محمد محسن اقبال
اسلام آباد
محمد محسن اقبال اپنے دادا غازی بابو معراج دین شہید کی زندگی اور قربانی کو برصغیر میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کی تاریخی جدوجہد سے جوڑتے ہوئے اس میراث کے دینی، خاندانی اور آئینی پہلو اجاگر کرتے ہیں۔
وحیِ الٰہی کی طویل اور نورانی تاریخ میں اللہ تعالیٰ نے منصبِ نبوت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اور اسے حضرت محمد مصطفیٰﷺ، رسولِ اکرم، پر کامل فرماتے ہوئے سلسلۂ نبوت کو ہمیشہ کے لیے اختتام بخش دیا۔
قرآنِ مجید اس ابدی حقیقت پر نہایت واضح اور قطعی گواہی دیتا ہے۔
سورۃ الاحزاب میں ارشادِ ربانی ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
’محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘ (سورۃ الاحزاب، 33:40)
یہ آیتِ کریمہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی وہ روشن اور قطعی بنیاد ہے جس پر امتِ مسلمہ کا ایمان قائم ہے۔
مسلمانوں کے لیے حضور نبی کریمﷺ کا خاتم النبیین ہونا کوئی ثانوی یا محض علمی بحث کا موضوع نہیں، نہ ہی یہ ایسا معاملہ ہے جسے زمانے کے تغیرات یا انسانی خواہشات کے تابع کیا جاسکے۔
یہ ایمان کا ایک بنیادی اور لازمی جزو ہے، جس کی بنیاد قرآنِ حکیم پر ہے اور جس کی تائید اسلام کی مستند تعلیمات پوری قوت کے ساتھ کرتی ہیں۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات ⌄
- ✓مضمون کا مرکزی موضوع عقیدۂ ختمِ نبوت، تاریخی جدوجہد اور خاندانی قربانی ہے۔
- ✓تحریر میں غازی علم دین شہید اور غازی بابو معراج دین شہید کی یاد کو ایک تاریخی تسلسل میں پیش کیا گیا ہے۔
- ✓بابو معراج دین کی فوجی زندگی، قید، دینی مطالعے اور بعد ازاں تحریک میں شمولیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
- ✓6 مارچ 1953ء ان کی زندگی کے آخری اور فیصلہ کن باب کے طور پر سامنے آتا ہے۔
- ✓7 ستمبر 1974ء کو آئینی پیش رفت کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- ✓اختتام میں علم، حکمت، صبر اور آئینی و قانونی راستوں کے ذریعے ایمان کے تحفظ کا پیغام دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب کبھی کسی بنیادی سچائی کو چیلنج کیا گیا تو اس کے گرد فتنوں، اختلافات اور آزمائشوں نے جنم لیا۔
امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اپنے ایمان اور عقائد کے تحفظ کے لیے مختلف ذرائع اختیار کئے، کہیں علم و تحقیق کے ذریعے، کہیں فکری و علمی مکالمے سے، کہیں آئینی و قانونی جدوجہد کے ذریعے اور کہیں قربانی، استقامت اور صبر کے ساتھ۔
برصغیر کی تاریخ ایسے بے شمار مردانِ حق کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے رسولِ اکرمﷺ کی حرمت و ناموس کو اپنی آسائش، اپنے مفادات، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھا۔
اسی تاریخ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ان کے ساتھ بے شمار علما، مشائخ اور عاشقانِ رسولﷺ نے بھی اس عقیدے کے دفاع میں اپنی آواز بلند کی۔
یہ جدوجہد برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سیاسی اور مذہبی ابتلا کے ایک ایسے دور میں جاری رہی جب مسلمان صرف اپنی سیاسی تقدیر ہی کا فیصلہ نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنی دینی شناخت، تہذیبی تشخص اور مذہبی وقار کے تحفظ کی جدوجہد بھی کر رہے تھے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
