دنیا کی معیشت کو جوڑنے والے سمندری راستے ایک ساتھ کئی بحرانوں کی زد میں ہیں۔ کہیں جنگ نے جہازوں کا راستہ بدل دیا ہے تو کہیں خشک سالی نے پانی کم کردیا، جبکہ بڑھتے تیل اور انشورنس اخراجات نے عالمی تجارت کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس بحران کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں رہیں گے۔
یہ مہنگی شپنگ بالآخر کھاد، خوراک، گاڑیوں کے پرزوں، الیکٹرانکس اور مصنوعی ذہانت میں استعمال ہونے والی چپس کی قیمت بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک بھی اس عالمی دباؤ سے الگ نہیں رہ سکتے۔
ہرمز بند ہو تو پاکستان کو کیا قیمت چکانی پڑے گی؟
▼
پاکستان اپنی درآمدی قدرتی گیس (LNG) اور خام تیل کی غالب اکثریت خلیجی ممالک سے منگواتا ہے۔ ہرمز کی ناکہ بندی سے نہ صرف تیل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں بلکہ لوڈشیڈنگ اور صنعتوں کے پہیے رکنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
عالمی منڈی میں کھاد کی ترسیل ہرمز سے جڑی ہے۔ سپلائی رکنے یا شپنگ انشورنس تگنی ہونے سے زرعی پیداواری لاگت غیر معمولی بڑھ جائے گی، جس کے نتیجے میں گندم، چاول اور سبزیوں کی مقامی قیمتوں میں سنگین اضافہ متوقع ہے۔
درآمدی بل میں غیر متوقع اضافے سے بیرونی ادائیگیاں مزید بوجھل ہو جائیں گی۔ روپے کی قدر میں گراوٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے پھیلاؤ سے مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ سخت رکھنا پڑ سکتا ہے، جس سے معاشی نمو سست ہوگی۔
ایشیا اور خلیج کے متبادل طویل راستوں کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی برآمدات کو شدید تاخیر اور زائد کرایوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے عالمی خریداروں کے آرڈرز منسوخ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ہرمز بند ہوا تو دنیا نے لمبا راستہ پکڑ لیا
ایران امریکہ جنگ نے عالمی شپنگ کے حساس ترین مقامات میں شامل آبنائے ہرمز کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔
جنگ سے پہلے تک دنیا کے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد رسد اسی اہم راستے سے گزر کر منزل تک پہنچتی تھی۔
ہرمز کی بندش کے بعد شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے تلاش کرنا پڑے۔ دوسری طرف باب المندب کے قریب خطرات نے بحیرہ احمر اور نہر سوئز کے راستے کو بھی مشکل بنا دیا۔
بعض کمپنیاں اب ایشیا سے یورپ جاتے ہوئے جنوبی افریقہ کے راس امید (Cape of good hope) کا چکر لگا رہی ہیں، جو کہ سفر میں 10 دن سے زیادہ کا اضافہ کردیتا ہے۔
زیادہ سفر کا مطلب زیادہ ایندھن، عملے کے اضافی اخراجات اور سامان کی منزل تک پہنچنے میں مزید تاخیر ہے۔
آبنائے ہرمز کے تنازع، نہر پاناما اور یورپی دریاؤں میں پانی کی کمی نے عالمی تجارت کو مہنگے متبادل راستوں پر دھکیل کر اشیائے ضروریہ کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
کشیدگی کے باعث بحری جہاز افریقہ کے طویل چکر پر مجبور ہیں جس سے سفر میں 10 دن اور ترسیلی ایندھن کا خرچ بڑھ گیا۔
خلیج سے ایشیا تیل پہنچانے کی لاگت 15.22 ڈالر فی بیرل کے ساتھ 2005 کے بعد بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے۔
پانی کی کمی سے جہاز 10 دن تک قطار میں ہیں، جبکہ مشرق بعید سے امریکی ساحل تک کنٹینر کا کرایہ 10,249 ڈالر ہو گیا۔
