کانگو کا 29 سالہ ویزا بونڈیلے کئی ماہ سے تنخواہ کے بغیر جان خطرے میں ڈال رہا ہے، 13 کلومیٹر پیدل اسپتال پہنچ گیا
مشرقی کانگو میں ایبولا کی تیزی سے پھیلتی وبا کے دوران ویزا بونڈیلے روزانہ مریضوں اور طبی عملے کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتا ہے۔
کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باوجود اس نے ذمہ داری نہیں چھوڑی۔
ایک روز پٹرول خریدنے کے پیسے نہ تھے تو ٹوٹے جوتوں کے ساتھ 13 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچ گیا۔
اس صبح ویزا بونڈیلے حسب معمول موٹر سائیکل پر اسپتال جا رہا تھا کہ راستے میں ایندھن ختم ہوگیا۔
جیب میں پٹرول خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔
اس نے موٹر سائیکل پڑوسیوں کے پاس چھوڑی اور پیدل چل پڑا۔
منزل 13 کلومیٹر دور تھی۔
راستے میں اس کے جوتے بھی ٹوٹ گئے، مگر اس کے قدم نہیں رکے۔
بونڈیلے کسی محفوظ دفتر میں ملازمت نہیں کرتا۔
اس کی منزل مشرقی کانگو کے صوبہ ایتوری کا ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹر تھا، جہاں وہ روزانہ جان لیوا وائرس کا سامنا کرتا ہے۔
وہ آلودہ جگہوں کو جراثیم سے پاک کرتا، آنے والوں کا درجہ حرارت جانچتا اور ہاتھ دھونے سمیت حفاظتی اقدامات پر عمل یقینی بناتا ہے۔
ذرا سی غلطی اسے بھی مریض بنا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ خطرناک ذمہ داری کئی ماہ سے بلا معاوضہ انجام دی جا رہی ہے۔
مئی کے وسط میں وبا سامنے آنے پر بونڈیلے اور دوسرے کارکنوں کو ماہانہ 510 ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر مہینے گزرنے کے باوجود بیشتر کو رقم نہیں ملی۔
لوگوں کو بیماری سے بچانے والا یہ نوجوان اب اپنے مکان کا کرایہ، کھانا، پانی اور سفر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے جد و جہد کر رہا ہے۔
اسے اپنی اہلیہ، بچے اور بعض رشتہ داروں کی کفالت بھی کرنا پڑتی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کانگو میں یہ وبا غیر معمولی رفتار سے پھیل رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار میں 4 ہزار سے زیادہ مصدقہ کیس اور 1800 سے زیادہ اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں۔
✦ اہم نکات ⌄
- 29 سالہ ویزا بونڈیلے کانگو کے صوبہ ایتوری میں ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹر میں کام کرتا ہے۔
- اسے ماہانہ 510 ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا، مگر کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔
- موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہونے پر وہ 13 کلومیٹر پیدل اسپتال پہنچا۔
- راستے میں جوتے ٹوٹنے کے باوجود اس نے اپنی ڈیوٹی نہیں چھوڑی۔
یہ ملک کی دوسری سب سے بڑی ایبولا وبا ہے۔
اس مرتبہ بنڈی بگیو وائرس پھیل رہا ہے، جس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔
تقریباً 90 فیصد کیس ایتوری میں سامنے آئے ہیں، ایک ایسا علاقہ جو پہلے ہی مسلح تنازع اور کمزور طبی نظام کا شکار ہے۔
بونڈیلے 2018 کی ایبولا وبا میں بھی کام کر چکا ہے۔
وائرس دوبارہ پھیلا تو وہ اپنے تجربے سے لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے واپس آگیا۔
مگر یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔
طبی معاونین، ڈرائیوروں، جراثیم کش عملے اور محفوظ تدفین کرنے والی ٹیموں سمیت سیکڑوں کارکن تنخواہوں کے منتظر ہیں۔
کچھ نے احتجاجاً ہڑتال کی، جس سے ایسے وقت میں علاج اور نگرانی متاثر ہوئی جب وائرس روکنے کے لئے ہر تربیت یافتہ فرد ضروری تھا۔
◷ ایک منٹ میں کہانی ⌄
مشرقی کانگو میں ایبولا سے لڑنے والا ویزا بونڈیلے کئی ماہ سے تنخواہ کا منتظر ہے۔ ایک صبح موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہوگیا اور جیب میں ایندھن خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔
اس نے موٹر سائیکل پڑوسیوں کے پاس چھوڑی اور 13 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچ گیا۔ راستے میں اس کے جوتے بھی ٹوٹ گئے، مگر اس نے ڈیوٹی نہیں چھوڑی۔
اس کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ وباؤں کے خلاف اصل جنگ اکثر ایسے مقامی کارکن لڑتے ہیں جنہیں تنخواہ، تحفظ اور بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہوتیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی فہرستوں میں غیر متعلقہ نام شامل ہونے کے باعث دوبارہ جانچ اور ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی۔
موبائل منی کے ذریعے رقم بھیجنے کا نظام شروع کیا گیا، مگر بونڈیلے کے مطابق چند لوگوں کو ہی ادائیگی ہوئی اور بعض کو پوری رقم نہیں ملی۔
سرکاری وضاحت اپنی جگہ، لیکن کارکنوں کے گھروں میں ہر دن ایک نئی آزمائش بن کر آتا ہے۔
وبا کے خلاف جنگ صرف دوا اور تنخواہ کی کمی تک محدود نہیں۔
بعض لوگ ایبولا کو افواہ سمجھتے یا طبی کارکنوں پر بیماری سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگاتے ہیں۔ محفوظ تدفین کے اصول خاندانوں کو میت چھونے سے روکتے ہیں، جس سے مقامی روایات اور طبی ضرورت میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔
مشتعل افراد علاج گاہوں، اسپتالوں اور تدفین کرنے والی ٹیموں پر حملے کر چکے ہیں۔
⬢ فیکٹ باکس ⌄
بونڈیلے کو بھی آگاہی مہم کے دوران دھمکیاں ملی ہیں اور کبھی حملہ آوروں سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑا۔
اس کے باوجود وہ کام چھوڑنے پر آمادہ نہیں، کیونکہ تربیت یافتہ کارکن پیچھے ہٹ گئے تو وبا مزید خاندانوں تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم جذبہ اور فرض شناسی کسی انسان کے گھر کا کرایہ یا بچے کا کھانا ہمیشہ ادا نہیں کر سکتے۔
ٹوٹے جوتوں کے ساتھ 13 کلومیٹر پیدل اسپتال پہنچنے والے بونڈیلے کی کہانی صرف غیر معمولی قربانی کا واقعہ نہیں بلکہ انسانی امداد کے نظام سے ایک تلخ سوال بھی ہے۔
دنیا وباؤں سے لڑنے والے مقامی کارکنوں کو ہیرو کہتی ہے، مگر کیا صرف ہیرو قرار دینا کافی ہے؟
◆ یہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
وباؤں کو روکنے کا بیشتر انحصار مقامی طبی اور امدادی کارکنوں پر ہوتا ہے۔
عدم ادائیگی سے ہڑتالیں، عملے کی کمی اور مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے۔
کارکنوں کو ہیرو قرار دینے کے ساتھ ان کی تنخواہ، تحفظ اور ضروری سہولتیں بھی یقینی بنانا ہوں گی۔
بونڈیلے آج بھی اسپتال جا رہا، مریضوں کی حفاظت کر رہا اور خود وائرس کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
ایبولا سے جنگ شاید وہ جاری رکھے، لیکن اس جنگ کو جیتنے کے لئے صرف اس کا حوصلہ کافی نہیں، اس کی محنت کی بروقت قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