ڈیزل کا معاملہ اب صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا۔ دنیا کے پاس خام تیل بہت ہے، مگر اسے ڈیزل، پیٹرول اور جیٹ فیول میں بدلنے والی ریفائنریاں دباؤ میں ہیں۔
مزید پڑھیں
یہی فرق عالمی توانائی بحران کو مختلف رُخ سے دکھاتا ہے۔ یعنی مسئلہ اب صرف تیل نکالنے کا نہیں، بلکہ اسے قابلِ استعمال ایندھن میں بدلنے اور منڈیوں تک پہنچانے کا بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس، مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے ڈیزل کی برآمدات میں تقریباً 13 لاکھ بیرل یومیہ کمی آئی، جبکہ جولائی میں عالمی ریفائننگ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 50 لاکھ بیرل یومیہ کم رہی۔
⛽
ڈیزل بحران کے 5 حقائق جو آپ کو جاننے چاہییں
▼
1۔ خام تیل کی نہیں، ریفائننگ کی شدید رکاوٹ
بنیادی زمینی حقیقتدنیا کے پاس خام تیل تو وافر موجود ہے لیکن اسے ڈیزل اور قابلِ استعمال ایندھن میں بدلنے والی ریفائنریاں صلاحیت سے محروم ہیں۔ جولائی میں عالمی ریفائننگ پچھلے سال کے مقابلے میں 50 لاکھ بیرل یومیہ کم ریکارڈ کی گئی۔
2۔ سپلائی سے 16 لاکھ بیرل کا اخراج
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خلیجی ریاستوں اور روس سے ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات اگست میں فروری کے مقابلے میں یومیہ 16 لاکھ بیرل تک سکڑ گئیں۔
3۔ عالمی ذخائر میں 2.85 کروڑ بیرل کمی
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق دنیا بھر میں ڈیزل کے ذخائر کم ہو کر 54 کروڑ 20 لاکھ بیرل پر آ گئے ہیں، جس سے موسمِ سرما سے قبل ہنگامی سیکیورٹی بفر ختم ہو چکا ہے۔
4۔ امریکی ریفائنریاں 98 فیصد گنجائش پر
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکی ریفائنریز 98 فیصد کی انتہا پر چل رہی ہیں، یعنی دنیا کی قلت پوری کرنے کے لیے امریکہ کے پاس اضافی گنجائش باقی نہیں ہے۔
5۔ صنعتی اور زرعی معیشت کا لائف لائن فیول
پیٹرول صرف ذاتی سواری چلاتا ہے، جبکہ ڈیزل فیکٹریوں کے جنریٹرز، مال بردار ٹرکوں، ریلوے اور زرعی ٹریکٹروں کی جان ہے؛ اس کی قلت پوری قومی سپلائی چین کو منجمد کر دیتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی ستمبر کی رپورٹ اس صورت حال کو مزید سنگین بتاتی ہے۔ خلیجی ممالک اور روس سے ڈیزل اور گیس آئل کی خالص برآمدات اگست میں فروری کے مقابلے میں 16 لاکھ بیرل یومیہ کم رہیں۔
عالمی توانائی کا اصل بحران خام تیل کی کمی نہیں بلکہ ریفائنریوں پر دباؤ ہے، جس سے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
جنگ اور حملوں کی وجہ سے عالمی ریفائننگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں روزانہ بڑی کمی واقع ہوئی جس سے ایندھن کی فراہمی محدود ہو گئی۔
ایک سال کے دوران دنیا بھر میں ڈیزل کے اسٹریٹجک ذخائر میں ریکارڈ گراوٹ دیکھی گئی، جس سے مارکیٹ میں ہنگامی تحفظ ختم ہو گیا۔
فصلوں کی کٹائی اور ہیٹنگ آئل کی ضرورت کی وجہ سے طلب میں یومیہ اضافہ متوقع ہے، جبکہ کارخانوں کی موسمی مرمت رسد مزید تنگ کرے گی۔
سالانہ اربوں ڈالر مالیت کے ایندھن کی درآمد کے باعث عالمی قیمتوں کا دباؤ براہِ راست ملکی مال برداری، اشیائے خور و نوش اور زراعت پر پڑے گا۔
ریفائنریاں کیوں مسئلہ بن گئیں؟
صرف خام تیل مل جانا کافی نہیں ہے۔ ہر ریفائنری مخصوص قسم کے خام تیل، مشینری اور پیداواری ترتیب کے مطابق کام کرتی ہے۔ اسے اچانک اس طرح نہیں بدلا جا سکتا کہ پورا زور صرف ڈیزل پر لگا دیا جائے۔
