عالمی منڈی میں سونے کی قیمت نئی بلندیوں کے قریب ہے، مگر اصل کھیل صرف قیمت کا نہیں ہے، بلکہ مرکزی بینک اب یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ سونا کہاں رکھا جائے، بحران میں کتنی جلدی استعمال ہو اور ضرورت پر کتنی آسانی سے فروخت کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے مارچ سے اگست 2026 کے درمیان تقریباً 86 ٹن سونا نیویارک اور اوٹاوا سے لندن منتقل کیا ہے۔
نیدرلینڈز کے پاس مجموعی طور پر 612.4 ٹن سونا ہے اور منتقلی کے بعد لندن میں حصہ 32.1 فیصد ہوگیا، جبکہ نیویارک اور اوٹاوا میں 18.5، 18.5 فیصد اور زیست میں 30.8 فیصد ذخیرہ موجود ہے۔
🌍
دنیا سونا کہاں چھپا رہی ہے؟ نئی عالمی حکمتِ عملی
جغرافیائی منتقلی
مرکزی بینک اب سونا صرف خرید نہیں رہے بلکہ اس کے جغرافیائی مقام کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں؛ نیویارک اور اوٹاوا کے بجائے لندن اور اپنے مقامی والٹس کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں مائع نقد فوری حاصل ہو سکے۔
نیدرلینڈز: 86 ٹن کی نئی صف بندی
ڈچ سینٹرل بینک نے نیویارک اور اوٹاوا سے سونا ہٹا کر لندن میں اپنا حصہ 32.1 فیصد کر دیا ہے جبکہ 30.8 فیصد سونا مقامی ڈچ شہر زیست (Zeist) کے فوجی والٹس میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
لندن: فوری مائعاتی فروخت کا مرکز
بینک آف انگلینڈ کا سب سے بڑا فائدہ اس کی فزیکل ٹریڈنگ لیکویڈیٹی ہے؛ اگر جنگ یا مالی بائیکاٹ ہو تو یہاں موجود سونا منٹوں میں فروخت ہو کر زرمبادلہ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
فرانس: 129 ٹن کا معیار اور وطن واپسی
بینک آف فرانس نے نیویارک میں موجود اپنا سونا فروخت کر کے یورپی معیارات (LBMA) کے مطابق پیرس کے محفوظ زیرِ زمین تہہ خانوں میں منتقل کیا تاکہ مغربی کنٹرول سے آزاد رہ سکے۔
امریکی فیڈرل ریزرو سے بتدریج دوری
روسی ذخائر منجمد ہونے کے بعد نیویارک کے فیڈرل ریزرو والٹ پر غیر ملکی مرکزی بینکوں کا اندھا اعتماد کم ہوا ہے اور ممالک سونا واپس اپنی سرزمین پر لا رہے ہیں۔
لندن کیوں اہم ہوگیا؟
اقتصادی ماہرین کے مطابق لندن فزیکل گولڈ کی دنیا کی اہم ترین تجارتی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔
بینک آف انگلینڈ میں رکھا سونا عالمی معیار پر پورا اترتا ہے اور بحران میں نسبتاً آسانی سے فروخت یا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈچ مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد بحران سے نمٹنے کی تیاری اور ذخائر کی فوری دستیابی بہتر بنانا ہے۔
سونے کی جنگ: مرکزی بینکوں کی محفوظ پناہ گاہ 🪙
عالمی مالیاتی بے یقینی اور پابندیوں کے خطرے کے پیشِ نظر سرکاری ذخائر لندن اور یورپ منتقل
مرکزی بینکوں نے ممکنہ مالیاتی بحران اور پابندیوں سے بچنے کے لیے سونے کی خریداری دگنی کرتے ہوئے ذخائر کو فوری قابلِ فروخت منڈیوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
📈 فی اونس عالمی قیمت 🏆
4491 ڈالرامریکی بانڈ ییلڈ میں کمی اور کمزور ڈالر کے باعث عالمی منڈی میں اسپاٹ سونا نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔
🏦 سالانہ سرکاری خریداری ⚖️
1000 ٹنورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مرکزی بینکوں کی سالانہ خریداری گزشتہ دہائی کے اوسط کے مقابلے میں دگنی ہو چکی ہے۔
🔄 نیدرلینڈز کا لندن تبادلہ 🇬🇧
86 ٹنڈچ مرکزی بینک نے بحران میں فوری دستیابی کے لیے اپنا قیمتی ذخیرہ نیویارک اور اوٹاوا سے منتقل کر لیا۔
📊 ذخائر میں اضافے کا رجحان 🌍
