محمد محسن اقبال
اسلام آباد
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو صرف ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایسا ملک چاہا جہاں قانون کی حکمرانی، مساوی شہریت، مضبوط ادارے، دیانت، نظم و ضبط اور قومی اتحاد بنیادی اصول ہوں۔
ان کی برسی ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ ہم ان کے خواب سے کتنے قریب یا دور ہیں، اور نئی نسل اس نامکمل تعمیر کو کیسے مکمل کرسکتی ہے۔
کچھ اموات ایک زندگی کا اختتام بن جاتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو ایک پوری قوم کو ہمیشہ کے لیے ذمہ داری کا احساس دے جاتی ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات 11 ستمبر 1948ء بھی اسی دوسری قسم کا سانحہ تھی۔
برصغیر کے عظیم رہنما، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور مملکت کے معمارِ اعظم کی رحلت پر پاکستان نے محض اپنا پہلا حکمران نہیں کھویا بلکہ اس مردِ آہن کو کھو دیا جس کی بصیرت، عزم اور سیاسی تدبر نے ایک بظاہر ناممکن خواب کو حقیقت میں بدل دیا تھا۔
مگر قائداعظم کی رحلت ان کے مشن کا اختتام نہیں تھی، وہ مشن آنے والی نسلوں کے سپرد ہوگیا۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTقائداعظمؒ — اہم نکات ⌄
- ✓قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات 11 ستمبر 1948ء کو ہوئی۔
- ✓وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور مملکت کے معمارِ اعظم تھے۔
- ✓قائداعظمؒ نے آئینی جدوجہد، قانون کی بالادستی اور اصولی سیاست کو ترجیح دی۔
- ✓23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور تحریکِ پاکستان کا فیصلہ کن سنگِ میل بنی۔
- ✓ان کا تصورِ پاکستان مساوی شہریت، مضبوط اداروں، دیانت، میرٹ اور قومی اتحاد پر قائم تھا۔
- ✓ان کی برسی صرف یاد کا دن نہیں بلکہ قومی احتساب اور تجدیدِ عہد کا موقع بھی ہے۔
ہر انسان کے دل میں اپنے گھر کا خواب بسا ہوتا ہے۔
گھر محض اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ شناخت کا حصار، محبت کی پناہ گاہ، عزت کا مسکن اور مستقبل کی امید ہوتا ہے۔
ایک باپ اپنی زندگی اس گھر کی تعمیر میں کھپا دیتا ہے، اپنی آسائشیں قربان کرتا ہے اور اولاد کے لیے ایسا آشیانہ چھوڑنا چاہتا ہے جہاں آنے والی نسلیں سکون اور وقار سے زندگی گزار سکیں۔
ممکن ہے وہ ہر کمرے کی تکمیل نہ دیکھ پائے، لیکن بنیاد، دیواریں اور نقشہ چھوڑ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان بھی ایسا ہی ایک گھر ہے۔
قائداعظم اس کے معمار تھے اور ہم اس کے وارث ہیں۔
انہوں نے پاکستان ورثے میں حاصل نہیں کیا بلکہ اسے تخلیق کیا۔
ایک تیار شدہ مملکت سنبھالنے کے بجائے پہلے اس کے وجود کے لیے جدوجہد کی، اس کی پیدائش ممکن بنائی اور پھر گرتی ہوئی صحت کے باوجود اس کے ابتدائی اور انتہائی نازک دور میں قیادت کی۔
14 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والا پاکستان آسائشوں کی گود میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
وہ تاریخ کی ایک دہکتی بھٹی سے نکل کر دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔
اس کی پیدائش کے ساتھ تاریخ کی عظیم ترین انسانی ہجرتوں میں سے ایک کا المیہ بھی جڑا ہوا تھا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXقائداعظمؒ: فیکٹ باکس ⌄
لاکھوں انسان اپنے آبائی گھر، کھیت، کاروبار اور یادیں چھوڑ کر نئی سرحدوں کی طرف روانہ ہوئے۔