پانی کی سطح 150 سال کی کم ترین سطح پر آنے سے خام مال کی ترسیل رک گئی جس سے صنعتی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ایک بیرل تیل کی شپنگ بھی ریکارڈ مہنگی
آرگس کے اعدادوشمار عالمی شپنگ پر بڑھتے دباؤ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
10 اگست کو خلیج سے ایشیا تیل پہنچانے کی لاگت تقریباً 15.22 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 2005 میں ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
بحیرہ اسود سے بحیرہ روم جانے والے ٹینکروں کی شپنگ قیمتیں بھی کم از کم 2005 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف راستے ہی مہنگے نہیں ہوئے، بلکہ برینٹ خام تیل تقریباً 89 ڈالر اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 83 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔
امریکی شپنگ کمپنی ایئر-7 سیز کے مطابق بحری انشورنس کی لاگت بھی تقریباً 3 گنا ہوچکی ہے۔
بیلجیئم کی شپنگ کمپنی سی ایم بی ٹیک کے سربراہ الیگزینڈر سیوریس نے موجودہ شپنگ قیمتوں سے متعلق کہا ہے کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ان کے خیال میں بعض کارخانوں کو بندش یا زیادہ مہنگے علاقوں سے خام مال خریدنے جیسے مشکل فیصلے کرنا پڑسکتے ہیں۔
🌐 فیکٹ باکس: دنیا کے سمندری راستے کتنے اہم ہیں؟
عالمی تجارت
➔
خام تیل، ایل این جی اور کھاد کا سب سے حساس خلیجی راستہ، جس کی بندش سے فوری توانائی کا بحران پیدا ہوتا ہے۔
بحر اوقیانوس اور الکاہل کو ملانے والا راستہ جہاں خشک سالی کے باعث جہازوں کو نکلنے کے لیے لاکھوں ڈالر بولی دینا پڑتی ہے۔
جرمنی اور یورپی صنعت کے خام مال اور کوئلے کی ترسیل کی اہم گزرگاہ جو پانی کی کمی سے بندش کے قریب ہے۔
پاناما میں جنگ نہیں، پانی مسئلہ بن گیا
مشرق وسطیٰ میں جنگ جہاں تجارت روک رہی ہے ، وہیں دوسری جانب نہر پاناما کو موسمیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
ال نینو سے منسلک خشک حالات کے باعث پانی کی سطح کم ہوئی ہے، جبکہ ایران جنگ کے بعد بڑھنے والی بحری ٹریفک نے مسئلہ مزید بڑھا دیا ہے۔
بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والی اس نہر سے گزرنے کے لیے جہاز اوسطاً تقریباً 10 دن انتظار کررہے ہیں۔
ان حالات میں انتظار سے بچنا بھی سستا نہیں ہے۔ پاناما کینال اتھارٹی روزانہ نیلامی کے ذریعے جہازوں کو اضافی رقم دے کر قطار سے آگے نکلنے کا موقع دیتی ہے۔
چھوٹے جہازوں کے لیے بولی تقریباً 15 ہزار اور بڑے جہازوں کے لیے 55 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔
رواں اگست ایک کنٹینر جہاز نے قطار سے آگے نکلنے کے لیے تقریباً 40 لاکھ ڈالر تک ادا کیے۔ جہاز کے حجم کے مطابق نہر سے گزرنے کی مجموعی لاگت 11 لاکھ سے 25 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اسی دوران مشرق بعید سے امریکی مشرقی ساحل تک 40 فٹ کنٹینر کی اوسط اسپاٹ شپنگ قیمت سالانہ بنیادوں پر 234 فیصد بڑھ کر 10 ہزار 249 ڈالر ہوگئی۔
📦 ایک کنٹینر مہنگا ہونے سے آپ کی جیب کیسے متاثر ہوگی؟
+
طویل چکر، جنگی خطرات اور نہروں کے تعطل سے کنٹینر کی قیمت 234 فیصد تک بڑھی اور بحری انشورنس 3 گنا ہوگئی۔
کیمیکلز، پرزہ جات اور ایندھن کے کارخانوں تک پہنچنے پر پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے کارخانوں کو پیداوار محدود کرنی پڑتی ہے۔
کمپنیاں شپنگ کے تمام اضافی اخراجات اپنی جیب سے دینے کے بجائے ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں میں شامل کر دیتی ہیں۔
