براہ راست نشریات

یورپ کے دروازے پر بے سہارا: سبتہ کی سڑکوں پر بھٹکتے ایک ہزار بچے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Ceuta humanitarian crisis

مراکش سے اسپین کے زیرِ انتظام شہر سبتہ پہنچنے کی اجتماعی کوشش کے دوران کم از کم 75 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تقریباً ایک ہزار غیر ہمراه بچے اب بھی شہر میں موجود ہیں۔
ان میں ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جس نے اپنے 8 سالہ بھائی کو ڈوبتے دیکھا اور پھر والدہ سے جدا ہوگئی۔
پناہ گاہیں بھر چکی ہیں اور متعدد بچے سڑکوں اور ساحلوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسپین کے زیرِ انتظام شمالی افریقی شہر سبتہ کے ساحل سے لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ 

دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں اور سرحد پر نظر آنے والا غیر معمولی ہجوم بھی بڑی حد تک چھٹ چکا ہے۔ 

بظاہر شہر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے، مگر اس بحران کی سب سے دردناک نشانیاں اب بھی سڑکوں، ساحلوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر موجود ہیں۔

یہ تقریباً ایک ہزار ایسے بچے ہیں جو سرحد عبور کرنے کے بعد اپنے والدین اور خاندانوں سے جدا ہوگئے۔ 

بعض کو معلوم نہیں کہ ان کے والدین کہاں ہیں، بعض کے گھر والوں کو خبر نہیں کہ ان کے بچے زندہ ہیں یا سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ کئی بچے اسپین پہنچ جانے کے باوجود چھت، خوراک اور تحفظ سے محروم ہیں۔ 

مزید پڑھیں

آنکھوں کے سامنے 8 سالہ بھائی ڈوب گیا

ان بچوں میں مراکش کے شہر طنجہ سے تعلق رکھنے والی ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ 

وہ اپنی والدہ اور 8 سالہ بھائی کے ساتھ بہتر مستقبل کی امید میں سبتہ کی جانب روانہ ہوئی تھی۔

سرحد کے قریب سمندر میں بنے حفاظتی بند کے اطراف سے گزرنے کی 

کوشش کے دوران اچانک افراتفری پھیل گئی۔ 

پانی میں لوگ ایک دوسرے کو پکڑنے لگے، جبکہ پتھریلے ساحل تک پہنچنے والوں کے درمیان سرحدی باڑ سے بچنے کے لیے بھگدڑ مچ گئی۔

اہم نکات
  • تقریباً 72 ہزار افراد نے مراکش سے سبتہ کی سرحد عبور کی۔
  • قریب 70 ہزار افراد واپس جا چکے ہیں۔
  • تقریباً ایک ہزار غیر همراه بچے اب بھی سبتہ میں موجود ہیں۔
  • بحران کے دوران کم از کم 75 افراد ہلاک ہوئے۔
  • متعدد بچے خاندانوں سے جدا ہوکر سڑکوں اور ساحلوں پر رہ رہے ہیں۔
  • بچوں کو ہسپانوی قانون کے تحت تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

لڑکی نے اپنے 8 سالہ بھائی کو آنکھوں کے سامنے ڈوبتے دیکھا۔ 

ساحل پر پہنچنے کے بعد وہ اپنی والدہ سے بھی جدا ہوگئی۔ اب وہ سبتہ کی سڑکوں پر کھانا مانگ رہی ہے۔

اس نے مترجم کے ذریعے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا:

’میں نے لوگوں کو لاشوں پر قدم رکھتے دیکھا۔ اب ہم بچے سڑکوں پر بھیک مانگ رہے ہیں۔‘

مقامی شہریوں میں سے کچھ نے اسے کھانا اور کپڑے دیئے۔ 

ایک خاتون اسے اپنے گھر لے گئی تاکہ وہ نہا سکے، مگر جب لڑکی نے سرکاری یوتھ سینٹر سے پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہاں جگہ نہیں تھی۔

72 ہزار افراد کا اچانک سرحد کی طرف رخ

سبتہ اسپین کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جو جغرافیائی طور پر شمالی افریقہ میں مراکش کی سرحد کے ساتھ واقع ہے، مگر سیاسی طور پر اسپین اور یورپی یونین کا حصہ ہے۔ 

اسی وجہ سے بہت سے تارکین وطن اسے یورپ میں داخل ہونے کا نسبتاً مختصر راستہ سمجھتے ہیں۔

اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا کے مطابق حالیہ غیر معمولی ہجوم کے دوران تقریباً 72 ہزار افراد سبتہ میں داخل ہوئے۔ 

ان میں سے قریب 70 ہزار واپس جا چکے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ باقی رہ جانے والے افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنا مشکل ہے۔ 