خاندان بچھڑ گئے، بے شمار جانیں قربان ہوئیں اور مہاجرین عزت، تحفظ اور نئی شناخت کی امید لیے پاکستان پہنچے۔
آزادی کے جشن کے پیچھے انسانی دکھوں کا ایک سمندر تھا۔
نئی ریاست کے پاس بقا کے لیے درکار انتظامی، معاشی اور ادارہ جاتی وسائل پوری طرح موجود نہیں تھے۔
وسائل محدود، صنعتی ڈھانچہ ناکافی اور لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری ایک فوری قومی چیلنج تھی۔
ایسے وقت میں قائداعظم نے گورنر جنرل کی ذمہ داری سنبھالی۔ گویا معمار نے ابھی بنیاد رکھی ہی تھی کہ پوری عمارت کی نگرانی بھی اسی کے سپرد کردی گئی۔
25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح ایک ایسے وکیل، سیاست دان اور مدبر کے طور پر ابھرے جن کی شخصیت ذہانت، نظم و ضبط، اصول پسندی اور غیر معمولی خود اعتمادی کا امتزاج تھی۔
وہ چاہتے تو ایک آسودہ اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزار سکتے تھے، مگر تاریخ نے ان کے لیے ایک مختلف اور کہیں زیادہ دشوار راستہ منتخب کیا۔
◎ OVERSEAS POST | VISIONقائداعظمؒ کا تصورِ پاکستان ⌄
قائداعظمؒ کے نزدیک آزادی صرف ایک الگ جغرافیہ حاصل کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی ریاست کی تعمیر تھی جہاں شہری وقار اور قانون کی بالادستی بنیادی اصول ہوں۔
انہوں نے سیاست میں اس یقین کے ساتھ قدم رکھا کہ آئینی جدوجہد، قانون کی بالادستی اور دلیل کے ذریعے سیاسی حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
رولٹ ایکٹ کی مخالفت ان کے اصولی سیاسی کردار کی نمایاں مثال تھی۔
وہ محض نعروں کے سیاست دان نہیں تھے۔
جذبات کے بجائے شعور، انتشار کے بجائے تنظیم اور وقتی مقبولیت کے بجائے اصول کو ترجیح دیتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب برصغیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے قابلِ اعتماد آئینی ضمانتوں کے امکانات محدود ہوتے گئے تو جناح اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی سیاسی شناخت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے الگ سیاسی بندوبست ضروری ہے۔
قائداعظم کی
برسی یاد کے ساتھ
قومی احتساب
اور تجدیدِ عہد
کا موقع بھی ہے
علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی تشخص کو فکری زبان دی تو محمد علی جناح نے اس خواب کو سیاسی نقشہ عطا کیا۔ کسی خیال کو مملکت میں تبدیل کرنے کے لیے ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس وقت بھی ثابت قدم رہے جب سمجھوتہ آسان راستہ دکھائی دے، جذبات کے طوفان میں نظم و ضبط برقرار رکھے اور کامیابی بہت دور نظر آنے کے باوجود سفر جاری رکھے۔
قائداعظم میں یہ وصف بدرجۂ اتم موجود تھا۔ وہ تنہا کھڑے ہوسکتے تھے مگر قوم سے الگ نہیں ہوتے تھے۔
مذاکرات کرتے تھے مگر اصولوں سے دستبردار نہیں ہوتے تھے۔
طریقۂ کار میں لچک پیدا کرسکتے تھے، لیکن مقصد پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور تحریکِ پاکستان کا فیصلہ کن سنگِ میل ثابت ہوئی۔
مسلم لیگ ایک مؤثر سیاسی قوت بن چکی تھی اور مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ باقاعدہ منظم تحریک میں تبدیل ہوگیا تھا۔
✦ OVERSEAS POST | HISTORYپاکستان کی پیدائش کتنی مشکل تھی؟ ⌄
- 1قیامِ پاکستان کے ساتھ عظیم انسانی ہجرت کا المیہ جڑا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ نئی سرحدوں کی طرف منتقل ہوئے۔
