ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ ترین سروے کے مطابق دنیا بھر کے ریکارڈ 45 فیصد مرکزی بینکوں نے آئندہ ایک سال کے دوران اپنے سونے کے ذخائر میں مزید اضافے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں
کونسل کی جانب سے 74 مرکزی بینکوں پر مشتمل سالانہ سروے میں 54 فیصد اداروں نے اپنے موجودہ ذخائر برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ صرف ایک فیصد بینکوں کا خیال ہے کہ ان کے سونے کے ذخائر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ سروے 5 فروری سے 19 مئی 2026 کے درمیان کیا گیا، جس میں زیادہ تر جوابات مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بعد موصول ہوئے جس کے
باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کے بعد پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے شعبہ مرکزی بینک کے سربراہ شاوکائی فان کا کہنا ہے کہ حالیہ قیمتوں میں کمی کے باوجود مرکزی بینکوں کی سونے میں دلچسپی برقرار ہے اور وہ اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مشاورتی فرم میٹلز فوکس کے مطابق 2026 میں مرکزی بینکوں کی طلب میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد کمی متوقع ہے تاہم یہ طلب 2022 سے پہلے کی سطح سے زیادہ رہے گی جو مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اور معاون عنصر ثابت ہو گی۔
سروے کے مطابق 93 فیصد شرکا نے پہلے ہی سونے کے ذخائر رکھنے کی تصدیق کی ہے جو گزشتہ سال 81 فیصد تھی جبکہ 90 فیصد بینکوں نے بحرانی صورتحال میں سونے کی بہترین کارکردگی کو اس کی خریداری کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
مرکزی بینکوں کے مطابق سونے کو طویل مدتی قدر برقرار رکھنے اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں تنوع لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے 85 فیصد بینک اسے جیو پولیٹیکل خطرات کے خلاف ڈھال سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ سونے کی منتقلی کے حوالے سے 9 فیصد بینکوں نے مقامی سطح پر ذخیرہ اندوزی میں اضافہ کیا ہے جبکہ 10 فیصد بینکوں نے بیرون ملک مختلف مقامات پر سونا رکھنے کو ترجیح دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
آئندہ ایک سال کے دوران 7 فیصد بینک مقامی ذخائر بڑھانے اور 9 فیصد بیرون ملک ذخیرہ اندوزی کے مقامات میں تنوع لانے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاہم کونسل نے بینکوں سے ان کے سونے کی واپسی کے مقامات کی تفصیلات طلب نہیں کیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بینک آف انگلینڈ اب بھی سونا ذخیرہ کرنے کا سب سے مقبول مقام ہے جس کے بعد مقامی اسٹوریج اور پھر بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کا نمبر آتا ہے۔