پاکستان کو اس عالمی بحران سے کتنا خطرہ ہے؟
◀
8.9 ارب ڈالر کا امپورٹ بل خطرے میں
اکنامک سروے کے مطابق پاکستان نے 9 ماہ میں 13.88 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتیں بلند رہنے سے تجارتی خسارہ اور زرمبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
اشیا کی نقل و حمل اور کرایوں میں اچھال
ملک بھر میں بندرگاہوں سے گوداموں اور کھیتوں سے منڈیوں تک مال برداری کا مکمل انحصار ڈیزل ٹرکوں پر ہے۔ ڈیزل مہنگا ہوتے ہی فی کلومیٹر ٹرانسپورٹ لاگت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
زرعی شعبے اور گندم کی بوائی پر ضرب
پنجاب اور سندھ میں ٹیوب ویل اور ٹریکٹرز ڈیزل سے چلتے ہیں۔ خریف کی کٹائی اور ربیع کی بوائی کے سیزن میں مہنگا ایندھن کسانوں کی پیداواری لاگت کو بے تحاشا بڑھا دیتا ہے۔
روپے کی قدر اور افراطِ زر کا دباؤ
ڈیزل مہنگا ہونے پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ تیز ہوتی ہے، جس سے روپے کی بے قدری بڑھتی ہے اور اشیائے خوردونوش سمیت ہر عام صارف پر عمومی مہنگائی مسلط ہوتی ہے۔
روسی ریفائنریوں پر حملوں، مشرق وسطیٰ جنگ اور آبنائے ہرمز کی رکاوٹوں نے اسی کمزوری کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکا متبادل سپلائر بن سکتا تھا، مگر وہاں بھی گنجائش محدود ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اگست کے آخر میں ریفائنری استعمال کی شرح 98 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق 21 اگست کو عالمی ڈیزل ذخائر 54 کروڑ 20 لاکھ بیرل تھے، جو ایک سال پہلے سے 2 کروڑ 85 لاکھ بیرل کم ہیں۔
تکنیکی رکاوٹ
دنیا میں ڈیزل کی قلت اچانک کیوں بڑھ گئی؟
وجوہات کا تجزیہ
روسی ریفائنریوں کو عسکری نقصان
ڈرون حملوں نے روس کی ڈیزل پیدا کرنے والی کلیدی تنصیبات کو عارضی طور پر مفلوج کر دیا، جس سے مشرقی یورپ اور بین الاقوامی منڈی سے روسی ایندھن کا بہاؤ رک گیا۔
ہرمز اور بحیرۂ احمر میں خطرات
مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی بحران نے خلیجی آئل ٹینکرز کے راستے غیر محفوظ بنا دیے، جس کے باعث خلیج سے ڈیزل اور گیس آئل کی ترسیل میں 13 لاکھ بیرل روزانہ کی کمی واقع ہوئی۔
متبادل ریفائنریز کی انتہائی حدیں
مغربی ممالک کی ریفائنریز پرانی ہیں اور مکمل کیپیسٹی پر چلنے کے باعث مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکتیں، جبکہ فوری طور پر نئی ریفائنری لگانا برسوں کا کام ہے۔
ڈیزل مہنگا تو ہر چیز مہنگی
ڈیزل ٹرک، بس، زرعی مشینری، تعمیراتی سامان، کان کنی اور جنریٹرز کا بنیادی ایندھن ہے۔
اسی لیے اس کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے کا خرچ نہیں بڑھاتا، بلکہ یہ کھیت سے منڈی، فیکٹری سے دکان اور بندرگاہ سے گودام تک پوری سپلائی چین مہنگی کر دیتا ہے۔
یہی خطرہ پاکستانیوں کے لیے سب سے اہم ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی کھپت کا 82.5 فیصد ٹرانسپورٹ سیکٹر نے استعمال کیا۔
🛒
مہنگا ڈیزل آپ کی روزمرہ زندگی کیسے متاثر کرے گا؟
+
آٹا، سبزی، دودھ اور پھل مہنگے
تازہ سبزیاں اور روزمرہ خوراک راتوں رات منڈیوں میں ٹرکوں اور پک اپس کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ کرایہ بڑھتے ہی دکاندار تمام اضافی اخراجات عام خریدار کی قیمت میں شامل کر دیتا ہے۔
انٹرسٹی بسوں اور وینوں کے کرایوں میں اضافہ