89% بینکعالمی سروے کے مطابق دنیا کے اکثریتی مرکزی بینکوں نے عالمی سطح پر سونے کے ذخائر بڑھنے کی واضح پیش گوئی کی۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ پورا 86 ٹن سونا فزیکلی لندن نہیں بھیجا گیا، بلکہ تقریباً 59 ٹن سونا نیویارک میں فروخت کرکے لندن میں عالمی معیار کا سونا خریدا گیا، جبکہ 27 ٹن سے زیادہ سونے کی فزیکل منتقلی بھی ہوئی۔
🏦 مرکزی بینک سونا کیوں سمیٹ رہے ہیں؟ اصل وجہ 1,000 ٹن
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق گزشتہ 4 برسوں میں مرکزی بینک سالانہ اوسطاً 1,000 ٹن سونا خرید رہے ہیں، جو سابقہ دہائی کے 500 ٹن کے مقابلے میں دوگنی رفتار ہے، جبکہ 89 فیصد بینکوں نے ذخائر میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
1۔ روس کے 630B ڈالر اثاثوں کا انجماد
2022 میں مغربی پابندیوں نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں پر واضح کر دیا کہ ڈالر یا غیر ملکی بینکوں میں رکھا کاغذی زرمبادلہ سیاسی تنازع پر پلک جھپکتے منجمد ہو سکتا ہے۔
2۔ امریکی 40 ٹریلین ڈالر قرض کا دھماکہ
امریکی قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ حد عبور کر چکا ہے، جس سے مستقبل میں ڈالر کی قدر گرنے اور افراطِ زر کے خطرات کے خلاف سونا حتمی انشورنس بن چکا ہے۔
3۔ کریڈٹ اور ڈیفالٹ رسک سے مکمل آزادی
سونا کسی حکومت کا قرضہ یا کسی بینک کا دستخط شدہ کاغذی وعدہ نہیں ہوتا؛ یہ فزیکل طور پر ہاتھ میں موجود واحد خود مختار اثاثہ ہے جو کبھی دیوالیہ نہیں ہو سکتا۔
فرانس کی حکمت عملی بھی تبدیل
فرانس کے نیویارک میں موجود 129 ٹن سونے کے ساتھ بھی ملتی جلتی حکمت عملی اپنائی گئی۔
بینک آف فرانس کے مطابق یہ سونا مطلوبہ LBMA معیار پر نہیں تھا، اس لیے اسے فروخت کرکے یورپ میں بہتر معیار کا سونا خریدا گیا۔ فرانس کے مجموعی 2,437 ٹن ذخائر میں کمی نہیں ہوئی۔
✈️ امریکی خزانے سے لندن تک: سونے کا خفیہ سفر منتقلی کا طریقہ
مرحلہ 1: نیویارک فیڈرل ریزرو میں سونے کی فروخت (59 ٹن)
پورے 86 ٹن سونے کو ہوائی جہازوں میں لاد کر لے جانے کا سیکیورٹی رسک لینے کے بجائے 59 ٹن سونا نیویارک کی منڈی میں براہِ راست کیش کرا لیا گیا۔
مرحلہ 2: لندن بلین مارکیٹ میں تازہ گولڈ بارز کی خریداری
حاصل شدہ فنڈز سے لندن کے بینک آف انگلینڈ والٹ میں LBMA کے منظور شدہ 'گڈ ڈیلیوری' معیار کا بالکل نیا اور خالص سونا خرید کر کریڈٹ کیا گیا۔
مرحلہ 3: 27 ٹن سونے کی خفیہ فزیکل ائیر لفٹ
باقی ماندہ 27 ٹن سے زائد خالص فزیکل سونا انتہائی سخت سیکیورٹی والے کارگو جیٹس کے ذریعے بحر اوقیانوس کے پار بینک آف انگلینڈ کے تہہ خانوں میں منتقل کیا گیا۔
2018 کی تیزی ابھی کیوں زندہ ہے؟
یو بی ایس کے چیف اسٹریٹجسٹ بانو باویجا کے مطابق موجودہ بڑی تیزی 2018 میں شروع ہوئی اور اب تک تقریباً 19 فیصد سالانہ منافع دے چکی ہے۔
ان کے خیال میں 2022 میں مغربی ممالک کی جانب سے روس کے تقریباً 630 ارب ڈالر کے ذخائر منجمد کیے جانے کے بعد مرکزی بینکوں نے ذخائر کے تحفظ کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا ہے۔
ماضی میں حقیقی شرح سود بڑھتی تو سونا عموماً دباؤ میں آتا تھا، مگر 2022 کے بعد یہ تعلق کمزور پڑ گیا۔
پاکستان پر اثرات: سونا مزید مہنگا ہوسکتا ہے؟
◀
عالمی ریٹ + روپے کی بے قدری کا دہرا وار
پاکستان میں فی تولہ قیمت صرف عالمی اونس پر نہیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر منحصر ہوتی ہے؛ جب سونا $4,491 سے اوپر جائے اور روپیہ دباؤ میں رہے تو مقامی ریٹ بے قابو ہو جاتے ہیں۔
زیورات کی خریداری عام آدمی کی پہنچ سے باہر
شادی بیاہ کے لیے سونے کے زیورات متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صرافہ بازاروں میں روایتی خریداروں کی جگہ سرمایہ کاروں کی قیاس آرائی بڑھ گئی ہے۔
