محمد محسن اقبال
اسلام آباد
دریا محض بہتا ہوا پانی نہیں بلکہ تہذیب، زراعت، توانائی، معیشت اور انسانی بقا کی بنیاد ہیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ قومی زندگی کی شہ رگ ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی، علاقائی کشیدگی اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق تازہ اختلافات نے پانی کے سوال کو پہلے سے زیادہ حساس بنادیا ہے۔
عالمی یومِ دریا یاد دلاتا ہے کہ مشترکہ پانیوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے بجائے تعاون، ذمہ داری اور انسانی بقا کے وسیلے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
آج 27 ستمبر کو دنیا عالمی یومِ دریا منا رہی ہے۔
یہ دن ہمیں اُس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جس سے روزمرہ کی قربت کے باعث شاید ہم غافل ہوچکے ہیں کہ دریا محض بہتا ہوا پانی نہیں بلکہ زندگی کی ایک ایسی علامت ہے جس کے بغیر انسانی تہذیب کا تصور بھی ادھورا ہے۔
آخر دریاؤں کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
اس لیے کہ دریا صرف پانی کی روانی کا نام نہیں۔
وہ تہذیب کی رگیں، تاریخ کے خاموش گواہ، کھیتوں کی زندگی، توانائی کے سرچشمے اور اپنے گہرے مفہوم میں خود زندگی کا عکس ہیں۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
دریا محض بہتا ہوا پانی نہیں بلکہ تہذیب، زراعت، توانائی، معیشت اور انسانی بقا کی بنیاد ہیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ قومی زندگی کی شہ رگ ہے اور ملک کا بڑا زرعی و آبی نظام اسی سے وابستہ ہے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960ء کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ پانیوں کے انتظام کا بنیادی فریم ورک رہا ہے۔
آج اصل سوال یہ ہے کہ مشترکہ پانیوں کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنایا جائے یا تعاون، شفافیت اور انسانی بقا کے اصولوں کے تحت سنبھالا جائے۔
قرآنِ حکیم بارہا انسان کی توجہ پانی اور اُن دریاؤں کی طرف مبذول کراتا ہے جو باغات اور سرسبز خطوں کے درمیان رواں دواں ہیں۔
پانی محض ایک مادی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کی قدرتِ تخلیق کی روشن نشانی ہے۔
قرآن ہمیں بارش، مردہ زمین کے دوبارہ زندہ ہونے اور اُن آبی وسائل میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے جو مخلوقات کی بقا کا وسیلہ بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں
حقیقت یہ ہے کہ انسانی تہذیب کی پوری داستان دریاؤں سے جڑی ہوئی ہے۔
عظیم معاشرے دریاؤں کے کناروں پر آباد ہوئے، انہی کے پانی سے زمینیں سیراب کیں اور انہی کی بدولت اپنی خوش حالی کی بنیاد رکھی۔
پاکستان بھی اللہ تعالیٰ کی اُن نعمتوں سے مالا مال سرزمین ہے جسے دریاؤں کی دولت عطا ہوئی۔
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا—جہلم، چناب، راوی، ستلج اور دیگر—ہماری جغرافیائی شناخت، معیشت اور تہذیب کی تشکیل میں بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
یہی دریا ہماری زمینوں کو سیراب کرتے، کسانوں کی محنت کو ثمر دیتے،
مویشیوں کو پانی فراہم کرتے، شہروں کی ضروریات پوری کرتے، پن بجلی کی پیداوار میں حصہ ڈالتے اور اُن ماحولیاتی نظاموں کو زندہ رکھتے ہیں جن پر لاکھوں انسانوں کا انحصار ہے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں، قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔
🌊 دریا محض پانی نہیں — تہذیب کی رگیں ہیں
انسانی تاریخ کی بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پر پروان چڑھیں، کیونکہ پانی نے زراعت، آبادی اور تجارت کو زندگی دی۔
دریا کھیتوں کو سیراب کرتے، شہروں کو پانی دیتے، توانائی پیدا کرتے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھتے ہیں۔
اسی لیے دریا کا تحفظ دراصل انسانی مستقبل، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کا تحفظ ہے۔
اسی لیے اس سال عالمی یومِ دریا ہمارے لیے غیر معمولی معنویت رکھتا ہے۔
دریا سیاسی سرحدوں کو نہیں پہچانتا۔
اُس کے ہاتھ میں کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا، وہ کسی سرحدی چوکی پر نہیں رکتا اور نہ یہ پوچھتا ہے کہ جس سرزمین سے وہ گزر رہا ہے، وہ کس ملک کی ملکیت ہے۔
پانی فطرت کے اُن قوانین کے مطابق بہتا ہے جو خالقِ کائنات نے مقرر کئے ہیں۔
انسان نقشوں پر لکیریں کھینچ سکتا ہے، مگر کسی دریا کے قدرتی بہاؤ اور پورے آبی نظام کی جغرافیائی حقیقت کو اپنی مرضی سے بدلنے کی کوشش کے اثرات صرف نقشوں تک محدود نہیں رہتے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960ء بھی مشترکہ آبی نظام کو باقاعدہ اصولوں کے تحت چلانے کی ایک کوشش تھی۔