- 2نئی ریاست کے پاس انتظامی، معاشی اور ادارہ جاتی وسائل محدود تھے۔
- 3مہاجرین کی آبادکاری، صنعتی کمزوری اور مالی دباؤ فوری قومی چیلنج بن گئے۔
- 4فوجی اثاثوں کی تقسیم، مسئلہ کشمیر اور پڑوسی ملک کے ساتھ غیر یقینی تعلقات نے صورتِ حال مزید پیچیدہ کردی۔
- 5شدید علالت کے باوجود قائداعظمؒ نے اسی نازک دور میں ریاست کی قیادت جاری رکھی۔
مذاکرات، سیاسی کشمکش اور دباؤ کے باوجود عزم قائم رہا۔
’قائداعظم‘ کا خطاب ان کے لیے محض ایک اعزازی لقب نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد کی کمائی ہوئی سند بن گیا۔
آزادی کے بعد ان کی زندگی کا شاید سب سے کٹھن باب شروع ہوا۔ کئی دہائیاں قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں گزارنے والے رہنما کو اب ثابت کرنا تھا کہ نوزائیدہ ریاست نہ صرف زندہ رہ سکتی ہے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑی بھی ہوسکتی ہے۔
قائداعظم جانتے تھے کہ سیاسی آزادی، قومی طاقت اور مؤثر دفاع کے بغیر کمزور رہتی ہے۔ فوجی اثاثوں کی تقسیم، مسئلہ کشمیر، معاشی دباؤ اور پڑوسی ملک کے ساتھ غیر یقینی تعلقات جیسے مسائل پاکستان کے سامنے موجود تھے۔
انہوں نے ان چیلنجوں کا سامنا جذبات کے بجائے حقیقت پسندی سے کیا۔
وہ امن چاہتے تھے، مگر کمزوری کے ذریعے نہیں؛ دوستی چاہتے تھے، مگر خودمختاری کی قیمت پر نہیں۔
تاہم ان کا تصورِ پاکستان صرف دفاع اور خارجہ پالیسی تک محدود نہیں تھا۔
وہ جانتے تھے کہ کسی قوم کی حقیقی سلامتی اس کے اداروں، معیشت، تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور قومی کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
قانون کی حکمرانی، شہریوں کا وقار، منصب کو امانت سمجھنا، میرٹ اور دیانت کو ریاستی نظم کی بنیاد بنانا ان کے تصورِ مملکت کا اہم حصہ تھا۔
◷ OVERSEAS POST | TIMELINEقائداعظمؒ — مختصر تاریخی ٹائم لائن ⌄
25 دسمبر: محمد علی جناح کراچی میں پیدا ہوئے۔
23 مارچ: قراردادِ لاہور نے الگ وطن کی جدوجہد کو فیصلہ کن سیاسی سمت دی۔
14 اگست: پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔
11 اگست: دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں مساوی شہریت اور مذہبی آزادی پر زور دیا۔
11 ستمبر: قائداعظمؒ کا انتقال ہوا اور قوم اپنے بانی سے محروم ہوگئی۔
11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے ان کا خطاب ان کے تصورِ شہریت کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مساوی شہریت، مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر ان کا زور اس بات کا اظہار تھا کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں ہر شہری کو عزت، تحفظ اور برابری حاصل ہو، جہاں مختلف شناختیں ایک مشترکہ قومی شناخت کے سائے میں زندہ رہ سکیں، ریاست حقوق کی محافظ ہو اور قانون سب کے لیے ایک معیار رکھتا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قائداعظم کی برسی محض ایک تاریخی یاد نہیں رہتی بلکہ قومی احتساب کا آئینہ بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ کیا ہم نے وہ گھر اسی نقشے کے مطابق تعمیر کیا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا ہم نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنایا یا انہیں محض تقریروں اور نعروں تک محدود کردیا؟
کیا ہم نے آئینی اداروں کا احترام کیا؟
کیا ہمارے معاشرے میں دیانت داری آج بھی عزت کی علامت ہے؟
