باب المندب میں مال بردار جہاز ’تہامہ‘ پر مبینہ حوثی میزائل حملوں میں 3 پاکستانی اور ایک انڈونیشی ملاح سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے۔
پاکستان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے میتوں کی وطن واپسی اور زخمی پاکستانی کی مدد کے لیے سعودی اور یمنی حکام سے رابطہ شروع کردیا ہے۔
وہ کسی جنگی محاذ پر تعینات نہیں تھے بلکہ ایک تجارتی جہاز کے عملے کا حصہ تھے۔
مگر باب المندب میں 3 پاکستانی ملاحوں کا سفر اس وقت موت میں بدل گیا جب مال بردار جہاز ’تہامہ‘ کو مبینہ حوثی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
حملوں میں 3 پاکستانیوں سمیت 6 افراد جان سے گئے اور 10 زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔
جہاز اور امدادی ٹیم پر حملہ
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق ’تہامہ‘ پر مسلسل 3 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جس سے جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور عملے نے اس پر قابو کھو دیا۔
3 پاکستانی اور ایک انڈونیشی ملاح جاں بحق ہوئے۔
امدادی ٹیمیں باقی افراد کو نکالنے پہنچیں تو ایک اور حملہ کیا گیا، جس میں یمنی فورسز کے دو اہلکار بھی جان سے گئے۔
10 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 11 پاکستانی اور انڈونیشی ملاح بچا لئے گئے۔
مزید پڑھیں
رائٹرز نے تصاویر، سیٹلائٹ مناظر اور بحری ریکارڈ کے تقابل سے جہاز کی شناخت ’تہامہ‘ کے طور پر کی۔
تاحال جاں بحق پاکستانیوں کے نام اور آبائی علاقوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
یہ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حوثی بحری حملوں میں پہلی تصدیق شدہ انسانی ہلاکتیں بھی سمجھی جارہی ہیں۔
پاکستان کا سخت ردعمل
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کی۔
ان کے مطابق ایسے حملے بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالتے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے اور آزاد جہاز رانی و سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے پاکستانی سفارت خانے کو میتیں وطن لانے، زخمی شہری کی مدد اور سعودی و یمنی حکام سے فوری رابطے کی ہدایت کی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX ’تہامہ‘ حملہ — فیکٹ باکس ⌄
- مقام
- باب المندب، بحیرہ احمر کا جنوبی دہانہ
- متاثرہ جہاز
- تجارتی جہاز ’تہامہ‘
- مبینہ میزائل حملے
- 3
- پاکستانی اموات
- 3 ملاح
- انڈونیشی اموات
- ایک ملاح
- یمنی امدادی اہلکار
- 2 جاں بحق
- مجموعی اموات
- 6 افراد
- مجموعی زخمی
- 10، ایک پاکستانی سمیت
- بچائے گئے افراد
- 11 پاکستانی و انڈونیشی ملاح
- پاکستانی ردعمل
- حملے کی شدید مذمت؛ میتوں کی واپسی اور زخمی شہری کی مدد کے احکامات
حوثیوں کا دعویٰ، مگر اہم ابہام
حوثیوں نے بعد میں سعودی فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا۔
دوسری جانب یمنی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ’تہامہ‘ خوراک اور شہری ضروریات کا سامان لے جا رہا تھا۔
بحری کمپنی امبری کے مطابق جہاز سعودی ملکیت نہیں تھا، اس لیے حوثیوں کے دعوے کا ’تہامہ‘ سے تعلق ابھی ثابت نہیں۔
پاکستانی ملاحوں کو ان کی قومیت کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرہند سے ملاتا ہے۔
اس راستے کی بدامنی تجارت کو طویل سفر، مہنگے ایندھن اور زیادہ انشورنس کی طرف دھکیلتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ حملوں کے بعد یہاں جہازوں کی آمدورفت 50 فیصد سے زیادہ کم ہوئی، حالیہ اوسط صرف 32 جہاز روزانہ ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSIS پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ صرف ایک غیر ملکی جہاز پر حملہ نہیں؛ واقعے نے بیرونِ ملک پاکستانی ملاحوں کے تحفظ اور اسلام آباد کی بحری پالیسی کے سامنے نئے سوالات رکھ دیے ہیں:
پاکستان کی ’ریڈ لائن‘ کا امتحان
پاکستانی دفتر خارجہ نے 23 جولائی کو کہا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا ملکی سمندری مفادات کے خلاف دشمنانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔
ترجمان نے اسے پاکستان کی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تھا۔
لیکن ’تہامہ‘ پاکستانی ملکیتی یا پاکستانی پرچم بردار جہاز نہیں تھا۔
اس لیے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے باوجود یہ واقعہ خودکار طور پر پاکستان پر مسلح حملہ قرار نہیں پاتا۔
تاہم اس نے اہم سوال پیدا کردیا ہے:
کیا پاکستان کا سمندری مفاد صرف پاکستانی پرچم والے جہاز تک محدود ہے، یا غیر ملکی جہازوں پر کام کرنے والے پاکستانی ملاح بھی اس تحفظ میں شامل ہیں؟
✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ نکات
- متاثرہ تجارتی جہاز کی شناخت ’تہامہ‘ کے نام سے کی گئی ہے۔
- 3 پاکستانی اور ایک انڈونیشی ملاح جاں بحق ہوئے۔
- ایک پاکستانی سمیت 10 افراد زخمی اور 11 ملاح بچائے گئے۔
- پاکستان نے حملے کی مذمت اور متاثرین کی مدد کے احکامات جاری کیے۔
تاحال غیر ثابت
- جہاز پر موجود سامان کی مکمل اور آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
- یہ ثابت نہیں کہ حوثیوں کا فوجی سامان والے جہاز کا دعویٰ ’تہامہ‘ ہی سے متعلق تھا۔
- اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستانیوں کو قومیت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
- تحقیقات، ذمہ داری اور ممکنہ معاوضے کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اہم احتیاط: یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے جہاز پر خوراک اور شہری سامان ہونے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ حوثیوں نے سعودی فوجی سامان کا دعویٰ کیا؛ دونوں دعووں میں واضح اختلاف موجود ہے۔
اسلام آباد کو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت، ایران سے تعلقات اور تہران و واشنگٹن کے درمیان اپنی ثالثی میں بھی توازن رکھنا ہے۔
بہت نرم ردعمل اندرون ملک تنقید پیدا کرسکتا ہے، جبکہ فوری فوجی زبان پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
فوری ترجیح میتیں وطن لانا، زخمی شہری کی مدد اور متاثرہ خاندانوں کو معلومات دینا ہے۔ لیکن اصل امتحان اس کے بعد ہوگا:
کیا پاکستان صرف مذمت تک محدود رہے گا، یا پاکستانی ملاحوں کے تحفظ، واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کی جواب دہی کے لیے عملی اقدامات بھی کرے گا؟
↗ OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع
متضاد دعووں کو الگ رکھتے ہوئے صرف قابلِ نسبت اور دستیاب معلومات شامل کی گئی ہیں۔