🌍
دنیا میں خوراک کیوں مہنگی ہو رہی ہے؟
فاو انڈیکس 133.3
بنیادی جھٹکا: عالمی پیداوار میں 2018 کے بعد سب سے بڑی کمی
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق اگست میں غذائی اشاریہ 133.3 پوائنٹس پر جا پہنچا ہے جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین ہے؛ اناج کی مجموعی عالمی پیداوار 34 لاکھ ٹن کم ہو کر 2.98 ارب ٹن رہ جانے کا امکان ہے جو زرعی ترسیل میں تاریخی کمی کا اشارہ ہے۔
2۔ یورپ و لاطینی امریکا میں موسمی تباہی
یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی نے شوگر بیٹ اور اناج کی فصلیں متاثر کی ہیں جبکہ برازیل میں گنے کی پیداوار گرنے سے چینی کا عالمی انڈیکس 11.9 فیصد اوپر چڑھ گیا ہے۔
3۔ ایشیا میں ال نینو کے شدید اثرات
بحر الکاہل میں درجہ حرارت کی غیر متوازن تبدیلیوں سے بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں بارشوں کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے جس نے اناج کی منڈیوں میں پیشگی قلت کا خوف پیدا کیا۔
4۔ بحیرہ اسود میں برآمدی رکاوٹیں
روس اور یوکرین کے بحری تجارتی راستوں اور بندرگاہی تنصیبات پر جنگی کشیدگی کے باعث گندم کے عالمی نرخوں میں ماہانہ 2.6 فیصد اور سالانہ 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔
5۔ خلیجی کشیدگی اور توانائی کی مہنگائی
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران سے خام تیل میں 6 فیصد تیزی آئی جس سے زرعی کھاد، ٹریکٹر فیول اور بین الاقوامی بحری مال برداری کے اخراجات اچانک بڑھ گئے۔
دنیا ایک بار پھر مہنگی خوراک کے سنگین بحران میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
اگست میں فاو کا عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ 133.3 پوائنٹس تک پہنچا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یعنی ایک ماہ میں اشاریہ 1.9 فیصد بڑھا اور پانچوں بڑی غذائی کیٹیگریز مہنگی ہوئیں۔
اس بار مسئلہ کسی فصل کا نہیں، بلکہ یورپ میں گرمی، خشک سالی، ایشیا میں ال نینو کے خدشات، بحیرہ اسود میں جنگ سے متاثر برآمدی راستے اور خلیجی کشیدگی نے بیک وقت خوراکی نظام پر دباؤ ڈالا ہے۔
عالمی رپورٹس کے مطابق انہی عوامل نے اناج کو 3 سال اور چینی کو ایک سال کی بلند سطحوں تک پہنچا دیا ہے۔
عالمی غذائی بحران: پاکستان میں مہنگائی کے شدید خدشات 🌾
عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ چار سال کی بلند ترین سطح پر، چینی اور ایندھن کی قیمتیں بے قابو
خشک سالی، جنگ اور تجارتی رکاوٹوں نے عالمی غذائی اشاریے کو ریکارڈ بلندی پر پہنچا دیا ہے، جس سے پاکستان میں گھی، چینی اور بنیادی خوراک پر شدید دباؤ متوقع ہے۔
🍬 چینی کی قیمت میں جست 📈
برازیل اور یورپ میں پیداوار متاثر ہونے سے عالمی چینی انڈیکس میں ریکارڈ ماہانہ اضافہ۔
🇵🇰 ملکی افراطِ زر کی شرح 🚨
ادارہ شماریات کے مطابق اگست میں سالانہ مہنگائی کی رفتار جو گزشتہ ماہ سے زیادہ رہی۔
🛢️ پام آئل درآمدی بل 💵
پاکستان کی جانب سے ریکارڈ پام آئل درآمد پر سالانہ خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کا حجم۔
📉 عالمی اناج پیداوار کمی 🌾
فاو کے مطابق سال 2018 کے بعد عالمی پیداوار میں متوقع سب سے بڑی سالانہ کمی کا تناسب۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
سب سے بڑا جھٹکا چینی پر
اگست میں چینی کا عالمی اشاریہ 11.9 فیصد بلند ہوا۔ یورپ میں شوگر بیٹ کی کمزور فصل، برازیل میں پیداوار کی کمی اور ایشیائی پیداوار پر موسمی خطرات نے منڈی کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان کی جیب پر کتنا دباؤ پڑ سکتا ہے؟
◀
ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2026 میں افراطِ زر 11.1 فیصد تک جا پہنچا ہے؛ عالمی سطح پر اشیائے خور و نوش کے نئے جھٹکے درآمدی بل کو بڑھا کر گھریلو راشن پر براہِ راست اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
3.78 ارب ڈالر کا پام آئل درآمدی بوجھ
پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 34.8 لاکھ ٹن خوردنی تیل درآمد کیا؛ عالمی نباتاتی تیل مسلسل تیسرے ماہ مہنگا ہونے سے مقامی سطح پر گھی اور کوکنگ آئل کے ریٹس میں تیزی متوقع ہے۔
ڈیزل، کھاد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات
خلیجی تنازع سے ایندھن اور ڈیزل کا ریکارڈ سطح پر پہنچنا مال بردار گاڑیوں کے کرایوں اور کاشتکاری کی پیداواری لاگت کو بڑھا رہا ہے جس سے منڈیوں میں سبزیاں اور آٹا مہنگے ہو رہے ہیں۔
