براہ راست نشریات

ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملے، تیل رسد نئے بحران کے دہانے پر ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz tanker attacks

آبنائے ہرمز اور عمان کے ساحل کے قریب چند روز کے دوران متعدد تیل بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائلز سے متاثر ہوئے ہیں۔ تازہ واقعے میں عملہ محفوظ رہا جبکہ حملے کے ذمہ دار کا تعین نہیں ہوسکا۔
ہرمز سے تیل اور ایل این جی کی بڑی عالمی ترسیل وابستہ ہے، اس لیے حملوں کا تسلسل جہاز رانی، انشورنس، توانائی کی قیمتوں اور پاکستان سمیت درآمدی ممالک پر اثر ڈال سکتا ہے۔

خلیج کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی تشویش کا مرکز بن گئی ہے۔ 

چند روز کے دوران تیل بردار جہازوں پر ہونے والے پے در پے حملوں نے نہ صرف بحری سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اگلا خطرناک محاذ کہیں یہی اہم سمندری راستہ تو نہیں۔

تازہ واقعہ آج ہفتہ 3 اکتوبر کو سامنے آیا، جب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے UKMTO کے مطابق عمان کے مشرق میں تقریباً 4 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک خام تیل بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے متاثر ہوا۔ 

ابتدائی اطلاعات میں عملے کو محفوظ بتایا گیا جبکہ فوری طور پر کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع بھی نہیں ملی۔ 

حملہ آور اور پروجیکٹائل کی نوعیت ابھی واضح نہیں۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. عمان کے قریب ایک خام تیل بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے متاثر ہوا، جبکہ عملہ محفوظ رہا۔

2. اس سے چند روز پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین دیگر آئل ٹینکر بھی نامعلوم پروجیکٹائلز کا نشانہ بنے تھے۔

3. کسی حملے کی ذمہ داری ابھی مصدقہ طور پر کسی ملک یا تنظیم پر عائد نہیں کی گئی۔

4. اصل خطرہ ہرمز کی بندش سے پہلے جہاز رانی، انشورنس اور عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی غیر یقینی ہے۔

یہ واقعہ تنہا نہیں۔ 

چند روز پہلے میری ٹائم انٹیلی جنس سروس Marisks کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین لائبیریا کے پرچم بردار آئل ٹینکروں کو نامعلوم پروجیکٹائلز نے نشانہ بنایا تھا۔ 

ان حملوں کی ذمہ داری بھی کسی فریق نے قبول نہیں کی اور پروجیکٹائلز کے ماخذ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

مزید پڑھیں

ہرمز کی اہمیت اتنی زیادہ کیوں؟

آبنائے ہرمز محض ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی نظام کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

جنگ سے پہلے دنیا کے خام تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ 

ایران کے علاوہ سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر

کی توانائی برآمدات بھی کسی نہ کسی صورت اس گزرگاہ سے منسلک ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی ایک ٹینکر پر حملہ بھی فوری طور پر عالمی منڈیوں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ 

🚨 تازہ واقعہ — عمان کے قریب کیا ہوا؟

3 اکتوبر کو رپورٹ ہونے والے واقعے میں عمان کے مشرق میں تقریباً چار ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک خام تیل بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے متاثر ہوا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور فوری طور پر بڑے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حملہ آور اور استعمال ہونے والے پروجیکٹائل کی نوعیت تاحال واضح نہیں کی گئی۔

اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مسئلہ صرف جہازوں کی سلامتی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ انشورنس، مال برداری کی لاگت، توانائی کی رسد اور تیل کی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی کا سایہ

حالیہ حملے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔ 

رائٹرز کے مطابق ایران ممکنہ نئے بڑے امریکی حملوں کی صورت میں پہلے سے سخت ردعمل کی تیاری کررہا ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں جانب بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔

دوسری طرف امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافے کے اقدامات کیے ہیں۔ 