ایک اندازے کے مطابق 3 سے 5 ہزار افراد اب بھی شہر میں موجود ہوسکتے ہیں، جن میں تقریباً ایک ہزار غیر ہمراه بچے شامل ہیں۔

سبتہ بحران: اہم اعداد
72 ہزار سرحد عبور کرنے والے افراد
70 ہزار واپس جانے والے افراد
تقریباً 1,000 خاندانوں کے بغیر موجود بچے
75 اسپین کے مطابق ہلاکتیں
600 مہاجر مرکز کی گنجائش
25 ملین یورو بچوں کے لیے مختص امداد

یہ تعداد اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ سبتہ کی پوری آبادی صرف 84 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یعنی چند دنوں کے اندر شہر کی تقریباً پوری آبادی کے برابر افراد نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔

بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز اور پیغامات سے متاثر ہوکر سرحد کی طرف نکلے تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایک بڑے ہجوم کے ساتھ سرحد عبور کرکے اسپین پہنچنا ممکن ہوگا۔ 

لیکن سبتہ پہنچنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہاں سے اسپین کے مرکزی حصے یا یورپ کے دوسرے ممالک تک پہنچنا آسان نہیں۔

سمندر اور بھگدڑ نے 75 جانیں لے لیں

ہسپانوی حکام کے مطابق اس بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 75 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے بیشتر سمندر میں ڈوبے۔ 

مراکش نے اپنی حدود میں مزید 11 اموات کی اطلاع دی ہے، جو اسپین کی جانب سے جاری کردہ تعداد میں شامل نہیں۔

کئی خاندانوں کو اب تک معلوم نہیں کہ ان کے بچے زندہ ہیں یا ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ 

سرحد کے مراکشی حصے میں والدین مسلسل اپنے بچوں کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔

ابتسام شاری نامی ایک ماں کئی دنوں سے اپنے بیٹے ریان کی خبر کی منتظر ہے۔ 

ایک منٹ میں کہانی

بہتر مستقبل کی امید میں ہزاروں افراد نے مراکش سے سبتہ کی سرحد عبور کی۔ سمندر، پتھریلے ساحل اور سرحدی باڑ کے قریب پیدا ہونے والی افراتفری میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ بیشتر تارکین واپس چلے گئے، لیکن تقریباً ایک ہزار بچے خاندانوں کے بغیر شہر میں رہ گئے۔ پناہ گاہیں بھر چکی ہیں، خوراک محدود ہے اور دوسری جانب والدین اپنے لاپتا بچوں کی خبر کے منتظر ہیں۔

ریان دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا اور سبتہ پہنچنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو پیغام بھیجا تھا۔ 

اس کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔

ابتسام روزانہ سرحد کے قریب پہنچتی ہے۔ 

کچھ نوجوان واپس آچکے ہیں، لیکن ریان کا کوئی سراغ نہیں۔ 

ایک طرف اسے بیٹے کے زندہ ہونے کی امید ہے اور دوسری جانب سمندر سے ملنے والی لاشوں کی خبریں اس کا خوف بڑھا رہی ہیں۔

قانون بچوں کو واپس بھیجنے کی اجازت نہیں دیتا

اسپین کے قانون کے تحت بالغ تارکین وطن سیاسی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں انہیں ملک بدر کرنے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم والدین یا کسی بالغ سرپرست کے بغیر آنے والے بچوں کا معاملہ مختلف ہے۔

ایسے بچوں کو کم عمر اور غیر محفوظ فرد تسلیم کرتے ہوئے ہسپانوی حکام کے لیے انہیں تحفظ، رہائش اور دیکھ بھال فراہم کرنا ضروری ہے۔ 

انہیں سرحد سے فوری طور پر واپس نہیں دھکیلا جاسکتا۔

یہ کہانی کیوں اہم ہے؟

سبتہ کا بحران صرف غیر قانونی ہجرت یا سرحدی نگرانی کا مسئلہ نہیں۔ اس کے مرکز میں ایسے بچے ہیں جو خاندانوں سے جدا، خوراک اور پناہ سے محروم اور انسانی اسمگلنگ و استحصال کے خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ صورت حال یورپ کے سامنے بنیادی سوال رکھتی ہے کہ سرحدوں کے تحفظ اور بچوں کے انسانی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

اس کے باوجود صحافیوں نے ایک 12 سالہ مراکشی بچے کو ہسپانوی فوجیوں کی نگرانی میں سرحد کی طرف لے جاتے دیکھا۔ 

