محمد محسن اقبال
اسلام آباد
پاکستان کی معیشت درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کے باعث خلیج میں پیدا ہونے والے ہر بڑے بحران سے براہِ راست متاثر ہوتی رہی ہے۔
1980ء کی ایران۔عراق جنگ، 1990ء میں کویت پر عراقی حملہ اور 2003ء کی عراق جنگ نے مختلف شدت کے معاشی جھٹکے دیے۔
آج آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی ایک مرتبہ پھر اس بنیادی کمزوری کو نمایاں کررہی ہے۔
مستقبل کے بحرانوں سے بچنے کے لیے پاکستان کو توانائی کے متنوع ذرائع، اسٹریٹجک ذخائر، جدید ریفائنریوں اور قابلِ تجدید توانائی پر توجہ دینا ہوگی۔
خلیج کی تاریخ بے پناہ دولت، تزویراتی کشمکش اور بار بار بھڑک اٹھنے والے تنازعات سے عبارت ہے۔
مگر اس خطے میں اٹھنے والی جنگوں اور بحرانوں کی گونج کبھی اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔
جب بھی کسی تنازع کے باعث تیل کی پیداوار متاثر ہونے یا سمندری راستوں کی سلامتی خطرے میں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے، اس کے اثرات دنیا کے دور دراز خطوں تک پھیل جاتے ہیں۔ قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں، رسد غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے اور میدانِ جنگ سے کوسوں دور معیشتوں کو بھی اس بحران کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان کی دوہری آزمائش کیا ہے؟
پاکستان کے لیے خلیجی بحران صرف مہنگے تیل کا مسئلہ نہیں۔ پہلی آزمائش توانائی کی قیمت اور رسد ہے، جبکہ دوسری بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر سے جڑی ہوئی ہے۔
اگر تیل مہنگا ہو تو درآمدی بل بڑھتا ہے، اور اگر خلیجی معیشتیں دباؤ میں آئیں تو روزگار اور ترسیلاتِ زر پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اسی لیے خلیج میں بڑا بحران پاکستان کے لیے بیک وقت توانائی اور زرِ مبادلہ دونوں کا چیلنج بن سکتا ہے۔
پاکستان بھی بارہا اس صورتِ حال کے اثرات سے دوچار ہوا ہے۔
اگرچہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان خلیج سے نسبتاً دور ہے، لیکن اس کی معیشت درآمدی تیل اور گیس پر گہرا انحصار رکھتی ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرنے والے لاکھوں پاکستانی وطنِ عزیز کو ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، جو ملک کے لیے زرِ مبادلہ کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہیں۔
چنانچہ خطے میں پیدا ہونے والا ہر بڑا بحران پاکستان کے لیے بیک وقت دو باہم جڑے ہوئے چیلنج لے کر آتا ہے:
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ترسیلاتِ زر کے متاثر ہونے کا خطرہ۔
مزید پڑھیں
1980ء میں شروع ہونے والی ایران۔عراق جنگ نے پاکستان کی اس کمزوری کی ابتدائی اور واضح تصویر پیش کی۔
ایران اور عراق دونوں بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک تھے، لیکن جنگ نے ان کی پیداواری اور برآمدی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی رسد کم ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان نے حقیقت پسندانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران اور عرب خلیجی ریاستوں، دونوں کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کیا۔
تیل کی بلند قیمتوں نے پاکستان کے درآمدی بل پر خاصا دباؤ ڈالا، بالخصوص اس لیے کہ ملک میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت محدود تھی۔ تاہم خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں تیز رفتار اضافے نے معیشت کو ایک اہم سہارا فراہم کیا۔
1980ء — ایران۔عراق جنگ نے کیا سبق دیا؟
ایران اور عراق دونوں بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک تھے۔ جنگ سے پیداوار اور برآمدی تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے بعد عالمی تیل منڈی دباؤ میں آئی۔
پاکستان نے اس دور میں ایران، عرب خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سفارتی توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔
بحران نے واضح کیا کہ درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار پاکستان کی مستقل معاشی کمزوری ہے۔
1980ء کی دہائی کے آغاز تک ترسیلاتِ زر زرِ مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی تھیں، جنہوں نے تجارتی خسارے کی مالی معاونت اور ملکی طلب کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی تعاون بھی جاری رکھا اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو بھی برقرار رکھا۔