🛢️ یہ اکیلا واقعہ نہیں — تین ٹینکر پہلے بھی نشانے پر

اس تازہ واقعے سے چند روز پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین لائبیریا پرچم بردار آئل ٹینکروں کو نامعلوم پروجیکٹائلز نے نشانہ بنایا تھا۔

ان حملوں کی ذمہ داری بھی کسی فریق نے قبول نہیں کی اور پروجیکٹائلز کے ماخذ کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اسی تسلسل نے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے خطرے کو ایک الگ واقعے کے بجائے وسیع تر سکیورٹی مسئلہ بنا دیا ہے۔

یکم اکتوبر کی رپورٹس میں تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے اور مزید فوجیوں کی مشرق وسطیٰ منتقلی کا ذکر کیا گیا۔

تاہم ابھی تک حالیہ ٹینکر حملوں کو کسی مخصوص ملک یا تنظیم سے جوڑنے کے لیے مصدقہ شواہد سامنے نہیں آئے۔ 

اس لیے ان واقعات کو براہ راست کسی ایک فریق کی کارروائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

تیل کی قیمت بھی دباؤ میں

بحری سلامتی کی تشویش ایسے وقت بڑھ رہی ہے جب عالمی تیل منڈی پہلے ہی جغرافیائی سیاسی اور رسدی خطرات کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

یکم اکتوبر کو برینٹ خام تیل 4.28 ڈالر اضافے کے بعد 102.31 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 92.87 ڈالر تک پہنچ گیا۔ 

قیمتوں میں اضافے کے عوامل میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی نقل و حرکت، ایران کے ساتھ کشیدگی اور چین کی جانب سے بعض ایندھن برآمدات روکنے کی اطلاعات شامل تھیں۔

🌍 آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی تیل و گیس برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

جنگ سے پہلے عالمی خام تیل اور ایل این جی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔

اسی لیے یہاں کسی ایک ٹینکر پر حملہ بھی انشورنس، مال برداری، توانائی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اگر ہرمز میں مزید تجارتی جہاز متاثر ہوئے تو جہاز ران کمپنیوں کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگی خطرے کی انشورنس مہنگی ہونے، سفر مؤخر ہونے یا بحری تحفظ کے اضافی انتظامات کی ضرورت پیدا ہونے کا امکان رہے گا۔

ایک طرف حملے، دوسری طرف جہاز رانی میں بحالی

دلچسپ امر یہ ہے کہ حملوں کے باوجود حالیہ ہفتوں میں ہرمز سے توانائی کی ترسیل دوبارہ بڑھ رہی تھی۔

ستمبر میں آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئی۔ 

مختلف اعداد و شمار کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات سے کم از کم 19 سے 21 ایل این جی کارگو اس راستے سے گزرے۔ 

💰 تیل 100 ڈالر سے اوپر — مارکیٹ پہلے ہی دباؤ میں

یکم اکتوبر کو برینٹ خام تیل 102.31 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی WTI کی قیمت 92.87 ڈالر رہی۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، امریکی فوجی نقل و حرکت اور رسد کے خدشات پہلے ہی قیمتوں پر دباؤ بڑھا رہے تھے۔

اگر ہرمز میں مزید تجارتی جہاز متاثر ہوئے تو مارکیٹ میں خطرہ پریمیم مزید بڑھ سکتا ہے۔

بعض جہازوں نے سکیورٹی خدشات کے دوران اپنا AIS ٹریکنگ نظام بھی بند رکھا۔

اسی طرح مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات بھی ستمبر میں بحال ہوئیں اور ہرمز سے تقریباً 9.7 ملین بیرل یومیہ خام تیل گزرنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

یعنی تجارت مکمل طور پر رکی نہیں، لیکن ہر نیا حملہ اس بحالی کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔

خلیج اور سعودی عرب کے لیے کیا معنی؟

سعودی عرب نے طویل عرصے سے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر تک تیل پہنچانے والے متبادل راستوں پر سرمایہ کاری کی ہے، لیکن پورے خلیج کی توانائی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل دستیاب نہیں۔

⚔️ امریکہ ایران کشیدگی کا سایہ

حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔

ایران نے بڑے امریکی حملے کی صورت میں سخت تر ردعمل کی تیاری کے اشارے دیے ہیں، جبکہ واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

اہم بات: ابھی تک ٹینکر حملوں کو کسی مخصوص ملک یا تنظیم سے جوڑنے کے لیے مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آئے۔

خصوصاً قطر کی ایل این جی، عراق اور کویت کی تیل برآمدات اور خلیج کے متعدد بڑے ٹرمینلز اس راستے کی سلامتی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہرمز میں کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع سے بڑھ کر پورے خلیج کی اقتصادی اور توانائی سلامتی کا معاملہ بن جاتی ہے۔

پاکستان کیوں متاثر ہوسکتا ہے؟

پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور قطر سمیت خلیجی ممالک اس کے اہم توانائی فراہم کنندگان ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں قطر سے ہرمز کے راستے نکلنے والے ایل این جی کارگوز کی منزلوں میں پاکستان بھی شامل رہا ہے۔

🚢 ہرمز بند نہیں — جہاز رانی ابھی جاری ہے

حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی اور تیل و گیس بردار جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

اصل خطرہ اس مرحلے پر بندش سے زیادہ غیر یقینی، انشورنس لاگت اور سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہے۔

اگر حملے بڑھتے ہیں تو بعض کمپنیوں کو سفر مؤخر کرنے یا اضافی بحری تحفظ اختیار کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگر جہاز رانی مہنگی ہوتی ہے یا عالمی تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں تیزی آتی ہے تو اس کا دباؤ پاکستان کے درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت، ایندھن اور بالآخر مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔

اب اصل سوال کیا ہے؟

آنے والے دنوں میں سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ ان حملوں کی تحقیقات کیا نتیجہ دیتی ہیں اور آیا مزید تجارتی جہاز نشانہ بنتے ہیں یا نہیں۔

آبنائے ہرمز ابھی کھلی ہے اور تیل و گیس بردار جہاز اس سے گزر رہے ہیں، لیکن چند روز میں متعدد ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے نے اس گزرگاہ کی سلامتی کے بارے میں خدشات ضرور بڑھا دیے ہیں۔

🔥 حملوں کے باوجود ایل این جی ٹریفک میں بحالی

ستمبر میں آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین ماہانہ سطح تک پہنچی۔

قطر اور متحدہ عرب امارات سے کم از کم 19 سے 21 ایل این جی کارگو اس راستے سے گزرے۔

بعض جہازوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا AIS ٹریکنگ نظام بند رکھا، جو موجودہ خطرے کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

دنیا کی توانائی منڈی کے لیے اصل خطرہ صرف کسی ایک ٹینکر کو پہنچنے والا نقصان نہیں، بلکہ وہ غیر یقینی ہے جو ہر نئے حملے کے ساتھ تیل، تجارت اور عالمی معیشت تک پہنچ سکتی ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — عمان کے قریب آئل ٹینکر پر حملہ:
خام تیل بردار جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے متاثر، عملہ محفوظ۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — ہرمز میں تین ٹینکروں پر حملے:
تین لائبیریا پرچم بردار آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائلز سے متاثر۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — ہرمز سے قطر کی ایل این جی آمدورفت:
ایل این جی کارگو کی بحالی، پاکستان سمیت مختلف منزلیں۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — تیل کی قیمت اور خطے میں کشیدگی:
برینٹ 102.31 ڈالر، امریکی فوجی نقل و حرکت اور ایران سے کشیدگی کے اثرات۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — ایران کا ممکنہ ردعمل:
ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کے سخت تر ردعمل کی تیاری اور سفارتی تعطل۔
اصل خبر کھولیں