کئی برس کی مشکل گفت و شنید کے بعد عالمی بینک کی معاونت سے پاکستان اور بھارت نے دریائے سندھ کے آبی نظام سے متعلق ایک باقاعدہ فریم ورک طے کیا۔
🇵🇰 پاکستان کے لیے دریائے سندھ کیوں ناگزیر ہے؟
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا پاکستان کے زرعی نظام، شہروں، صنعتوں اور پن بجلی کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
لاکھوں کسان، مزدور اور خاندان براہِ راست یا بالواسطہ اس آبی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی لیے دریائے سندھ کا مستقبل پاکستان کے غذائی تحفظ، معیشت اور قومی استقامت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اس کے تحت مشرقی دریاؤں—راوی، بیاس اور ستلج—کے پانی کا بنیادی استعمال بھارت جبکہ مغربی دریاؤں—سندھ، جہلم اور چناب—کا بنیادی استعمال پاکستان کے لیے مختص کیا گیا، اگرچہ معاہدہ دونوں ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت بعض محدود استعمال کی اجازت بھی دیتا ہے۔
معاہدے میں مستقل انڈس کمیشن، معلومات کے تبادلے اور اختلافات کے حل کا نظام بھی شامل ہے۔
6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، بحرانوں اور شدید کشیدگی کے ادوار کے باوجود قائم رہا۔
عالمی بینک بھی اسے ایسے انتظام کے طور پر بیان کرتا رہا ہے جو متعدد کشیدہ ادوار کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان آبی تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا آیا ہے۔
📜 سندھ طاس معاہدہ — 1960ء کا بنیادی فریم ورک
پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی معاونت سے 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ طے کیا۔
مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کا بنیادی استعمال بھارت جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا بنیادی استعمال پاکستان کے لیے مختص کیا گیا۔
معاہدے میں معلومات کے تبادلے، مستقل انڈس کمیشن اور اختلافات و تنازعات کے حل کے طریقۂ کار بھی شامل ہیں۔
دریا سیاسی
سرحدوں کو
نہیں پہچانتا
وہ کسی سرحدی
چوکی پر
نہیں رکتا
مگر اپریل 2025ء میں اس نظام کو ایک سنگین آزمائش کا سامنا ہوا، جب بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو abeyance یعنی التوا میں رکھنے کا اعلان کیا۔
بھارت نے بعد ازاں سرکاری طور پر بھی کہا کہ معاہدہ التوا میں ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں یک طرفہ طور پر اسے معطل یا التوا میں رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں اور معاہدہ بدستور فریقین پر لازم ہے۔
یہ اختلاف 2026ء میں بھی برقرار ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے فروری اور مئی 2026ء میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ وہ معاہدے کے تحت دستیاب طریقۂ کار اور فورمز استعمال کررہا ہے اور معاہدے کو یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کی قانونی گنجائش تسلیم نہیں کرتا۔
دونوں ممالک کے سیاسی اور قانونی مؤقف اپنی جگہ، مگر ایک بنیادی انسانی سوال اس اختلاف سے کہیں بڑا ہے:
مشترکہ پانیوں سے وابستہ لاکھوں انسانوں کی زندگی، روزگار اور غذائی تحفظ کو سیاسی کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کے پانی کے بارے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی محض سفارتی یا سیاسی مسئلہ نہیں۔
اس کا تعلق اُس کسان سے ہے جو اپنی فصل کے لیے پانی کا منتظر ہے، اُس خاندان سے ہے جو مناسب قیمت پر خوراک کا محتاج ہے، اُس مزدور سے ہے جس کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، اُن صنعتوں سے ہے جنہیں پانی کی مسلسل فراہمی درکار ہے اور اُن آبادیوں سے ہے جو پن بجلی اور دریائی ماحولیاتی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔
زیریں علاقوں میں آباد لوگوں کے مفادات کو محض اس لیے غیر یقینی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کہ دو ریاستوں کے سیاسی تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں یہ مسئلہ مزید اہم ہوجاتا ہے۔
جنوبی ایشیا کو سیلاب، خشک سالی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، گلیشیئرز سے متعلق خطرات اور پانی کی دستیابی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
⚖️ چھ دہائیاں — جنگیں بھی، معاہدہ بھی
سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، بحرانوں اور شدید کشیدگی کے باوجود کئی دہائیوں تک قائم رہا۔
اس تجربے نے دکھایا کہ بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق تعاون سیاسی اختلاف کے باوجود جاری رکھا جاسکتا ہے۔