بچہ رو رہا تھا اور واپس نہ بھیجنے کی التجا کر رہا تھا۔ 

مقامی شہریوں نے اصرار کیا کہ وہ نابالغ ہے۔ 

ذرائع ابلاغ کی موجودگی اور شہریوں کے احتجاج کے بعد ایک اعلیٰ فوجی افسر نے سرحد سے چند میٹر پہلے اس کی واپسی رکوائی اور اسے سول گارڈ کے حوالے کردیا۔

ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جارہا ہے۔ 

حکومت نے سبتہ میں موجود کم عمر تارکین وطن کی مدد کے لیے 25 ملین یورو مختص کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ 

لاپتہ افراد کی تلاش اور خاندانوں کی شکایات درج کرنے کے لیے سرحدی کسٹم ہاؤس میں خصوصی دفتر قائم کیا گیا ہے۔

چھ سو افراد کی جگہ، ہزاروں پناہ گزین

سبتہ میں تارکین وطن کے سرکاری مرکز میں صرف 600 افراد کی گنجائش ہے اور وہ مکمل طور پر بھر چکا ہے۔ 

جگہ نہ ملنے کے باعث بہت سے لوگ ساحل، گوداموں کے اطراف اور شہر سے ملحق پہاڑی علاقوں میں کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

خوراک سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ 

حکام نے محدود پیمانے پر کھانا تقسیم کرنا شروع کیا ہے، لیکن بہت سے تارکین تک بروقت خوراک نہیں پہنچ رہی۔

واپس مراکش جانے والے 25 سالہ احمد شناف نے بتایا کہ اسے سبتہ میں دو دن تک کھانا نہیں ملا۔ 

اس کے مطابق یورپ پہنچنے کے خواہش مند نوجوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ سرحد عبور کرلینا تکلیف کے خاتمے کی ضمانت نہیں، بعض اوقات اصل آزمائش دوسری جانب پہنچنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔

شہر میں موجود افراد صرف مراکش سے نہیں آئے۔ 

ان میں جنگ سے فرار ہونے والے سوڈانی، غزہ کے فلسطینی، افغان شہری اور افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ 

ہر شخص کی اپنی کہانی ہے، مگر سب کی منزل ایک ہے: 

ایسا محفوظ مقام جہاں جنگ، غربت یا خوف کے بغیر زندگی شروع کی جاسکے۔ 

یورپ دکھائی دیتا ہے، مگر پہنچ سے دور ہے

سبتہ کے ساحل سے دور افق پر اسپین کا مرکزی حصہ دھند میں دکھائی دیتا ہے۔ 

ساحل پر سونے والے بچوں اور نوجوانوں کے لیے وہی یورپ ہے جس کے خواب نے انہیں گھر چھوڑنے، سمندر میں اترنے اور سرحدی باڑ کا خطرہ مول لینے پر مجبور کیا۔

وہ یورپ کو دیکھ سکتے ہیں، مگر وہاں پہنچ نہیں سکتے۔

ہم سے جڑے رہیں

یہ بحران صرف غیر قانونی ہجرت یا سرحدی نگرانی کا مسئلہ نہیں۔ 

اس کے مرکز میں ایسے بچے ہیں جو بالغوں کے فیصلوں، سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی امیدوں اور امیگریشن کی سخت پالیسیوں کے درمیان تنہا رہ گئے ہیں۔

سمندر سے لاشیں نکالنا ممکن ہے، سرحد پر نئی رکاوٹیں بھی لگائی جاسکتی ہیں اور تارکین وطن کو واپس بھیجا جاسکتا ہے۔ 

لیکن ایک 8 سالہ بھائی کو ڈوبتے دیکھنے والی لڑکی کے ذہن سے وہ منظر کیسے مٹایا جائے گا؟ اور ان ماؤں کو کیا جواب دیا جائے گا جو ہر روز سرحد پر آکر صرف اتنا جاننا چاہتی ہیں کہ ان کے بچے زندہ ہیں یا نہیں؟

سبتہ میں پیدا ہونے والا اصل انسانی سوال یہی ہے: 

جب بچے کسی اجنبی سرزمین پر تنہا رہ جائیں تو سرحد کی حفاظت زیادہ اہم ہے یا ان کی زندگی؟

اصل اور بنیادی ماخذ

ایسوسی ایٹڈ پریس

سبتہ میں موجود تقریباً ایک ہزار غیر همراه بچوں، ہلاکتوں، لاپتا خاندانوں اور پناہ گاہوں کی صورتحال پر بنیادی رپورٹ۔

اصل رپورٹ دیکھیے

لاس اینجلس ٹائمز

ایسوسی ایٹڈ پریس کی تفصیلی رپورٹ کا مکمل اشاعتی ورژن۔

مکمل رپورٹ دیکھیے