براہ راست نشریات

لانگ مارچ سے اسٹریٹ موومنٹ تک.. تحریک انصاف پھر سڑکوں پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Street Movement
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لئے ایک مرتبہ پھر اسٹریٹ موومنٹ اور ممکنہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
مصنف کے مطابق پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، گرفتاریوں اور دفعہ 144 جیسے اقدامات نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا سے سندھ تک کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مضمون میں علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات، بیرسٹر گوہر کے مؤقف اور 27 ستمبر کی متوقع سیاسی سرگرمیوں کو بھی آنے والے مرحلے کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لئے تیسری مرتبہ سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ 

کے پی میں اپنی حکومت ہونے اور عوام کی عمران خان کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کے باعث، تحریک انصاف کا جو رہنما بھی عوام میں جاتا ہے، اس کی زبردست پذیرائی دیکھنے کو ملتی ہے، حتیٰ کہ غیر سیاسی افراد جیسے علیمہ خان کی پذیرائی بھی کے پی کے عوام نے بھرپور کی۔

گزشتہ دو کاوشوں میں بھی کے پی کے عوام ہی اس جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 

گو کہ پنجاب، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں سے بھی عوام عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن پنجاب میں اس قدر فسطائیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے ہی نہیں دیا جاتا۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ایک نئی سٹریٹ موومنٹ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
  • کالم میں خیبرپختونخوا کو تحریک کا سب سے فعال سیاسی اور تنظیمی مرکز قرار دیا گیا ہے۔
  • مصنف پنجاب میں گرفتاریوں، دفعہ 144 اور سیاسی اجتماعات پر پابندیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
  • سہیل آفریدی کی سندھ میں سرگرمیوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششوں کو آئندہ مرحلے کے لئے اہم سمجھا گیا ہے۔
  • 27 ستمبر کو کالم میں ایک اہم سیاسی امتحان اور ممکنہ فیصلہ کن تاریخ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
overseaspost.net

پنجاب پر مسلط حکمرانوں کی ذہنی استعداد کہیں یا روش سمجھیں، ان کو اس کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ جمہوری اقدار کیا ہیں اور ماضی میں وہ خود کس قسم کے مظاہرے جمہوریت کے نام پر کرتے رہے ہیں۔ 

لیکن اس وقت پنجاب کے حکمرانوں نے فسطائیت و فرعونیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے مخالفین کے لئے زندگی تنگ کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں

پنجاب حکومت کی جانب سے تیر بہدف نسخہ ایک ہی ہے کہ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی جائے اور انہیں سیاسی جدوجہد کرنے کی بجائے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، وہ اپنے مقدمات کو بھگتنے میں لگے رہیں۔ 

جبکہ عدالتوں کی جو حالت ان حکمرانوں نے کر رکھی ہے، وہاں سے انصاف ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

 بالخصوص موجودہ حکمرانوں کے مخالفین اس میں بری طرح ناکام رہتے ہیں، وگرنہ جو مقدمات مخالفین پر بنائے جاتے ہیں، اگر عدالتیں آزاد ہوں، قانون کے مطابق ہی روبہ عمل ہوں اور ان پر سیاسی دباؤ نہ ہو تو ایسے مقدمات دو دن عدالتوں میں ٹک نہیں سکتے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISخیبرپختونخوا کیوں اہم ہے؟

کالم کے مطابق تحریک انصاف کی حالیہ سیاسی تحریک میں خیبرپختونخوا بنیادی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ مصنف کا استدلال ہے کہ صوبے میں پارٹی کی حکومت اور عمران خان کے لئے عوامی حمایت کارکنوں کو مسلسل متحرک رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔

تنظیمی برتریپارٹی کو صوبائی سطح پر سیاسی و انتظامی موجودگی حاصل ہے۔
عوامی توانائیکالم میں کے پی کے کارکنوں کو گزشتہ کوششوں کا ہراول دستہ قرار دیا گیا ہے۔
قیادت کی نقل و حرکتسہیل آفریدی کی سرگرمیاں صوبائی حدود سے باہر بھی پھیلتی دکھائی گئی ہیں۔
لانگ مارچ کا محوراسلام آباد کی طرف بڑی تعداد لانے کی صلاحیت کو اہم سوال بنایا گیا ہے۔
overseaspost.net