اس بحران نے پاکستان کو یہ سبق دیا کہ سفارتی لچک اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کس قدر اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بنیادی کمزوری بھی آشکار ہوئی:
پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر حد درجہ انحصار کرتا ہے۔
ایک دہائی بعد، اگست 1990ء میں عراق کا کویت پر حملہ پاکستان کے لیے اس سے بھی زیادہ سنگین آزمائش بن کر سامنے آیا۔
عالمی منڈی سے عراقی اور کویتی تیل کی برآمدات تقریباً غائب ہو جانے کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
پاکستان اس بحران سے خصوصی طور پر متاثر ہوا کیونکہ کویت اس کے لیے پٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم فراہم کنندہ تھا۔
ترسیلاتِ زر نے معیشت کو کیسے سہارا دیا؟
1980ء کی دہائی کے آغاز میں خلیجی ممالک میں پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر تیزی سے اہم ہوتی گئیں۔
ان رقوم نے زرِ مبادلہ کی فراہمی، تجارتی خسارے کی مالی معاونت اور اندرونِ ملک طلب برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔
یوں ایک طرف مہنگے تیل نے دباؤ بڑھایا، دوسری طرف خلیج سے آنے والی ترسیلاتِ زر نے اسی بحران کے اثرات کو جزوی طور پر نرم کیا۔
اسلام آباد کو سعودی عرب، ایران، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوشش کرنا پڑی۔
تیل کا درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ گیا، زرِ مبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ میں آگئے اور کویت سے آنے والی ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہوئیں۔
اگرچہ بعد ازاں خلیج کی دیگر ریاستوں نے اس نقصان کے بڑے حصے کی تلافی میں مدد فراہم کی، لیکن اس بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے واضح کردی کہ خلیج میں رونما ہونے والے واقعات کتنی تیزی سے پاکستان کے لیے معاشی ہنگامی صورتِ حال اختیار کرسکتے ہیں۔
حکومت نے ابتدا میں یہ کوشش کی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ ملکی صارفین پر منتقل نہ کیا جائے، لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں قومی خزانے پر دباؤ بڑھتا گیا۔
ہنگامی بنیادوں پر تیل کی خریداری، قلیل مدتی مالی انتظامات، سفارتی کوششیں اور ادائیگیوں میں سہولت جیسے اقدامات ناگزیر ہوگئے۔
بالآخر جنگ کے خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے کچھ سکون فراہم کیا، لیکن بنیادی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہی:
پاکستان کی معیشت خلیج کے عدم استحکام اور سمندری توانائی کے راستوں میں کسی بھی خلل کے لیے غیر معمولی حد تک حساس ہے۔
1990ء — کویت بحران زیادہ سنگین کیوں تھا؟
عراق کے کویت پر حملے کے بعد عراقی اور کویتی تیل کی برآمدات میں شدید خلل آیا اور خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔
پاکستان کے لیے مسئلہ اس لیے بھی بڑا تھا کہ کویت پٹرولیم مصنوعات کا اہم فراہم کنندہ تھا۔
اسلام آباد کو سعودی عرب، ایران، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑے، جبکہ درآمدی بل اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا۔
خلیج میں کشیدگی
پاکستان کے تیل
کے درآمدی بل،
مہنگائی اور
زرِ مبادلہ کے
ذخائر پر فوری
دباؤ ڈال سکتی ہے
2003ء میں عراق پر امریکی حملے نے نسبتاً کم شدت کا معاشی جھٹکا پیدا کیا۔
عراق کی تیل کی برآمدات پہلے ہی پابندیوں کے باعث محدود تھیں، اس لیے رسد میں فوری کمی 1990ء کے بحران جتنی ڈرامائی نہیں تھی۔
اس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا، جس سے پاکستان کی درآمدی لاگت بڑھ گئی۔اس مرتبہ پاکستان 1990ء کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں قدرے بہتر تیاری کے ساتھ موجود تھا۔
زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آچکی تھی، جبکہ نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات نے اضافی مالی اور سفارتی معاونت بھی فراہم کی۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نسبتاً بروقت ردوبدل کیا۔
اگرچہ معیشت کو توانائی کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اس شدید زرِ مبادلہ کے بحران سے محفوظ رہی جس کا سامنا گزشتہ خلیجی تنازع کے دوران ہوا تھا۔
آج بھی، تاہم، بنیادی کمزوری بڑی حد تک برقرار ہے۔
قیمتیں روکنے کی کوشش کا بوجھ کہاں گیا؟
1990ء کے بحران میں حکومت نے ابتدا میں عالمی قیمتوں کا مکمل بوجھ فوری طور پر صارفین پر منتقل نہ کرنے کی کوشش کی۔
