امریکی طبی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کا جاری تیز پھیلاؤ ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ صورتحال 2014ء اور 2016ء کے دوران مغربی افریقہ میں آنے والی بدترین لہر جیسی ہو سکتی ہے۔ ماضی کی اس وباء میں 11 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے جبکہ 28 ہزار سے زائد متاثر ہوئے تھے۔
امراض کی روک تھام کے امریکی مرکز نے کمپیوٹر ماڈلز پر مبنی اپنا نیا تجزیہ جاری کیا ہے جس میں مختلف منظرنامے پیش کیے گئے ہیں۔
پہنچ سکتی ہے جس کا انحصار مریضوں کو الگ کرنے کی رفتار پر ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے کی شرح کم رہی تو کیسز بڑھ جائیں گے۔
ایبولا رسپانس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ساتیش پیلا نے کہا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر طبی مداخلت نہ کی گئی تو یہ لہر ماضی کے بڑے وبائی بحران کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کی ماہر وبائی امراض جینیفر نوزو کے مطابق موجودہ صورتحال ایک خطرناک رخ پر جا رہی ہے، جس کے لیے اضافی اقدامات ضروری ہیں۔
تاہم انہوں نے محدود ڈیٹا کی وجہ سے وبائی امراض کی پیش گوئی کو ایک پیچیدہ عمل قرار دیا ہے۔
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 400 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 63 اموات شامل ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو تاحال رپورٹ نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایبولا وائرس خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور اس کی شرح اموات انتہائی بلند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ لہر کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے مئی میں اس وباء کو عالمی طبی ایمرجنسی قرار دیا تھا جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فروری میں شروع ہوئی تھی۔
ابتدائی مراحل میں حکام وائرس کی کسی دوسری قسم کے ٹیسٹ کرنے میں مصروف رہے تھے۔
جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں سے وباء پر قابو پانے میں مشکلات ہیں۔
حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔
داعش سے وابستہ الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز کے حملوں نے بھی طبی ٹیموں کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں اور بے امنی کی وجہ سے مریضوں کی تلاش، ان کی نگرانی اور متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے جس سے وباء پھیل رہی ہے۔
امریکی سی ڈی سی کے ماڈلز میں اموات کی تعداد اور کیسز کی تشخیص کی رفتار جیسے عوامل کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مریضوں کو الگ کرنے کی اصل شرح ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن اسے کم ہی تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریضوں کو الگ تھلگ کرنے کی شرح 70 فیصد تک بڑھا دی جائے تو کیسز 10 ہزار تک محدود رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر رپورٹ شدہ اموات کی صورت میں حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
حکام نے یاد دلایا کہ وبائی ماڈلز ہمیشہ 100 فیصد درست نہیں ہوتے جیسا کہ 2014ء میں 14 لاکھ کیسز کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم موجودہ لہر کا مستقبل عالمی برادری کے فوری ردعمل اور موثر اقدامات پر منحصر ہے۔