کیا ایک غریب شہری قانون کے سامنے اسی اعتماد سے کھڑا ہوسکتا ہے جس اعتماد سے ایک طاقتور شخص؟
کیا ہم نے تعلیم، سائنس، تحقیق اور صنعت میں اتنی سرمایہ کاری کی کہ حقیقی معاشی خود انحصاری حاصل کرسکیں؟
کیا سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ اختلافات نے ہماری مشترکہ قومی شناخت کو کمزور تو نہیں کردیا؟
! OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSبرسی کیوں اہم ہے؟ ⌄
قائداعظمؒ کی برسی صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں؛ یہ موجودہ پاکستان کو ان اصولوں کی روشنی میں جانچنے کا موقع ہے جن پر ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
یہ سوالات تلخ ضرور ہیں مگر ضروری بھی۔
جو قوم اپنا احتساب نہیں کرسکتی، وہ اپنی اصلاح بھی نہیں کرسکتی۔
پاکستان نے اپنی مختصر تاریخ میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، جنگیں، دہشت گردی اور قدرتی آفات جیسے بے شمار امتحانات کا سامنا کیا، مگر ہر مشکل کے باوجود قائم رہا۔ پاکستانی قوم نے بارہا ثابت کیا کہ مشکل وقت میں اس کے اندر غیر معمولی حوصلہ اور قوت پیدا ہوتی ہے۔
اس لیے پاکستان کی داستان صرف ناکامیوں کی فہرست نہیں بلکہ ایک نامکمل خواب کی داستان ہے۔
اور ناکام اور نامکمل ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
نامکمل گھر مکمل ہوسکتا ہے، کمزور ادارے مضبوط ہوسکتے ہیں، معیشت سنبھل سکتی ہے اور تقسیم کا شکار معاشرہ دوبارہ اتحاد کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
مگر اس کے لیے محض امید کافی نہیں، کردار درکار ہے۔
؟ OVERSEAS POST | SELF CHECKقومی احتساب کے سوالات ⌄
- ؟کیا ہم نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو قومی زندگی کا حصہ بنایا؟
- ؟کیا آئینی اداروں اور قانون کی بالادستی کا احترام مضبوط ہوا؟
- ؟کیا ایک غریب شہری قانون کے سامنے طاقتور شخص جتنا اعتماد رکھتا ہے؟
- ؟کیا تعلیم، سائنس، تحقیق اور صنعت میں ہماری سرمایہ کاری قومی ضرورت کے مطابق ہے؟
- ؟کیا سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ اختلافات نے مشترکہ قومی شناخت کو کمزور کیا؟
آج کی نوجوان نسل پاکستان کی اس تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس نسل نے قیامِ پاکستان کا زمانہ نہیں دیکھا، لیکن اسے وہ پاکستان ورثے میں ملا ہے جس کے لیے ایک نسل نے اپنا گھر، مال، وقت اور جان تک قربان کردی۔ اسی لیے اس کی ذمہ داری بھی غیر معمولی ہے۔
حب الوطنی محض نعرہ نہیں بلکہ طرزِ عمل ہے۔
ایمانداری سے تعلیم حاصل کرنا، محنت کرنا، قانون کی پاسداری، ٹیکس ادا کرنا، قومی املاک کی حفاظت، بدعنوانی سے انکار، دوسروں کے حقوق کا احترام اور ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینا بھی حب الوطنی ہے۔
مستقبل کا پاکستان صرف پارلیمان اور سیاسی جلسوں میں تعمیر نہیں ہوگا۔ وہ کلاس رومز، لیبارٹریوں، کھیتوں، کارخانوں، عدالتوں، ہسپتالوں اور گھروں میں تعمیر ہوگا۔
وہ نوجوان کاروباری، سائنس دان، استاد، دیانت دار افسر، قومی مفاد کو ترجیح دینے والے قانون ساز اور ذمہ داری سے اپنا فرض ادا کرنے والے عام شہری کے ہاتھوں بنے گا۔
قومیں اسی طرح عظیم بنتی ہیں۔
↗ OVERSEAS POST | NEXT GENERATIONنوجوان نسل کی ذمہ داری ⌄
آج کی نوجوان نسل نے قیامِ پاکستان کا زمانہ نہیں دیکھا، مگر اسے وہ پاکستان ورثے میں ملا ہے جس کے لیے ایک پوری نسل نے قربانیاں دیں۔