باورچی خانے پر دباؤ: تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے ماہانہ بجٹ کا 40 فیصد سے زائد حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے؛ گھی، چینی اور آٹے کا بیک وقت مہنگا ہونا بنیادی ضروریات کی قوتِ خرید کو مزید محدود کر دے گا۔
گندم ماہانہ 2.6 فیصد اور سالانہ 15 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ مکئی میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطرہ صرف قیمتوں کا نہیں، بلکہ پیداوار کا بھی ہے۔
فاو نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ 34 لاکھ ٹن کم کرکے 2.98 ارب ٹن کیا ہے۔ یہ گزشتہ سال سے 2 فیصد کم ہوگا، جو 2018 کے بعد سب سے بڑی سالانہ کمی بن سکتی ہے۔
🌾 چینی، گندم اور تیل: سب سے بڑا خطرہ کہاں؟ اہم اجناس
1۔ چینی: 11.9 فیصد کی سب سے بڑی چھلانگ
یورپ اور برازیل میں پیداوار کے بحران کے سبب چینی کی عالمی لاگت ایک سال کی بلند سطح پر ہے، جس کے اثرات مٹھائی، پروسیسڈ فوڈ اور ریٹیل بازار پر مرتب ہو رہے ہیں۔
2۔ گندم: سالانہ بنیادوں پر 15% اضافہ
بحیرہ اسود میں ترسیلی رکاوٹوں نے اناج کی منڈیوں کو جکڑ رکھا ہے؛ اگرچہ عالمی ذخائر ابھی موجود ہیں مگر جنگی صورتِ حال نے قیمتوں کا گراف نیچے آنے نہیں دیا۔
3۔ پام آئل: تیسرے ماہ بھی مسلسل تیزی
پاکستان اپنی ضرورت کا 90 فیصد پام آئل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر نباتاتی تیل کی قیمتوں میں تیزی درآمدی اخراجات اور زرمبادلہ پر سب سے کاری ضرب ہے۔
سب سے شدید رسک پوائنٹ: پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ خوردنی تیل ہے کیونکہ اس میں درآمدی انحصار مکمل ہے؛ دوسرے نمبر پر چینی اور گندم کی ملکی قیمتوں پر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کا مقامی دباؤ اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل خطرہ؟
پاکستان کے لیے سب سے حساس معاملہ خوردنی تیل اور توانائی ہے۔
مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے ریکارڈ 3.482 ملین ٹن پام آئل درآمد کیا، جس پر 3.785 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس تناظر میں عالمی نباتاتی تیل مسلسل تیسرے ماہ مہنگا ہونے سے گھی، کوکنگ آئل کی لاگت پر دباؤ بڑھے گا۔
دوسری طرف خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ توانائی کی لاگت بڑھا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتے میں برینٹ خام تیل 6 فیصد سے زیادہ بڑھا اور امریکی ڈیزل ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ پاکستان میں مہنگا ایندھن ٹرانسپورٹ، کھاد اور زرعی لاگت کے ذریعے خوراک کو مزید مہنگا کرسکتا ہے۔
🔭 آگے کیا ہوگا؟ قیمتیں مزید بڑھیں گی یا سنبھلیں گی؟ +
منظرنامہ 1: قیمتوں میں مسلسل تیزی کے اسباب
اگر خلیجی تنازعہ اور ہرمز میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات بلند سطح پر برقرار رہیں اور ال نینو کے اثرات طویل ہوئے تو رواں سال کے آخری مہینوں میں اشیائے خورد و نوش کے نرخوں میں مزید اضافے کا خدشہ رہے گا۔
منظرنامہ 2: مارکیٹ کے سنبھلنے کے امکانات
فاو کے مطابق اناج کے مجموعی عالمی ذخائر تاحال اطمینان بخش سطح پر ہیں؛ اگر بحیرہ اسود سے زرعی اناج کی ترسیل جاری رہی اور توانائی کی منڈی مستحکم ہوئی تو قیمتوں کا طوفان وقتی ثابت ہو کر رک سکتا ہے۔
حتمی تجزیہ: آنے والے مہینوں میں غذائی منڈی کا استحکام موسمی حالات اور سمندری رسدی راستوں کی سلامتی سے جڑا ہے؛ پاکستان جیسے درآمدات پر منحصر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ خوردنی تیل اور ضروری اجناس کے اسٹریٹجک ذخائر کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ بنائیں۔
مہنگائی پہلے ہی دستک دے رہی ہے
پاکستانی ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2026 میں سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد رہی، جو جولائی کے 9.2 فیصد سے زیادہ ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی چینی، گندم، خوردنی تیل اور توانائی کی نئی لہر گھریلو بجٹ کو مزید دباؤ میں لاسکتی ہے۔
فاو کا اپنے تخمینے میں کہنا ہے کہ عالمی اناج کے ذخائر اب بھی نسبتاً اطمینان بخش ہیں، مگر موسم، جنگ اور تجارتی راستوں کا بگڑتا امتزاج بتا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں خوراک کی قیمتیں دنیا کے ساتھ پاکستان کے لیے بھی بڑا معاشی مسئلہ رہ سکتی ہیں۔