چین کی ترقی کو صرف معاشی اصلاحات، صنعت یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس سفر میں ایک ایسے انتظامی نظام کا بھی کردار رہا ہے جس میں عہدیدار مختلف سطحوں پر تجربہ حاصل کرتے، تربیت سے گزرتے اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔
تاہم یہ نظام مکمل میرٹ کریسی نہیں اور سیاسی وفاداری، ادارہ جاتی تعلقات اور دیگر عوامل بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مضمون چین کے تجربے کو دوسرے ممالک کے لیے نقل کا نمونہ نہیں بلکہ ادارہ سازی، تربیت اور حکمرانی کے مطالعے کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔
چینی ماڈل کا ایک اور اہم پہلو مسلسل تعلیم اور تربیت ہے۔
اعلیٰ عہدیداروں کو صرف ان تجربات کے سہارے نہیں چھوڑ دیا جاتا جو وہ صوبائی یا مقامی عہدوں پر حاصل کرتے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا مرکزی پارٹی اسکول، جو اب نیشنل اکیڈمی آف گورننس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، اعلیٰ اور درمیانی سطح کے عہدیداروں کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم ادارہ ہے۔
یہاں سیاسی نظریات، حکمرانی، قومی حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔
چینی حکومت نے 2025ء میں پارٹی اسکولوں سے متعلق ضوابط میں بھی نظرِ ثانی کی، جس میں پارٹی ارکان اور عہدیداروں کی تربیت میں ان کے کردار کی دوبارہ توثیق کی گئی۔
لہٰذا چین کی کامیابی کو اس سادہ دعوے تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے صرف اس لیے ترقی کی کہ اس کے پاس ماہرینِ انتظامیہ کے انتخاب کا ایک بے عیب نظام موجود تھا۔ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
چین کی ترقی معاشی اصلاحات، وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری، صنعتی پالیسی، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، بین الاقوامی تجارت، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ایک منظم ریاستی مشینری کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہے۔
عہدیداروں کے انتخاب، تربیت اور انتظام کا نظام اس وسیع تر قومی تبدیلی کا ایک اہم جزو ضرور رہا ہے، مگر پوری داستان نہیں۔