دنیا کی مالیاتی منڈی میں سونا ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں
چند ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد قیمتوں میں تیزی واپس آئی تو سوئٹزرلینڈ کے بڑے بینک یو بی ایس کی نئی پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کو یکدم چونکا دیا۔
بینک کا اندازہ ہے کہ 2027 کی پہلی ششماہی میں سونا 5 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ پیش گوئی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت، امریکی
شرح سود، مشرق وسطیٰ کی جنگ اور مہنگائی کے بدلتے خدشات سونے کی سمت طے کر رہے ہیں۔
پاکستان میں فی تولہ سونا اور مقامی معیشت پر اثرات
مقامی اثراتفی تولہ قیمت میں تاریخی اچھال
اگر عالمی مارکیٹ میں سونا 5,000 ڈالر فی اونس تک پہنچتا ہے تو پاکستانی روپے کی موجودہ قدر کے مطابق مقامی سرَافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونا ریکارڈ سطح کو عبور کر جائے گا۔
زیورات کی صنعت اور شادیوں کا بجٹ
قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے روایتی جیولری کی خریدو فروخت مزید سکڑ سکتی ہے، جس سے عام گھرانوں کے لیے شادی بیاہ کے موقع پر سونے کی خریداری کا بجٹ شدید دباؤ میں آئے گا۔
روپے کی قدر اور تبادلہ کرنسی کا دباؤ
پاکستان سونے کا درآمد کنندہ ہے۔ عالمی سطح پر مہنگا سونا اور ڈالر کی قدر میں متوقع اتار چڑھاؤ بیرونی تجارتی توازن اور ذخائر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سیف ہیون سرمای کاری کا رجحان
مقامی سرمایہ کار افراطِ زر (مہنگائی) سے بچاؤ کے لیے جائیداد یا دیگر اثاثوں کے مقابلے میں کاغذی اور خام سونے کی خریداری کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے حتمی جائزہ
7 ہفتوں کی خاموشی ٹوٹ گئی
جمعہ کے روز عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں سونا 0.6 فیصد بڑھ کر 4,262.39 ڈالر فی اونس ہوگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 4,321.50 ڈالر تک پہنچ گئے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل سونا 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح بھی چھو چکا تھا۔
سونا 5000 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
سوئس بینک یو بی ایس کی رپورٹ اور عالمی مالیاتی منڈی کے بدلتے رجحانات
امریکی شرح سود میں کمی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر سونے کی طرف مبذول ہو رہی ہے۔
🚀 2027 کا بڑا ہدف
$5,000یو بی ایس بینک کے مطابق 2027 کی پہلی ششماہی تک سونا فی اونس اس حد تک جا سکتا ہے۔
📈 حالیہ ہفتہ وار تیزی
5%صرف ایک ہفتے کے دوران سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
📉 شرح سود کا امکان
55%مارکیٹ اب ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکان کو کم دیکھ رہی ہے جو پہلے 63 فیصد تھا۔
📊 قیمتوں کی سطح اور تاریخی چوٹی (ڈالر فی اونس)
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اقتصادی ماہرین کے مطابق صرف رواں ہفتے قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار دوبارہ تیزی سے سونے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
جنگ، تیل اور مہنگائی کا نیا کھیل
دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ تیزی صرف جنگ کے خوف کا نتیجہ نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم ہونے کی امید اور نسبتاً کم تیل قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو نرم کیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی پیش گوئیاں اور تاریخی ریکارڈ
📈 یو بی ایس بینک (UBS) کا ہدف: 5,000 ڈالر
سوئس بینک یو بی ایس کے مطابق 2027ء کی پہلی ششماہی تک عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں سونا 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو سکتا ہے۔ یہ تخمینہ طویل مدتی اقتصادی بے یقینی اور امریکی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
تاریخی چوٹی (Record High)