نتیجتاً کریانہ، ادویات، موبائل، گاڑیوں اور بجلی کے بلوں کی شکل میں یہ تمام اضافی قیمت عام شہری ادا کرتا ہے۔
یورپ کی معاشی شہ رگ بھی سوکھنے لگی
اس بحران کا تیسرا منظر جرمنی میں دریائے رائن پر دکھائی دیتا ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے لیے انتہائی اہم اس آبی راستے میں پانی کی سطح تقریباً 150 سال کی کم ترین لیول تک پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ رائن اور ڈینیوب صرف جہازوں کے راستے نہیں بلکہ صنعت و توانائی کے لیے پانی کے اہم ذرائع بھی ہیں۔ اسی لیے ان میں پانی کم ہونے کا اثر فیکٹریوں اور پوری معیشت تک پہنچتا ہے۔
کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے ماہر اسٹیفن کوٹس کے مطابق رائن میں پانی کی کمی رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں جرمن جی ڈی پی کو 0.2 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔
🛒 کون سی چیزیں مزید مہنگی ہوسکتی ہیں؟
اشیاء کی فہرست
▼
خلیجی خطے سے کیمیائی کھادوں اور پام آئل کی ترسیل میں تاخیر اور زیادہ کرایوں کی وجہ سے کسانوں اور عام صارفین کے لیے خوراک کی مجموعی لاگت بڑھے گی۔
امریکی اور ایشیائی آٹو موبائل فیکٹریاں عالمی سپلائرز پر انحصار کرتی ہیں۔ پرزہ جات کی کمی اور تاخیر سے گاڑیوں اور اسپیئر پارٹس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
سیمی کنڈکٹر چپس بنانے والے کیمیکلز ایشیا سے برآمد ہوتے ہیں۔ شپنگ مہنگی ہونے سے موبائل، لیپ ٹاپ اور سرور ہارڈویئر کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
برینٹ خام تیل اور پیٹروکیمیکلز کی مہنگی نقل و حمل سے نہ صرف پیٹرول اور گیس بلکہ پلاسٹک اور پیکیجنگ میٹریل سے بنی ہر بنیادی چیز مہنگی ہو سکتی ہے۔
جہاز مہنگا، چیزیں بھی مہنگی
عالمی شپنگ کے اس بحران کا نتیجہ بالآخر عام صارف کے گھر تک پہنچتا ہے۔
اناج، کھاد اور خوردنی تیل کی کھیپوں کے راستے تبدیل ہورہے ہیں۔ خصوصاً کھاد مہنگی ہونے کا خطرہ بھی بڑھ چکا ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ ہرمز سے گزرتا رہا ہے۔
امریکی آٹو موبائل صنعت ہزاروں پرزوں کے لیے عالمی سپلائرز پر منحصر ہے۔ ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے کھیپوں میں تاخیر پہلے ہی پیداواری لائنوں کو متاثر کررہی ہے۔
💡 مہنگی شپنگ کا بل آخر کون ادا کرتا ہے؟
▶
اشیاء خورونوش، ایندھن اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے اور قوتِ خرید کم ہونے سے افراطِ زر کا براہِ راست شکار عام آدمی بنتا ہے۔
خام مال مہنگا ہونے پر کمپنیاں یا تو منافع میں شدید کمی برداشت کرتی ہیں یا اخراجات قابو کرنے کے لیے پیداوار اور ملازمتوں میں کٹوتیاں کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
اسی طرح الیکٹرانکس اور مصنوعی ذہانت کی صنعت بھی محفوظ نہیں ہے۔ چپس بنانے میں استعمال ہونے والے خصوصی کیمیکل ایشیا سے آتے ہیں اور مہنگی شپنگ براہ راست ان کی لاگت بڑھاتی ہے۔
یعنی ہرمز کی جنگ، پاناما کا کم پانی، رائن کی خشک سالی اور بحیرہ احمر کے خطرات بظاہر الگ بحران ہیں، مگر عالمی منڈی میں ان کا نتیجہ ایک ہی ہے۔
اور وہ نتیجہ یہ ہے کہ سامان پہنچانا مہنگا ہورہا ہے، پیداوار کی لاگت بڑھ رہی ہے اور اس کا بل بالآخر دنیا بھر کے صارفین کو ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