اسی تاریخی پس منظر میں غازی علم دین شہید کا نام لاہور کے مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت میں نہایت درد انگیز اور عقیدت بھرا مقام رکھتا ہے۔
1929ء میں راج پال کی جانب سے گستاخانہ پمفلٹ کی اشاعت نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں کو شدید رنج و اضطراب سے بھر دیا۔
لاہور کے ایک نوجوان بڑھئی، علم دین، کو راج پال کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمہ چلا اور بالآخر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
31 اکتوبر 1929ء کو ان کی شہادت نے انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی یاد میں عشقِ رسولﷺ، ایثار اور قربانی کی ایک غیر معمولی علامت بنا دیا۔
نسلیں گزر گئیں، مگر غازی علم دین شہید کا نام آج بھی محبتِ رسولﷺ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ان کی داستان نوآبادیاتی ہندوستان کی تاریخ کے اس نہایت حساس اور جذباتی باب سے تعلق رکھتی ہے جہاں مذہبی جذبات، قانون، معاشرتی کشمکش اور نوآبادیاتی نظام کی حدود و پابندیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک المناک صورت اختیار کرگئی تھیں۔
⌛ OVERSEAS POST | TIMELINEزمانی خاکہ ⌄
اسی وسیع تاریخی منظرنامے میں ایک اور نام میرے لیے محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ قلبی عقیدت اور خاندانی ورثے کی حیثیت رکھتا ہے—میرے دادا، غازی بابو معراج دین شہید۔
1921ء میں لاہور کے تاریخی لوہاری دروازے کے محلہ چڑی ماراں کے ایک گھرانے میں پیدا ہونے والے معراج دین، چودھری اللہ دتہ کے فرزند تھے۔
ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ، لوہاری گیٹ سے شروع ہوئی۔
بچپن ہی سے ان کے دل میں اسلام اور اس کی تعلیمات کے لیے گہری محبت پیدا ہوگئی تھی۔
غازی بابو
معراج دین شہید
کی زندگی فوجی
خدمت، قید، دینی
مطالعے اور عقیدۂ
ختمِ نبوت کے لیے
جد و جہد سے
عبارت رہی
اس زمانے کا لاہور ایک ایسا شہر تھا جہاں تاریخ جیسے گلی گلی بولتی تھی۔
ہر کوچہ اپنے اندر ایک داستان سمیٹے ہوئے تھا اور برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری رفتہ رفتہ ان کی مذہبی شناخت، عزت اور دینی تشخص کے سوالات سے جڑتی جارہی تھی۔
غازی علم دین شہید کی شہادت اور مسجد شہید گنج کے المناک واقعات نے نوجوان معراج دین کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔
ان واقعات نے ان کے اندر یہ یقین مزید پختہ کردیا کہ ایمان کے دفاع کے لیے حوصلہ، نظم و ضبط اور ذاتی قربانی ناگزیر ہیں۔
1940ء میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور ان کی تعیناتی لکھنؤ چھاؤنی میں ہوئی۔
فوجی ملازمت نے ان کی دینی وابستگی کو کم نہ کیا۔
اس کے برعکس، انہوں نے اپنے مسلمان ساتھی فوجیوں کے ساتھ مل کر چھاؤنی میں مسجد کے قیام میں حصہ لیا اور دینی تعلیم و تربیت کے کاموں میں بھی سرگرمی سے شریک رہے۔
پھر وہ واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
✦ OVERSEAS POST | HISTORYغازی علم دین شہید ⌄