سونا جنوری کے آخر میں 5,589 ڈالر فی اونس کی تاریخی چوٹی چھو چکا ہے۔ موجودہ قیمت (تقریباً 4,262 ڈالر) اس ریکارڈ سے اب بھی 20 فیصد کم ہے۔
اگلی اہم ترین مزاحمت
اگر موجودہ تیزی برقرار رہتی ہے تو 4,500 ڈالر کی سطح پہلی بڑی رکاوٹ ہوگی، جس کے بعد 5,000 ڈالر کی نفسیاتی حد کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کار میٹ سمپسن کے مطابق مہنگائی کی توقعات کم ہونے سے سونے کو 4 ہزار ڈالر کے آس پاس کئی ہفتوں کے جمود سے نکلنے کا موقع ملا۔
منڈیوں میں سونے کی واپسی کے 3 پردہِ پشت عوامل
1. 7 ہفتوں کا جمود ٹوٹ گیا
4,000 ڈالر کی سطح پر کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد صرف ایک ہفتے میں 5% سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے سرمائے کا رخ بدل چکا ہے۔
2. فیوچرز اور اسپاٹ مارکیٹ
اسپاٹ مارکیٹ میں قیمت 4,262 ڈالر جبکہ امریکی فیوچرز میں 4,321 ڈالر تک پہنچنا بتاتا ہے کہ مستقبلی خریدار (Futures Traders) مزید تیزی دیکھ رہے ہیں۔
3. مرکزی بینکوں کی خریداری
عالمی مرکزی بینک ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے مسلسل اپنے زرمبادلہ ذخائر میں سونے کا تناسب بڑھا رہے ہیں جو قیمتوں کو سہارا دیتا ہے۔
مارکیٹ کا اندرونی متحرک
اصل چابی امریکی شرح سود
سونے کے اگلے بڑے سفر کا فیصلہ بڑی حد تک امریکا میں ہوگا۔
جولائی میں نجی شعبے میں ملازمتوں کی رفتار کم ہونے سے ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات گھٹے ہیں۔
مارکیٹ اب شرح سود میں اضافے کا امکان 55 فیصد سمجھ رہی ہے، جو ایک ہفتہ پہلے 63 فیصد تھا۔ بلند شرح سود عموماً سونے کے لیے منفی سمجھی جاتی ہے کیونکہ سونا خود کوئی سود نہیں دیتا۔ اس لیے شرح سود پر دباؤ کم ہونا گولڈ کے لیے اچھی خبر ہوسکتی ہے۔
سونے پر اثر انداز ہونے والے 3 بنیادی محرکات کا تقابل
شرح سود (Interest Rate)
سب سے بڑا محرک۔ سونا خود سؤد نہیں دیتا، اس لیے جب شرح سود کم ہوتی ہے یا گھٹنے کی امید ہو تو سونا پرکشش ترین اثاثہ بن جاتا ہے۔
مہنگائی کا دباؤ (Inflation)
جب ایندھن اور اشیاء مہنگی ہوں تو سرمایہ کار کرنسی کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے سونے میں رقم محفوظ کرتے ہیں۔
جیو پولیٹیکل جنگیں
جنگ کا خوف عارضی تیزی لاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں تیل کی نرم قیمتوں اور امن کی امید نے سونے کو استحکام دیا ہے۔
حتمی نتیجہ: اصل طاقت کون؟
5 ہزار ڈالر بڑا ہدف، مگر ریکارڈ نہیں
یو بی ایس کا 5 ہزار ڈالر کا ہدف سننے میں غیر معمولی لگتا ہے، مگر ایک دلچسپ حقیقت تصویر بدل دیتی ہے۔د
سونا جنوری کے آخر میں 5,589 ڈالر فی اونس کی تاریخی چوٹی چھو چکا ہے اور موجودہ قیمت اس ریکارڈ سے اب بھی 20 فیصد سے زیادہ نیچے ہے۔
آئندہ دنوں میں سرمائے کے بہاؤ کو طے کرنے والے 4 اہم اشارے
1. امریکہ میں روزگار کے اعدادوشمار
جولائی میں نجی شعبے کی نوکریوں میں سست روی کے بعد اگر بیروزگاری کا ڈیٹا مزید کمزور آتا ہے تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی یقینی ہو جائے گی۔
2. فیڈ کا ستمبر اجلاس (55% امکان)
مارکیٹ اب ستمبر میں شرح سود برقرار رہنے یا گھٹنے کے 55 فیصد امکانات دیکھ رہی ہے۔ فیڈ کا واضح اشارہ سونے کی اگلی منزل متعین کرے گا۔
3. مشرقِ وسطیٰ میں امن اور تیل کی قیمتیں
ایران اور خطے میں جنگ ختم ہونے اور تیل کی قیمتیں مستحکم رہنے سے مہنگائی کے خدشات نارمل رہیں گے جو سونے کے تسلسل کے لیے سازگار ہے۔
4. امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) کی سمت
ڈالر انڈیکس میں کمزوری براہِ راست سونے کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہے کیونکہ دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا سستا ہو جاتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ
اسی لیے اصل سوال شاید یہ نہیں کہ سونا 5 ہزار ڈالر تک پہنچے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر شرح سود، مہنگائی اور عالمی بے یقینی نے ایک ساتھ اس کا ساتھ دیا تو کیا اگلی منزل پرانا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے؟