علاوہ ازیں! کل تک ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو علم ہوتا کہ جمہوری عمل میں ایک شخص کا ایک ووٹ ہوتا ہے اور سپورٹس مین سپرٹ کے مطابق حکومت بنانے کا حق جیتنے والے کا ہوتا ہے۔ 

مگر جمہوری لبادوں میں ملبوس یہ آمر کسی اصول یا ضابطے کو نہیں مانتے اور ان کی تشریحات اپنی رہتی ہیں۔ 

بس اقتدار ملنا چاہئے، خواہ راستہ غیر جمہوری ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے یہ حکمران کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔

کسی بھی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لئے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے، دھونس، جبر، ظلم و ستم سے مخالفین کا ناطقہ بند کیا جاتا ہے۔

ابھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس سے ان حکمرانوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا کہ ائیرپورٹ روڈ پر ایک شخص چھوٹی سی دکان میں اپنی فیملی کا رزق حاصل کرتا تھا، مگر ذاتی طور پر وہ عمران خان کا شدید مداح تھا، اس کے انداز میں اپنی زندگی گزارتا، اپنی دکان کے اندر عمران خان کی تصاویر آویزاں کئے ہوئے تھا اور اسی کے انداز میں بالنگ کرتا۔ 

یعنی عمران خان کے ہر انداز کو نقل کرنا ہی اس کی عمران خان سے محبت کا ثبوت تو تھا ہی، مگر یہی اس کا جرم بھی بن گیا۔

BGOVERSEAS POST | SIGNALبیرسٹر گوہر کا جملہ کیوں اہم ہے؟

کالم میں بیرسٹر گوہر کے پراعتماد انداز میں کہے گئے جملے کہ “اس مرتبہ گولی نہیں چلے گی” کو ایک اہم سیاسی اشارے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

  • مصنف کے نزدیک یہ بیان احتجاج کے آئندہ ماحول کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔
  • یہ ممکنہ سیاسی رابطوں یا اعتماد کی کیفیت کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، مگر کالم اس کی قطعی وجہ فراہم نہیں کرتا۔
  • اس لئے اسے مصنف کے سوالیہ تجزیے تک محدود رکھنا ادارتی طور پر بہتر ہے۔
overseaspost.net

خیبرپختونخوا
اس تحریک کا
مرکزی سیاسی
اور تنظیمی مرکز
بنا ہوا ہے

پوسٹ کے مطابق، اس کو تحریک انصاف کا کارکن تصور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس کے بچے اور اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے، جبکہ زندگی کے دیگر امور اور نان و نفقہ کے متعلق پریشانی الگ ہے کہ آمدن کا واحد ذریعہ وہی چھوٹی سی دکان تھی، جسے وہ شخص خود چلاتا تھا۔
گرفتار کرنے کی وجہ اسٹریٹ موومنٹ میں اس کی ممکنہ شرکت بتائی گئی ہے۔
اہل علاقہ کی جانب سے کی گئی اس پوسٹ میں التجا کی گئی ہے کہ حکومت اس کو فی الفور رہا کرے اور اہل علاقہ اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ مذکورہ شخص کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے، البتہ اس کی ذاتی محبت ضرور عمران خان کے ساتھ ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ کیا شہریوں کو اپنی مرضی سے کسی بھی قومی ہیرو کے ساتھ محبت یا عقیدت کا حق بھی ریاست دینے کے لئے تیار نہیں؟
کیا شہریوں سے محبت و عقیدت جبراً حاصل کی جائے گی؟

✓?OVERSEAS POST | EDITORIAL CHECKخبر کیا ہے، رائے کیا ہے؟
مضمون میں بطور واقعہ بیانتحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری، سندھ میں سیاسی سرگرمیاں، 27 ستمبر کا حوالہ اور رہنماؤں کے بیانات۔
مصنف کی رائےپنجاب حکومت کے بارے میں سخت سیاسی زبان، عدالتی نظام پر تنقید اور ریاستی اقدامات کی تشریح۔
الزام یا دعویٰگرفتاریوں، جبری تصاویر، فارم 47 اور سیاسی دباؤ سے متعلق متعدد نکات مصنف کے دعووں اور زاویۂ نظر کے طور پر پیش ہوئے ہیں۔
ادارتی احتیاطالزامات کو آزادانہ خبر بناتے وقت الگ تصدیق اور متعلقہ فریق کا مؤقف ضروری ہوگا۔
بنیادی اصول: یہ تحریر کالم ہے، اس لئے شدید سیاسی تعبیرات کو مصنف سے منسوب رکھنا چاہئے۔
overseaspost.net