مضمون میں غازی علم دین شہید کو برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت میں عشقِ رسول ﷺ، ایثار اور قربانی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر جب معراج دین اور ان کے مسلمان ساتھی قربانی کی عبادت ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو اسٹیشن کمانڈر میجر ہردیال سنگھ کی جانب سے ان کے مذہبی عمل کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی ایک افسوس ناک تصادم میں تبدیل ہوگئی، جس میں مذکورہ افسر ہلاک ہوگیا اور معراج دین سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
نوآبادیاتی حکومت نے فوجی عدالت قائم کی۔
معراج دین کو سزائے موت سنائی گئی، تاہم بعد ازاں یہ سزا عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔ پہلے انہیں منٹگمری جیل، موجودہ ساہیوال، میں قید رکھا گیا اور پھر 1943ء میں لاہور سنٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔
◉ OVERSEAS POST | PROFILEبابو معراج دین — ابتدائی زندگی ⌄
1921ء میں لاہور کے لوہاری دروازے کے محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہونے والے معراج دین، چودھری اللہ دتہ کے فرزند تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ، لوہاری گیٹ سے ہوئی۔
اکثر انسان کے لیے قید کا زمانہ مایوسی، تنہائی اور بے بسی کی علامت ہوتا ہے، مگر بابو معراج دین کے لیے جیل کی دیواریں علم، فکر اور روحانی تربیت کا مدرسہ بن گئیں۔
قید کی تاریک کوٹھڑیوں میں انہوں نے قرآنِ مجید، حدیثِ نبویﷺ اور اسلامی فقہ کا گہرا مطالعہ کیا۔
وہ اپنے ساتھی قیدیوں کو بھی دین کا مطالعہ کرنے اور اپنے ایمان پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔
باہر برصغیر میں تحریکِ پاکستان زور پکڑ رہی تھی تو جیل کے اندر بھی وہ مسلمان قیدیوں سے ایک الگ وطن کی ضرورت اور مسلمانوں کی سیاسی آزادی کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔
بالآخر 1947ء میں پاکستان ایک آزاد مملکت کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا اور معراج دین کو بھی قید سے رہائی نصیب ہوئی۔
لیکن آزادی نے ان کے دینی فرض کے احساس کو ختم نہیں کیا۔
▣ OVERSEAS POST | LIFE JOURNEYفوج، مسجد اور قید ⌄
- 11940ء میں فوج میں شامل ہوئے اور لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات ہوئے۔
- 2مسلمان ساتھیوں کے ساتھ چھاؤنی میں مسجد کے قیام اور دینی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
- 3عیدالاضحیٰ کے موقع پر پیدا ہونے والی کشیدگی ایک افسوس ناک تصادم میں بدل گئی۔
- 4فوجی عدالت نے ابتدا میں سزائے موت سنائی، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہوئی۔
- 5منتگمری جیل کے بعد 1943ء میں لاہور سنٹرل جیل منتقل ہوئے۔
1950ء کی دہائی کے اوائل میں جب عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے تحریک نے شدت اختیار کی تو وہ ایک مرتبہ پھر میدان میں آگئے۔
ان کے دل میں یہ یقین راسخ تھا کہ ایمان کے تحفظ کے لیے محض دعویٰ کافی نہیں بلکہ عزم، استقامت اور قربانی بھی درکار ہوتی ہے۔
پھر وہ جمعہ آیا—6 مارچ 1953ء۔
نمازِ جمعہ کے بعد معراج دین نے اچھرہ مسجد کے باہر جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کیا۔
انہوں نے لاہور اور اس کے گردونواح سے آنے والے لوگوں پر مشتمل ایک جلوس کی قیادت سنبھالی اور قافلہ مال روڈ کی جانب بڑھنے لگا۔
مزید پڑھیں
اس مقام کے قریب جہاں آج اسٹیٹ بینک کی عمارت واقع ہے، حکام کی جانب سے فائرنگ کردی گئی۔
پہلی گولی ان کے بازو میں لگی، جبکہ دوسری گولی ان کے سینے میں اتری۔