اس پالیسی سے قومی خزانے پر دباؤ بڑھا اور ہنگامی تیل خریداری، قلیل مدتی مالی انتظامات، سفارتی رابطے اور ادائیگیوں میں سہولت جیسے اقدامات ضروری ہوگئے۔
جنگ کے خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے وقتی سکون دیا، مگر بنیادی کمزوری برقرار رہی۔
ایران، امریکہ یا خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان سنگین تصادم نے آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
پاکستان اپنے خام تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے لیے اس راستے پر نمایاں حد تک انحصار کرتا ہے۔
اس راستے میں طویل تعطل قومی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرسکتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان نے ماضی میں ہنگامی بنیادوں پر تیل کی خریداری، سفارتی توازن، دوست ممالک کی معاونت اور اندرونِ ملک قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے ایسے بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے۔
یہ اقدامات وقتی ریلیف تو فراہم کرسکتے ہیں، لیکن طویل المدتی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں بن سکتے۔
پاکستان کو اس لیے ایک جامع توانائی تحفظ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
تیل اور گیس کی درآمد کے ذرائع متنوع بنائے جائیں، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کو مضبوط کیا جائے اور ملک میں ریفائنری کی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے وسعت دی جائے۔
قابلِ اعتماد پیداوار کنندگان کے ساتھ طویل المدتی سپلائی معاہدے کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی توانائی، بالخصوص شمسی اور پن بجلی میں سرمایہ کاری کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔
ملک میں پیدا ہونے والی توانائی کا ہر اضافی یونٹ ہمیں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ایک قدم مزید محفوظ بناتا ہے۔
2003ء — عراق جنگ کا جھٹکا نسبتاً کم کیوں رہا؟
2003ء میں عراق کی تیل برآمدات پہلے ہی پابندیوں کے باعث محدود تھیں، اس لیے فوری رسدی جھٹکا 1990ء جتنا شدید نہیں تھا۔
پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں نسبتاً بہتری تھی اور حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی زیادہ بروقت ردوبدل کیا۔
نتیجتاً توانائی کی بلند لاگت کے باوجود پاکستان 1990ء جیسے شدید زرِ مبادلہ بحران سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔
مزید پڑھیں
سفارت کاری بھی اسی قدر اہم ہے۔
پاکستان کو ایران، سعودی عرب، امریکہ اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں، لیکن دوسروں کی باہمی رقابتوں میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز قومی معاشی مفادات، توانائی کی مسلسل فراہمی اور بیرونِ ملک روزگار کمانے والے لاکھوں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود
ہونا چاہئے۔
خلیج آئندہ بھی تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم خطہ رہے گی اور وہاں وقتاً فوقتاً عدم استحکام کے بادل منڈلاتے رہ سکتے ہیں۔
پاکستان نہ تو اپنی سرحدوں سے باہر ہونے والے تنازعات کو روک سکتا ہے اور نہ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔
البتہ وہ یہ ضرور کرسکتا ہے کہ ایسے واقعات کو اپنی معاشی تقدیر کا فیصلہ کن عامل بننے سے روک دے۔
آبنائے ہرمز پاکستان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟
مضمون کے مطابق پاکستان اپنے خام تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے راستوں پر نمایاں انحصار رکھتا ہے۔
اگر اس راستے میں طویل تعطل پیدا ہو تو مسئلہ صرف بندرگاہوں یا تیل کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا۔
توانائی کی لاگت اور رسد میں بڑا جھٹکا صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور صارفین تک منتقل ہوسکتا ہے۔
گزشتہ 4 دہائیوں کا سبق بالکل واضح ہے:
توانائی کا تحفظ ہی قومی سلامتی ہے۔
توانائی کے متنوع ذرائع، وافر ذخائر، جدید ریفائنریاں، قابلِ تجدید توانائی، دانش مندانہ معاشی نظم و نسق اور متوازن سفارت کاری پاکستان کو زیادہ مضبوط اور بحرانوں کے مقابل زیادہ باصلاحیت بنا سکتی ہے۔
خلیج کے افق پر طوفان کے بادل شاید آئندہ بھی جمع ہوتے رہیں۔
پاکستان ان طوفانوں کو روک نہیں سکتا، مگر وہ اپنی بنیادیں اتنی مضبوط ضرور بنا سکتا ہے کہ دور کہیں اٹھنے والا ہر بحران وطنِ عزیز میں معاشی طوفان بن کر نہ اترے۔