تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لئے ایک مرتبہ پھر اسٹریٹ موومنٹ اور ممکنہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
مصنف کے مطابق پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، گرفتاریوں اور دفعہ 144 جیسے اقدامات نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا سے سندھ تک کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مضمون میں علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات، بیرسٹر گوہر کے مؤقف اور 27 ستمبر کی متوقع سیاسی سرگرمیوں کو بھی آنے والے مرحلے کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔
پوسٹ کے مطابق، اس کو تحریک انصاف کا کارکن تصور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس کے بچے اور اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے، جبکہ زندگی کے دیگر امور اور نان و نفقہ کے متعلق پریشانی الگ ہے کہ آمدن کا واحد ذریعہ وہی چھوٹی سی دکان تھی، جسے وہ شخص خود چلاتا تھا۔
گرفتار کرنے کی وجہ اسٹریٹ موومنٹ میں اس کی ممکنہ شرکت بتائی گئی ہے۔
اہل علاقہ کی جانب سے کی گئی اس پوسٹ میں التجا کی گئی ہے کہ حکومت اس کو فی الفور رہا کرے اور اہل علاقہ اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ مذکورہ شخص کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے، البتہ اس کی ذاتی محبت ضرور عمران خان کے ساتھ ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ کیا شہریوں کو اپنی مرضی سے کسی بھی قومی ہیرو کے ساتھ محبت یا عقیدت کا حق بھی ریاست دینے کے لئے تیار نہیں؟
کیا شہریوں سے محبت و عقیدت جبراً حاصل کی جائے گی؟
اسی ہنگام کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی اچانک منظر عام پر آئے اور اپنے ایک انٹرویو میں اپنی کاوشوں کو جتلاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورِ وزارت اعلیٰ میں عمران خان کی ملاقاتیں جاری رہیں، ذاتی معالجین کی رسائی رہی، اخبارات، ٹی وی اور کتابیں میسر رہیں۔
البتہ رہائی سے متعلق عمران خان کو بتا دیا تھا کہ ان کی رہائی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
اپنی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں 3 ماہ قبل ہی اپنی وزارت اعلیٰ کے جانے کی خبر تھی۔
اس وقت ان تمام باتوں کا اظہار کس طرف نشاندہی کرتا ہے، وہ علی امین گنڈاپور کے سابقہ رویے سے واضح ہے کہ چونکہ اب عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ایک تحرک بن رہا ہے، لہٰذا ایسے موقع پر ایسے بیانات دے کر کیا حق نمک ادا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یا عوام میں بددلی پھیلانے کا کام دانستہ کیا جا رہا ہے؟