وہ زمین پر گر پڑے، مگر ان کے ساتھ محض ایک انسان نہیں گرا تھا، ایک ایسی زندگی اپنے اختتام کو پہنچی تھی جو ایمان، قید، جدوجہد، مطالعے
اور اپنے مقدس مذہبی یقین کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی سے تشکیل پائی تھی۔
انہیں اچھرہ اڈہ کے قریب پٹرول پمپ کے عقب میں واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
بعد کے برسوں میں جس سڑک پر ان کی رہائش تھی، وہ ان کے نام سے منسوب ہوگئی اور بابو معراج دین شہید روڈ کے نام سے لاہور کے جغرافیے میں ان کی یاد محفوظ ہوگئی۔
☼ OVERSEAS POST | REFLECTIONجیل کی دیواروں کے اندر ⌄
قید کا زمانہ بابو معراج دین کے لیے صرف محرومی نہیں رہا؛ مضمون میں اسے علم، فکر اور روحانی تربیت کے دور کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یوں ایک شخص کی قربانی وقت کے دھندلکوں میں گم ہونے کے بجائے شہر کی گلیوں میں ایک خاموش یادگار بن گئی۔
قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے، انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘ (آلِ عمران، 3:169)
کسی خاندان کے لیے اپنے عزیز کو گہری مذہبی وابستگی اور اپنے مقدس یقین کے ساتھ جان قربان کرتے دیکھنا ایسا تجربہ ہے جس کی کیفیت عام الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔
ایسے موقع پر قرآن کی یہ آیت محض ایک آیت نہیں رہتی بلکہ دل کے زخم پر ربانی تسلی بن کر اترتی ہے۔
6 OVERSEAS POST | KEY DATE6 مارچ 1953ء ⌄
جمعہ 6 مارچ 1953ء کو نمازِ جمعہ کے بعد معراج دین نے اچھرہ مسجد کے باہر لوگوں سے خطاب کیا اور لاہور و گردونواح سے آنے والے افراد کے جلوس کی قیادت سنبھالی۔
عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد افراد کی قربانیوں پر ختم نہیں ہوئی۔
پاکستان میں بالآخر یہ سوال آئینی اور پارلیمانی دائرے میں داخل ہوا۔
طویل غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد پارلیمان نے 1974ء میں آئین کی دوسری ترمیم منظور کی۔
7 ستمبر 1974ء کو آئین کے آرٹیکل 260 میں اس امر کی آئینی تعریف شامل کی گئی کہ آئین اور قانون کے مقاصد کے لیے وہ شخص مسلمان نہیں سمجھا جائے گا جو حضرت محمدﷺ کی مطلق اور غیر مشروط ختمِ نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو، یا آپﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، یا ایسے مدعیِ نبوت کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم کرے۔
تاہم تاریخ کو محض تصادم اور کشمکش کے واقعات کی فہرست سمجھ کر یاد کرنا کافی نہیں۔ اس تاریخ کا گہرا سبق یقین کی قوت، علم و تحقیق کی اہمیت، مذہبی قیادت کی ذمہ داری اور قومی اہمیت کے معاملات کو آئینی اداروں کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت میں پوشیدہ ہے۔
میرے دادا کی داستان بھی اسی تاریخ کا ایک باب ہے۔
∞ OVERSEAS POST | LEGACYخاندانی یاد اور شہر کی یادداشت ⌄
مصنف کے لیے غازی بابو معراج دین شہید کی داستان صرف ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ قلبی عقیدت اور خاندانی ورثہ ہے۔
7 ستمبر 1974ء کو
پاکستان کی
پارلیمان نے
دوسری آئینی ترمیم
منظور کرکے
عقیدۂ ختمِ نبوت
سے متعلق آئینی
تعریف کو
آرٹیکل 260 کا
حصہ بنایا
جب میں غازی بابو معراج دین شہید کو یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے صرف ایک سڑک کا نام نہیں آتا۔