جیسا پنجاب کے شہروں میں غریب مزدوروں کی ریہڑیوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی جبراً تصاویر آویزاں کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عوامی مقبولیت کیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہ کرنے والوں سے مزدوری کرنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے، ان کا ذریعہ آمدن برباد کر دیا جاتا ہے۔
کیا کسی جمہوری ریاست میں امور ایسے چلتے ہیں؟ 

شہریوں کی رائے کو یوں اغوا کیا جاتا ہے؟

خیر، شہریوں کی رائے تو 8 فروری 2024 میں لوٹنے والوں نے زبردستی لوٹ لی اور موجودہ حکمرانوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر لا بٹھایا، جس کے بعد ان حکمرانوں سے شہری رائے کو تسلیم کرنا یا اس کو عزت دینا حماقت ہی ہوسکتی ہے کہ جب سیاں ہوئے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ 

لمحۂ موجود میں عوام اس جبر، ظلم و ستم کو طوعاً و کرہاً برداشت کر رہے ہیں مگر درپردہ لاوا پک رہا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ لاوا کب، کیسے اور کتنا پھٹے گا اور اس لاوے میں کیا کچھ بہہ جائے گا یا راکھ ہو جائے گا۔

144OVERSEAS POST | POLITICAL CONTEXTپنجاب: احتجاج، گرفتاری اور دفعہ 144

مصنف کا سب سے سخت تنقیدی زاویہ پنجاب کے گرد بنتا ہے۔ کالم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی نقل و حرکت محدود کرنے، اجتماعات روکنے اور احتجاج سے پہلے گرفتاریوں کے لئے دفعہ 144 سمیت مختلف اقدامات استعمال کئے جاتے ہیں۔

  • 1مصنف اسے جمہوری حقِ احتجاج اور شہری آزادیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
  • 2کالم میں سیاسی دباؤ کو عوامی ناراضی بڑھانے والا عنصر قرار دیا گیا ہے۔
  • 3یہ تمام نکات مصنف کی سیاسی تشریح کے طور پر پیش کئے گئے ہیں، آزاد عدالتی یا سرکاری تصدیق کے طور پر نہیں۔
overseaspost.net

ایک طرف عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا رہا تو دوسری طرف ان کے حقوق بھی جبراً سلب کئے جا رہے ہیں۔ 

اس ناانصافی اور فارم 47 کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کا حق آئین فراہم کرتا ہے، مگر پنجاب حکومت ایسے کسی بھی احتجاج کا سنتے ہی کانپیں ٹانگنے کا عملی مظاہرہ شروع کر دیتی ہے اور بلاوجہ، قبل از وقت ہی عوام کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔

دفعہ 144 کا نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی شمار ہوتی ہے اور پنجاب کے طول و عرض میں اس دفعہ کا نفاذ صرف اس لئے کر دیا جاتا ہے کہ عوامی اجتماعات کو قبل از وقت ہی روکا جا سکے۔ 

یہ اقدامات وقتی طور پر تو عوامی جذبات کو کنٹرول کر لیتے ہیں، لیکن چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی، جو کسی جرم کے سرزد ہونے سے پہلے ہی غیر قانونی طور پر کی جاتی ہے، عوام کو متنفر کرنے کے لئے کافی ہے۔

 

ان ظالمانہ اقدامات کے بعد عوام میں انقلابی روح اگر بیدار ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ 

حالانکہ میری دانست میں یہ ناانصافیوں کے خلاف ردعمل ہو گا۔ 

اگر انقلابی روح بیدار ہونا ہوتی تو جتنے غیر قانونی اقدامات اب تک ہو چکے ہیں، جو ناانصافیاں اب تک ہو چکی ہیں، ان کے خلاف پنجاب کے شہری بھرپور طریقے سے سڑکوں پر نکل چکے ہوتے۔ 

لیکن لگتا ہے کہ ابھی پنجاب کا پیمانۂ صبر لبریز نہیں ہوا، وگرنہ پنجاب نے بڑی بڑی تحریکیں چلا رکھی ہیں۔

بہرحال، کے پی کے وزیر اعلیٰ ایک طرف کے پی کے شہریوں کو جنون دے کر اب سندھ کے دورے پر ہیں اور آج شام کو، بشرطیکہ سندھ حکومت بھی ان کے قافلوں سے خوفزدہ نہ ہوئی اور انہیں اپنی تحریک چلانے دی، کراچی میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔

27OVERSEAS POST | DATE TO WATCH27 ستمبر کیوں اہم ہے؟

کالم میں 27 ستمبر کو محض ایک تاریخ نہیں بلکہ تحریک انصاف کی تنظیمی طاقت، عوامی شرکت اور سٹریٹ موومنٹ کی عملی صلاحیت کا امتحان قرار دیا گیا ہے۔

عوامی شرکتکیا پارٹی خیبرپختونخوا سے بڑی تعداد کو اسلام آباد کی طرف متحرک کر سکے گی؟
صوبائی ردعملپنجاب اور سندھ کی حکومتیں اجتماعات اور قافلوں کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کریں گی؟
سڑکوں کا دباؤکیا تحریک اہم شاہراہوں پر سیاسی دباؤ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگی؟
سیاسی اثرکیا یہ سرگرمی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو نئی رفتار دے سکے گی؟
overseaspost.net

گو کہ سہیل آفریدی اس وقت لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں اور بیک وقت اپنے کارکنان اور ووٹرز کو متحرک و فعال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سیاسی شطرنج کی بساط پر وفاق کی جانب سے نئے صوبوں کا شوشہ عین اس وقت چھوڑا گیا جب تحریک انصاف اسٹریٹ موومنٹ کو پوری طرح فعال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 

عین ممکن ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت کر رہی ہے، اس کو آڑ بناتے ہوئے تحریک انصاف کی اس جدوجہد کو روک دیا جائے اور یوں تاحال جس طرح سندھ نے عمران خان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے، اس کو درمیان میں ہی روک دیا جائے۔

نئے صوبوں کی
بحث کو بھی
موجودہ سیاسی
کشمکش کے
تناظر میں
دیکھا گیا ہے

اسی ہنگام کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی اچانک منظر عام پر آئے اور اپنے ایک انٹرویو میں اپنی کاوشوں کو جتلاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورِ وزارت اعلیٰ میں عمران خان کی ملاقاتیں جاری رہیں، ذاتی معالجین کی رسائی رہی، اخبارات، ٹی وی اور کتابیں میسر رہیں۔ 
البتہ رہائی سے متعلق عمران خان کو بتا دیا تھا کہ ان کی رہائی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
اپنی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں 3 ماہ قبل ہی اپنی وزارت اعلیٰ کے جانے کی خبر تھی۔
اس وقت ان تمام باتوں کا اظہار کس طرف نشاندہی کرتا ہے، وہ علی امین گنڈاپور کے سابقہ رویے سے واضح ہے کہ چونکہ اب عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ایک تحرک بن رہا ہے، لہٰذا ایسے موقع پر ایسے بیانات دے کر کیا حق نمک ادا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یا عوام میں بددلی پھیلانے کا کام دانستہ کیا جا رہا ہے؟

AGOVERSEAS POST | LEADERSHIPعلی امین گنڈاپور کے بیانات کا مطلب؟

کالم میں سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات کو خاص سیاسی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق ان کے یہ دعوے—کہ عمران خان کو ملاقاتیں، معالجین، اخبارات، ٹی وی اور کتابیں میسر رہیں—ایک ایسے وقت سامنے آئے جب رہائی کے مطالبے پر تحریک دوبارہ متحرک ہو رہی ہے۔

مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا یہ بیانات سیاسی دفاع، اندرونی پیغام رسانی یا کارکنوں میں بددلی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ تشریح مصنف کی اپنی رائے ہے۔
overseaspost.net

بیرسٹر گوہر کا پراعتماد انداز میں کہنا کہ اس مرتبہ گولی نہیں چلے گی، معاملات کو عجیب بنا رہا ہے۔

بہرحال، ان تمام حقائق کے باوجود سہیل آفریدی اپنے عزم میں پختہ دکھائی دے رہے ہیں اور جو دو ماہ کا وقت انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے طے کیا تھا، اس وقت درست ثابت ہو رہا ہے۔ 

جس طرح وہ عوام میں جا رہے ہیں اور انہیں متحرک کر رہے ہیں، بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ اس مرتبہ عوام کی بڑی تعداد کو نہ صرف اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ عمران خان کی ہدایت کے مطابق سٹریٹ موومنٹ میں بھی کامیاب ہوں گے اور پاکستان کی اہم شاہراہوں کو بند کر پائیں گے۔

27 ستمبر اب زیادہ دور نہیں، پتہ چل جائے گا۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