آئی ایم ایف کی وارننگ: جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق سونا رسک فری ضرور ہے مگر اس کے ریٹس میں بڑا اتار چڑھاؤ آتا ہے؛ اس لیے اسے فوری نقد کی جگہ رکھنے والے عام پاکستانیوں کو نفع کے ساتھ مارکیٹ کریش کا خطرہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
امریکی حقیقی منافع میں تیز اضافے کے باوجود سونا توقع کے مطابق نہیں گرا۔ امریکی قرض، مالی خسارے اور بانڈز پر بڑھتے اضافی منافع نے بھی سونے کی کشش بڑھائی ہے۔
مرکزی بینک کتنی خریداری کر رہے ہیں؟
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق گزشتہ 4 برس میں مرکزی بینکوں نے اوسطاً ایک ہزار ٹن سونا سالانہ خریدا، جو اس سے پہلے کی دہائی کے تقریباً 500 ٹن سالانہ اوسط سے دوگنا ہے۔
2026 کے سروے میں 89 فیصد مرکزی بینکوں نے عالمی ذخائر بڑھنے کی توقع ظاہر کی، جبکہ ریکارڈ 45 فیصد نے اپنے ذخائر بڑھانے کا ارادہ بتایا ہے۔
🔭 آگے کیا ہوگا؟ سونے کی تیزی کہاں رک سکتی ہے؟ 📊
3 ستمبر کو اسپاٹ گولڈ 4,491 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا؛ 2018 سے جاری یہ ریلی سالانہ 19 فیصد کا منافع دے رہی ہے مگر 3 بڑے عوامل اس کے مستقبل کی سمت طے کریں گے۔
1۔ امریکی شرحِ سود میں کٹوتی کی رفتار
اگر امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں تیزی سے کمی کی تو ڈالر مزید کمزور ہو کر سونے کو 5,000 ڈالر کی نئی نفسیاتی حد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
2۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا خاتمہ
اگر روس یوکرین یا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی معاہدے ہوتے ہیں تو محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر سونے کی طلب میں عارضی مندی آ سکتی ہے۔
3۔ منافع خوری اور نقد مائع کی ضرورت
اگر عالمی مالیاتی بحران گہرا ہوا تو بینک اور ہیج فنڈز اپنے دیگر نقصانات پورے کرنے کے لیے سونا بیچ کر کیش نکالنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
حتمی تجزیہ: موجودہ دور میں سونا صرف زیور یا عام کموڈیٹی نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معاشی غیر یقینی، کاغذی کرنسیوں پر عدم اعتماد اور جغرافیائی سیاسی جنگ کے خلاف دنیا کا سب سے معتبر بیمہ بن چکا ہے۔
صرف دوسری سہ ماہی 2026 میں مرکزی بینکوں کی خالص خریداری 289 ٹن رہی ہے۔
قیمت کہاں پہنچ گئی؟
3 ستمبر کو رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ 4,491 ڈالر فی اونس سے اوپر چلا گیا۔ کمزور ڈالر، امریکی بانڈ ییلڈ میں کمی اور شرح سود کے بارے میں بدلتی توقعات نے قیمت کو سہارا دیا۔
پاکستان کے لیے اصل مطلب
پاکستان میں سونے کی قیمت پر عالمی نرخ کے ساتھ روپے کی قدر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے عالمی سونا مہنگا ہو اور روپیہ کمزور پڑے تو مقامی قیمت پر دہرا دباؤ آسکتا ہے۔
تاہم سونا ہر حال میں بے خطر اثاثہ نہیں رہا۔ آئی ایم ایف نے جولائی 2026 کی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ سونا کریڈٹ رسک سے پاک ضرور ہے، مگر اس کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ ہوسکتا ہے اور اسے فوری نقدی کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
اصل بدلاؤ قیمت سے زیادل اہم ہے
دنیا اس وقت سونے کو صرف زیور یا منافع کی چیز نہیں سمجھ رہی، بلکہ مرکزی بینک اسے مالی خطرات کے خلاف انشورنس، سیاسی بے یقینی سے تحفظ اور اعتماد کے ذخیرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