بین الاقوامی معاہدوں کی اصل آزمائش بھی اسی وقت ہوتی ہے جب سیاسی تعلقات کشیدہ ہوں۔
ایسے ماحول میں خطے کو کم نہیں بلکہ زیادہ تعاون کی ضرورت ہے، معلومات کے تبادلے میں کمی نہیں بلکہ وسعت درکار ہے، سیلاب کی پیشگی اطلاع کے مضبوط نظام چاہییں، نہ کہ مزید سیاسی بے یقینی۔
اسی لیے پہلے سے موجود آبی تعاون کے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے زیادہ مؤثر اور شفاف بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
سندھ طاس معاہدہ خود معلومات کے تبادلے اور سوالات، اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔
ایسے نظام اُس وقت سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں جب باہمی اعتماد کمزور ہو۔ بین الاقوامی معاہدوں کی اصل آزمائش اُس وقت نہیں ہوتی جب تعلقات خوش گوار ہوں، اُن کی حقیقی اہمیت اُس وقت سامنے آتی ہے جب تعلقات کشیدہ ہوں۔
⚠️ اپریل 2025ء کے بعد نئی آزمائش
بھارت نے اپریل 2025ء میں سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا۔
پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں یک طرفہ معطلی کی گنجائش نہیں اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار ہی اختیار کیا جانا چاہئے۔
اس اختلاف نے پانی کے مسئلے کو ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی اہم سفارتی اور انسانی تشویش بنا دیا ہے۔
عالمی یومِ دریا کا پیغام محض ماحولیاتی شعور تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دریا انسانی تاریخ کی ایک وسیع تر داستان کا حصہ ہیں۔
وہ ہمارے آج کے تنازعات سے کہیں قدیم ہیں اور، ان شاء اللہ، ہماری سیاسی کشمکش کے بعد بھی بہتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں
دریاؤں کو آلودہ کرنا، اُن کے قدرتی نظام کو تباہ کرنا، اُن کے بہاؤ کو غیر ذمہ دارانہ طور پر متاثر کرنا یا پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا بالآخر انسان ہی کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔
دریائے سندھ نے سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں۔
اُس نے بستیوں کو جنم لیتے، شہر آباد ہوتے اور نسلوں کو محنت کرتے دیکھا ہے۔
اُس کے پانی نے لاکھوں انسانوں کی امیدوں، دعاؤں اور فصلوں کو اپنے ساتھ بہایا ہے۔
اب بھی اس کے پانی کو امن، زندگی اور تعاون کا وسیلہ رہنا چاہیے۔
پاکستان اپنے آبی مفادات اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ پر اصرار کرتا ہے۔
دوسری طرف پائیدار حل کے لیے محض محاذ آرائی کافی نہیں ہوسکتی۔
مشترکہ دریاؤں کا مستقبل ذمہ دارانہ بالائی آبی انتظام، زیریں علاقوں کے مفادات کے تحفظ، شفاف معلومات کے تبادلے، سائنسی تعاون اور تسلیم شدہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے احترام سے وابستہ ہے۔
دریا فطرتاً سخی ہوتا ہے۔
وہ یہ پوچھے بغیر دیتا ہے کہ کون امیر ہے اور کون غریب، کون طاقتور ہے اور کون کمزور۔ شاید انسانیت کا فرض یہی ہے کہ وہ دریا کی اس سخاوت سے کچھ سیکھے۔
عالمی یومِ دریا پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب دریا محفوظ ہوتے ہیں تو معاشرے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں، جب مشترکہ آبی وسائل ذمہ داری سے سنبھالے جاتے ہیں تو قوموں کے درمیان تعاون کے امکانات بڑھتے ہیں، لیکن جب پانی سیاسی دباؤ اور طاقت کی کشمکش کا حصہ بن جائے تو اس سے پیدا ہونے والی بے یقینی دریا کے کنارے تک محدود نہیں رہتی بلکہ کھیتوں، گھروں، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل تک پہنچ جاتی ہے۔
🌾 پانی کی بے یقینی کا اثر کس پر پڑتا ہے؟
یہ مسئلہ صرف حکومتوں یا سفارت کاروں تک محدود نہیں؛ سب سے پہلا اثر کسان اور اس کی فصل پر پڑتا ہے۔
پانی کی کمی یا غیر یقینی خوراک کی قیمتوں، زرعی روزگار، صنعت اور توانائی تک اثر پہنچا سکتی ہے۔
اسی لیے مشترکہ آبی نظام میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات لاکھوں گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
دریائے سندھ کو زندگی کا دریا ہی رہنا چاہیے، سیاست کا ہتھیار نہیں۔
اس کے پانی کو کھیتوں کو سیراب کرنا چاہیے، بجلی پیدا کرنی چاہیے، ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھنا چاہیے اور آنے والی نسلوں کو زندگی کا تحفہ دینا چاہیے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا تحفظ محض ماحولیاتی ذمہ داری نہیں، یہ زراعت، معیشت، غذائی تحفظ، قومی استحکام اور انسانی بقا کا سوال ہے۔
اور شاید عالمی یومِ دریا کا سب سے گہرا پیغام بھی یہی ہے:
پانی زندگی ہے، دریا تہذیب ہیں، اور مشترکہ پانیوں کی ذمہ دارانہ حفاظت صرف ریاستوں ہی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ذمہ داری ہے۔