میرے ذہن میں پرانے لاہور کی تنگ گلیوں کا ایک نوجوان ابھرتا ہے، جو فوج میں گیا، ایک دور دراز چھاؤنی میں مسجد کے قیام میں حصہ لیا، نوآبادیاتی جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، قید کے دوران قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا، دوسروں کو ایمان کی طرف متوجہ کیا، پاکستان کے قیام کا خواب حقیقت بنتے دیکھا اور بالآخر اپنے مقدس عقائد کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔
ہر نسل کو کچھ ایسی یادیں ورثے میں ملتی ہیں جن کی قدر و قیمت عام پیمانوں سے نہیں کی جاسکتی۔
کچھ یادیں کتابوں میں محفوظ ہوتی ہیں، کچھ یادگاروں میں، کچھ آئینی دفعات میں، مگر سب سے گہری اور پائیدار یادیں خاندانوں کے دلوں میں محفوظ رہتی ہیں۔
میرے لیے غازی بابو معراج دین شہید کی یاد بھی ایسا ہی ایک مقدس ورثہ ہے۔
جب قرآنِ مجید حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو ’اللہ کے رسول اور خاتم النبیین‘ قرار دیتا ہے تو یہ محض ایک تاریخی امتیاز بیان نہیں کرتا بلکہ وحیِ الٰہی کی زبان میں مسلمانوں کے ایمان کی ایک بنیادی اور فیصلہ کن حقیقت کو ثبت کرتا ہے۔
§ OVERSEAS POST | CONSTITUTION7 ستمبر 1974ء — آئینی مرحلہ ⌄
مضمون میں 1974ء کی دوسری آئینی ترمیم کو عقیدۂ ختمِ نبوت کے سوال کے پارلیمانی اور دستوری مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اسی لیے آپﷺ کے بعد آنے والی نسلوں نے اس عقیدے کی حفاظت کو ایک مقدس امانت سمجھا۔
ان لوگوں کا لہو جنہوں نے اپنے ایمان اور مقدس یقین کی خاطر قربانی دی، محض یہ تقاضا نہیں کرتا کہ انہیں یاد رکھا جائے، بلکہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ آنے والی نسلیں ان اقدار کو سمجھیں جن کے لیے وہ جئے اور قربان ہوئے—ایسا ایمان جس میں ریا نہ ہو، ایسا یقین جس میں خوف کی گنجائش نہ ہو، ایسی محبت جو علم سے مزین ہو اور ایسی جرأت جو ذمہ داری اور حکمت کی حدود سے آشنا ہو۔
تاریخ کا قافلہ آگے بڑھتا رہتا ہے، مگر اس کے نقشِ قدم مٹتے نہیں۔
غازی علم دین شہید اور غازی بابو معراج دین شہید اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کی زندگی محبتِ رسولِ اکرم ﷺ سے گہری طرح منور تھی۔ ان کی داستانیں برصغیر کے مسلمانوں کی جذباتی، مذہبی اور تاریخی میراث کا حصہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے جنہوں نے اپنے اخلاص اور اپنے مقدس یقین کے مطابق جانیں قربان کیں، انہیں اپنی رحمت کے اعلیٰ ترین درجات میں جگہ عطا فرمائے اور آنے والی نسلوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت علم، حکمت، آئینی و قانونی راستوں، صبر، استقامت اور ذمہ دارانہ جدوجہد کے ذریعے کریں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے جنہوں نے اپنے نزدیک مقدس ترین حقیقت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
ان کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی رہیں کہ جب ایمان اخلاص کے ساتھ دل میں اتر جائے تو وہ انسان کے کردار کو بھی بدل دیتا ہے اور بسا اوقات افراد ہی نہیں بلکہ پوری قوموں کی تقدیر پر بھی اپنے گہرے نقوش ثبت کردیتا ہے۔
اللّٰہم صلِّ وسلِّم وبارک علیٰ سیدنا محمدٍ وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
خاتم النبیینﷺ کی محبت ہمارے ایمان کا چراغ ہے، اور اس چراغ کی روشنی نسل در نسل ہمارے دلوں میں زندہ رہے—آمین۔