نہیں ملا۔ لوگ پہاڑیوں کی طرف بھاگے اور جان بچانے کے لیے اونچی جگہوں یا خانقاہوں میں پناہ لی۔

OVERSEAS POST | TIMELINE2015 سے 2026 تک — تباہی اور بحالی
2015نیپال کے تباہ کن زلزلے نے ہمالیائی علاقوں کی پرانی خانقاہوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
بعد کے برسمقامی لوگوں نے خانقاہوں اور مذہبی مقامات کو دوبارہ تعمیر کیا اور ثقافتی زندگی بحال کرنے کی کوشش کی۔
26 اگست 2026شمالی نیپال میں تباہ کن فلیش فلڈ نے راسووا سمیت کئی علاقوں کو متاثر کیا اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔
ستمبر 2026متاثرین اب گھروں کے ساتھ اپنی روایات، تہواروں اور ثقافتی تسلسل کے مستقبل کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔
overseaspost.net

کئی متاثرین کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا اور ان کے پاس آج بھی صرف وہی کپڑے ہیں جو سیلاب کے وقت انہوں نے پہن رکھے تھے۔

کچھ خاندان ایسے قیمتی آبائی سامان سے بھی محروم ہو گئے جو نسلوں سے ایک خاندان سے دوسرے خاندان کو منتقل ہوتا آیا تھا۔

2015 کے زلزلے کے بعد پھر تباہی

یہ پہاڑی بستیاں پہلے ہی قدرتی آفات کا سامنا کر چکی تھیں۔

2015 کے تباہ کن زلزلے نے متعدد پرانی خانقاہیں اور عمارتیں تباہ کر دی تھیں۔ مقامی لوگوں نے برسوں کی محنت کے بعد نئی خانقاہیں تعمیر کیں، مگر اب سیلاب نے ان میں سے کئی مقامات کو دوبارہ نقصان پہنچایا یا ان تک رسائی ختم کر دی۔

! OVERSEAS POST | CULTUREسیلاب میں صرف گھر نہیں بہے

متاثرین کے مطابق اس آفت نے وہ چیزیں بھی چھین لیں جن کی مالی قیمت لگانا ممکن نہیں۔

  • 1آبائی اشیا: کئی خاندان نسل در نسل منتقل ہونے والی یادگاروں اور قیمتی روایتی سامان سے محروم ہوگئے۔
  • 2خانقاہیں: وہ مقامات تباہ یا ناقابلِ رسائی ہوگئے جہاں تہوار، عبادات اور اجتماعی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔
  • 3روزمرہ ثقافت: روایتی بخور تیار کرنا، مخصوص لباس، مقامی رقص اور تہوار متاثرہ برادری کی زندگی کا حصہ تھے۔
  • 4برادری: مختلف علاقوں میں بکھر جانے سے بزرگوں سے نوجوانوں تک علم اور رسموں کی منتقلی مشکل ہوسکتی ہے۔
overseaspost.net

یہ خانقاہیں صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں۔

یہاں بچوں کو مذہبی اور ثقافتی روایات سکھائی جاتی تھیں، تہوار منعقد ہوتے تھے، بزرگ اپنی اگلی نسل کو مقامی تاریخ اور رسومات منتقل کرتے تھے اور پوری برادری ایک جگہ جمع ہوتی تھی۔

اب جب بستیاں بکھر رہی ہیں اور لوگ دارالحکومت یا دوسرے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تو سوال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ ثقافتی سلسلہ کب تک برقرار رہ سکے گا۔

بچوں کی نسل سب سے بڑا سوال

اس بحران کا سب سے حساس پہلو وہ بچے ہیں جنہوں نے اپنے والدین یا خاندان کے دوسرے افراد کو کھو دیا ہے۔

متاثرین اور رضاکاروں کے مطابق ایسے بچوں کے بارے میں سب سے بڑی تشویش یہی ہے کہ انہیں ان کی زبان، مذہبی روایات، مقامی تہوار اور آبائی ثقافت کون سکھائے گا۔

OVERSEAS POST | CHILDRENبچوں کے لیے بحران دوہرا کیوں ہے؟

بچوں کو فوری امداد، محفوظ پناہ، پانی اور تعلیم کی ضرورت ہے، لیکن راسووا کے متاثرین ایک طویل المدتی خطرے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔

خاندان سے جدائیسیلاب نے خاندانوں کو بکھیر دیا اور بعض بچے والدین یا سرپرستوں سے جدا ہوگئے۔
تعلیم میں خللشمالی نیپال کے متاثرہ اضلاع میں درجنوں اسکول تباہ یا متاثر ہوئے۔
ثقافتی تعلیماگر بچے آبائی بستیوں سے دور بڑے ہوں تو زبان اور مقامی رسمیں سیکھنے کے مواقع کم ہوسکتے ہیں۔
نفسیاتی دباؤامدادی اداروں نے متاثرہ بچوں میں خوف، بے چینی اور صدمے کی علامات کی نشاندہی کی ہے۔

خدشہ: انسانی بحالی کے ساتھ ثقافتی اور نفسیاتی بحالی بھی ضروری ہوگی۔

overseaspost.net

امدادی ادارے Save the Children کے اندازے کے مطابق ہزاروں بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ سیلاب میں کتنے بچے اپنے والدین سے محروم ہوئے ہیں۔

راسووا سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ رضاکار الینا لاما کہتی ہیں کہ ثقافت کے کمزور ہونے کا عمل سیلاب سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

بہتر تعلیم، روزگار اور جدید زندگی کی تلاش میں نوجوان شہروں کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔ اس وجہ سے وہ خاندان کے بزرگوں کے ساتھ اتنا وقت نہیں گزارتے تھے کہ اپنی ثقافت کی باریکیاں سیکھ سکیں۔

سیلاب نے اس پہلے سے موجود خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

اگلا تہوار کہاں منایا جائے گا؟

متاثرین کو اب آنے والے بدھ تہواروں کی فکر ہے۔

بہت سے مقامی راہب لاپتہ ہو گئے یا متاثرہ علاقوں سے نکل گئے جبکہ بعض خانقاہیں تباہ ہو چکی ہیں۔

تسیرنگ شیرپا کے مطابق ثقافت کتاب میں لکھ کر محفوظ نہیں رہتی بلکہ اسے عمل کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیا جاتا ہے۔

OVERSEAS POST | IDENTITYثقافت کیوں مٹ سکتی ہے؟

راسووا کے متاثرین کے مطابق ثقافت کتاب میں محفوظ معلومات سے زیادہ ایک زندہ عمل ہے۔

  • 1روایات بزرگوں کے ساتھ رہنے، تہوار منانے اور روزمرہ زندگی میں انہیں دہرانے سے منتقل ہوتی ہیں۔
  • 2نوجوان پہلے ہی بہتر تعلیم اور روزگار کے لیے شہروں کی طرف جا رہے تھے، جس سے مقامی ثقافتی علم کمزور ہو رہا تھا۔
  • 3سیلاب نے نقل مکانی کو اچانک اور وسیع بنا دیا، اس لیے یہ عمل پہلے سے زیادہ تیز ہوسکتا ہے۔
  • 4خانقاہیں اور مقامی راہب مذہبی اور ثقافتی علم کے اہم مراکز تھے؛ ان کا نقصان ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے۔
overseaspost.net

اگر لوگ اپنے تہوار نہیں منا سکیں گے، مذہبی رسومات ادا نہیں کر سکیں گے اور بچے اپنے آبائی علاقوں سے دور بڑے ہوں گے تو آنے والی نسل کے لیے اپنی شناخت سے جڑے رہنا کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی خوف کا سب سے تکلیف دہ اظہار شاید تسیرنگ گیلبو لاما کی کہانی میں نظر آتا ہے۔

ان کی 4 سالہ بیٹی نے اپنی ماں کھو دی ہے، اپنا گھر کھو دیا ہے اور شاید وہ گاؤں بھی کھو دیا جہاں اسے اپنی زبان، روایات اور ثقافت سیکھنا تھی۔

اب اس کے والد کے سامنے صرف اسے پالنے کا سوال نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب زمین، گھر، خانقاہ اور برادری سب بکھر جائیں تو ایک باپ اپنی بیٹی کو یہ کیسے سمجھائے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آئی ہے اور اس کی پہچان کیا ہے؟

نیپال کے سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا، لیکن راسووا کے متاثرین کے لیے بحالی کا مطلب صرف نئے مکانات تعمیر کرنا نہیں ہوگا۔

ان کے لیے اصل بحالی اس دن مکمل ہوگی جب ان کے بچے دوبارہ اپنی زبان بول سکیں، اپنے تہوار منا سکیں اور اپنی ثقافت کو صرف پرانی تصویروں میں دیکھنے کے بجائے اسے اپنی زندگی میں محسوس کر سکیں۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net