لاکھوں طلبہ، ملازمین اور دیہاڑی دار جو عوامی بسوں میں سفر کرتے ہیں، ڈیزل مہنگا ہوتے ہی کرایوں میں 10 سے 20 فیصد کے غیر اعلانیہ اضافے کا سامنا کرتے ہیں۔
بیک اپ جنریٹرز اور کارخانوں کی لاگت
بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیکسٹائل ملز اور چھوٹی صنعتیں ڈیزل جنریٹرز پر چلتی ہیں؛ ایندھن مہنگا ہونے سے اشیا کی تیاری لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے صنعتی ترقی سست پڑتی ہے۔
سیمنٹ، سریا اور اینٹوں کی مہنگی ترسیل
ریت، اینٹیں اور بجری بار برداری کے بڑے ٹرالروں کے ذریعے دور دراز علاقوں سے لائی جاتی ہیں؛ ڈیزل کی قیمت چڑھنے سے اپنا گھر بنانے یا مرمت کا تخمینہ بے قابو ہو جاتا ہے۔
اسی عرصے کے دوران پاکستان نے 13.88 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 8.9 ارب ڈالر تھی۔
ماہرین کے مطابق عالمی ڈیزل قیمتیں اوپر رہیں تو درآمدی بل، مال برداری اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا۔
سردیوں میں اصل امتحان
مسئلہ یہ ہے کہ عنقریب ڈیزل کی طلب کم ہونے کے بجائے بڑھنے والی ہے۔
شمالی نصف کرے میں سردیوں کے دوران ہیٹنگ آئل کی ضرورت بڑھتی ہے، جبکہ شمالی امریکا میں فصلوں کی کٹائی اور جنوبی امریکا میں زرعی سیزن بھی ڈیزل کی مانگ بڑھاتے ہیں۔
❄️
آنے والے مہینوں میں ڈیزل مزید مہنگا ہوگا؟
موسمی منظرنامے
20 لاکھ بیرل روزانہ اضافی طلب
شمالی امریکہ اور یورپ میں سردیوں کے ہیٹنگ آئل اور فصلوں کی کٹائی کے باعث اگست تا اکتوبر ڈیزل کی کھپت میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کا موسمی اضافہ ہوتا ہے۔
موسمی دیکھ بھال (Turnarounds)
عین اسی وقت دنیا بھر کی ریفائنریاں اپنی باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت کے لیے پلانٹس جزوی بند کرتی ہیں، یعنی جب طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے تب پیداوار سب سے کم ہوتی ہے۔
ریکارڈ ریفائننگ مارجن کا تسلسل
رائٹرز کے مطابق تاجروں کا اندازہ ہے کہ ڈیزل کے غیر معمولی پریمیم اور تنگی کے باعث قیمتیں اگلے تین سے چار ماہ بلند رہیں گی، جس سے پاکستان میں سستا ڈیزل ملنے کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق اگست تا اکتوبر عالمی ڈیزل طلب عموماً تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ بڑھتی ہے، جبکہ ریفائنریوں کی موسمی مرمت بھی شروع ہوتی ہے، یعنی عین اس وقت کچھ پیداواری صلاحیت محدود رہتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق صنعت کے بڑے کھلاڑی توقع کر رہے ہیں کہ ڈیزل کی عالمی سپلائی پوری سردیوں میں تنگ رہ سکتی ہے، جبکہ ریکارڈ ریفائننگ مارجن بتا رہے ہیں کہ منڈی میں دباؤ حقیقی ہے۔
پاکستان کے لیے خطرہ کہاں ہے؟
پاکستان عالمی قیمت طے نہیں کرتا، مگر اس کے اثرات سے بچ بھی نہیں سکتا۔
اگر مشرق وسطیٰ کی وجہ سے روسی ریفائنریاں اور عالمی ذخائر دباؤ میں رہتے ہیں تو ڈیزل کا مسئلہ تھمے گا نہیں بلکہ یہ ٹرانسپورٹ کرایوں، سبزی اور آٹے کی قیمت، تعمیراتی لاگت اور مزید مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند ماہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کے پاس خام تیل کتنا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہوگا کہ اس خام تیل کو ڈیزل میں بدلنے والی ریفائنریاں کتنی چل رہی ہیں، ذخائر کتنے باقی ہیں اور ایندھن خریدار تک پہنچ بھی پا رہا ہے یا نہیں؟۔
یہی معاملہ اس وقت عالمی توانائی منڈی کی نئی کمزور رگ ہے۔