قائداعظم کا سب سے بڑا مزار سنگِ مرمر کی کوئی عمارت نہیں، خود پاکستان ہے۔
اس مزار کی ہر دیانت دار اینٹ اسے مضبوط کرتی ہے، ہر قربانی اس کی حفاظت کرتی ہے اور ہر نئی علمی و سائنسی دریافت اسے آگے لے جاتی ہے۔
اس کے برعکس ہر بدعنوانی اس میں ایک دراڑ ڈالتی ہے اور ہر تعصب اس کی دیوار کو کمزور کرتا ہے۔
یہ گھر اب ہمارا ہے۔
11 اگست 1947ء
کا خطاب ان کے
تصورِ ریاست
اور شہری حقوق
کی اہم بنیاد
سمجھا جاتا ہے
قائداعظم کی برسی صرف سوگ کا دن نہیں، احتساب کا دن بھی ہے۔
ہمیں قائداعظم کو صرف یاد نہیں کرنا بلکہ ان کے اصولوں کو زندہ کرنا ہے۔
ہمیں اختلاف چاہئے مگر دشمنی نہیں، مضبوط ادارے چاہئیں مگر تصادم نہیں، مضبوط دفاع چاہئے مگر جارحیت نہیں، ترقی چاہئے مگر انصاف کی قیمت پر نہیں، ایمان چاہئے مگر عدم برداشت کے بغیر، جمہوریت چاہئے مگر انتشار کے بغیر۔
اور سب سے بڑھ کر ایسی حب الوطنی چاہئے جس میں پاکستان ذاتی مفادات سے بلند ہو۔زندگی کے آخری ایام میں قائداعظم کی صحت مسلسل گرتی رہی مگر ان کے کام کی رفتار میں نمایاں کمی نہ آئی۔
شاید وہ جانتے تھے کہ بنیاد رکھی جاچکی ہے اور اب آنے والی نسلوں کو اس عمارت کی تکمیل کرنا ہوگی۔
انہوں نے قوم کے لیے صرف ہدایات نہیں چھوڑیں بلکہ اپنی زندگی کو ایک مثال بنا کر دکھایا کہ یقین، ذہانت، نظم و ضبط اور کردار رکھنے والا ایک فرد بھی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
قومیں صرف رہنماؤں کی زندگی سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان اصولوں سے زندہ رہتی ہیں جن پر وہ رہنما کھڑے ہوتے ہیں۔
آج بھی پاکستان قائم ہے۔
مگر اسے ایسا پاکستان بنانے کے لیے نئی نسل کی ضرورت ہے جو قائداعظم کے خواب کے شایانِ شان ہو۔
وارثوں کو اب محافظ بننا ہوگا۔
دراڑیں بھرنی ہیں مگر بنیادیں کمزور کئے بغیر، امکانات وسیع کرنے ہیں مگر شناخت مٹائے بغیر، اداروں کو جدید بنانا ہے مگر اصول فراموش کئے بغیر، معیشت مضبوط کرنی ہے مگر محروم طبقات کو پیچھے چھوڑے بغیر۔
خودمختاری کا دفاع بھی کرنا ہے اور وقار کے ساتھ امن کی کوشش بھی جاری رکھنی ہے۔
ہماری مشکلات اس جذبے سے بڑی نہیں ہوسکتیں جس نے پاکستان کو جنم دیا تھا۔
آج، قائداعظم کی برسی پر، ایک سوال ہر پاکستانی کو خود سے پوچھنا چاہئے:
اگر قائداعظم آج ہمارے درمیان ہوتے تو کیا وہ اس پاکستان کو پہچان پاتے جسے ہم نے تعمیر کیا ہے؟
✧ OVERSEAS POST | PRINCIPLESقائداعظمؒ کے اصول — آج کے لیے ⌄
اگر اس سوال کا جواب مکمل طور پر ہمارے حق میں نہیں تو اس کا مطلب مایوسی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ ضرورت ایک نئے عزم اور نئے آغاز کی ہے۔
گھر آج بھی قائم ہے، بنیادیں موجود ہیں، نقشہ ہمارے سامنے ہے اور مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
قائداعظم نے پاکستان کو ایک ایسے خواب کے ساتھ وجود بخشا تھا جو خود ان کی زندگی سے بڑا تھا۔ کسی ملک کی عظمت صرف اس کے قیام کے حالات سے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے کردار سے طے ہوتی ہے۔
چراغ بظاہر 11 ستمبر 1948ء کو بجھ گیا تھا، مگر اس کی روشنی آج بھی ہمارے سامنے راستہ روشن کررہی ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں یا نہیں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں وہ بصیرت، حوصلہ، دیانت اور کردار نصیب کرے کہ ہم قائداعظم کی قربانیوں اور ان کے عظیم خواب کے حقیقی امین ثابت ہوسکیں۔