ستمبر 1965 صرف ایک جنگ کی یاد نہیں بلکہ قومی اتحاد، قربانی اور ذمہ داری کی ایسی علامت ہے جس کی معنویت آج کے سائبر، معاشی، اطلاعاتی اور تکنیکی دور میں مزید بڑھ گئی ہے۔
مضمون اس تاریخی جذبے کو جدید قومی سلامتی، ترقی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی استحکام سے جوڑتا ہے۔
لیکن ستمبر 1965 کا اصل ہیرو کسی ایک فرد کا نام نہیں تھا؛ اصل ہیرو پوری قوم تھی۔
سیاسی، سماجی اور معاشی اختلافات ایک بڑے قومی تشخص کے سامنے عارضی طور پر پس منظر میں چلے گئے تھے۔
اس وقت ایک ہی شناخت سب سے مقدم تھی: پاکستانی۔
مساجد سے دعاؤں کی صدائیں بلند ہوئیں، گھروں میں فوج کے لیے دعائیں کی گئیں، خاندانوں نے سپاہ کے حوصلے بڑھائے اور عام شہریوں نے غیر یقینی اور خوف کے باوجود غیر معمولی عزم و سکون کا مظاہرہ کیا۔
یہی قومی یکجہتی کسی ایک معرکے یا محاذ سے بڑھ کر ستمبر 1965 کی سب سے بڑی فتح تھی۔
6 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس دور کا سبق اپنی تازگی نہیں کھویا۔
بلکہ بدلتی ہوئی دنیا نے اسے مزید اہم اور ناگزیر بنا دیا ہے۔
1965 کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی نسل اب تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
ان کے بچے اور پوتے پوتیاں اب اس امانت کے امین ہیں۔
وہ ایک ایسے ڈیجیٹل عہد میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں آنے والے کل کا میدانِ جنگ کسی تجربہ گاہ، جامعہ، ٹیکنالوجی کمپنی، نیوز روم یا مذاکرات کی میز پر بھی ہو سکتا ہے۔
ممکن ہے انہیں کبھی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی نہ دے، لیکن ان کے فیصلے یہ ضرور طے کریں گے کہ پاکستان محفوظ، خوشحال اور خودمختار رہے گا یا نہیں۔
انہیں صرف اپنے قومی ہیروز کے نام ورثے میں نہیں لینے چاہییں، بلکہ وہ اقدار بھی اپنانا ہوں گی جنہوں نے ان ناموں کو لازوال بنایا۔
راجا عزیز بھٹی شہید انہیں فرض شناسی کا سبق دیں۔
محمد محمود عالم انہیں اعلیٰ کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت دکھائی دیں۔
1965 کے شہداء اور غازی انہیں یہ احساس دلائیں کہ قوم کی اصل طاقت اس بات میں مضمر ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے حصے کا چراغ کتنی دیانت اور ذمہ داری سے روشن کرتا ہے۔
یاد صرف یادگاروں، تقریبات اور تقاریر کا نام نہیں۔
یاد کو ذمہ داری بننا ہوگا، اور قربانی کو ترقی میں ڈھلنا ہوگا۔