براہ راست نشریات

ناکام نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
پاکستان کا ناکام سیاسی نظام

کیا سیاسی جماعتیں نظام بدل سکتی ہیں یا اقتدار کے مراکز چہرے بدل کر پرانا بندوبست برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟

Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار - ریاض

پاکستان میں نظام کی ناکامی کا اعتراف اب خود حکومتی حلقوں سے سامنے آ رہا ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق موجودہ بندوبست آئندہ 10 برس میں بھی نتائج دینے کے قابل نہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ نظام کو ناکام بنانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
نظام اسی وقت کامیاب ہوگا جب حقِ حکمرانی حقیقتاً عوام کو واپس ملے گا۔

دنیا میں اس وقت جمہوری نظامِ حکومت کو سب سے زیادہ قابلِ قبول اور کامیاب سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ اس میں عوام کو حقیقی اہمیت دی جائے، ان کی رائے کو مقدم رکھا جائے، جمہوری اقدار کو فروغ ملے اور ریاستی وسائل ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوں۔ 

بنیادی اصول یہی ہے کہ نظامِ حکومت خواہ پارلیمانی ہو یا صدارتی، اس کا اصل مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ اور انہیں ترقی و خوش حالی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہونا چاہئے۔

بادشاہی نظام اپنی ساخت میں جمہوریت سے مختلف ہے، لیکن اگر وہ بھی عوام کی فلاح، انصاف اور بنیادی حقوق کو یقینی بنائے تو اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

اس کے برعکس دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بادشاہتیں حکمرانوں کی بداعمالیوں، ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس کے نتیجے میں زمین بوس ہو گئیں۔

مزید پڑھیں

جمہوری نظام کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ عوام ہر نئے انتخاب میں اپنے حکمران منتخب کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ 

اگر حکمران ملک اور عوام کے مفادات کا تحفظ نہ کر سکیں تو شہری انہیں اقتدار سے الگ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جو حکمرانوں کے لیے حدود و قیود متعین کرتا اور انہیں جواب دہ بناتا ہے۔

اس کی ایک حالیہ مثال پڑوسی ملک بھارت میں دیکھنے کو ملی، جہاں 

ایک جانب نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کہنے کے معاملے نے شدید ردعمل کو جنم دیا اور ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد پڑی، جس کے نتیجے میں بھارتی حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور سپریم کورٹ کو بھی معذرت کرنا پڑی۔

 دوسری جانب بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کی سیاسی جدوجہد اور کارکردگی نے انہیں ایک مقبول رہنما بنا دیا ہے۔ 

انہوں نے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق دہائیوں سے موجود بعض مسائل حل کئے، جن کے نتائج نے نہ صرف لوگوں کو سہولتیں فراہم کیں بلکہ عوام اور ریاستی مشینری کے درمیان فاصلے بھی کسی حد تک کم کئے۔

خلاصہ
پاکستان میں نظام کی ناکامی کا اعتراف اب خود حکومتی حلقوں سے سامنے آ رہا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق موجودہ بندوبست آئندہ دس برس میں بھی نتائج دینے کے قابل نہیں۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ نظام کو ناکام بنانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ نظام اسی وقت کامیاب ہوگا جب حقِ حکمرانی حقیقتاً عوام کو واپس ملے گا۔

اس کے برعکس ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال انتہائی افسوس ناک دکھائی دیتی ہے۔ 

یہ ملک اب محض پاکستان کہلانے کے قابل رہ گیا ہے، کیونکہ نہ یہاں اسلامی شریعت کی روح نمایاں ہے اور نہ جمہوری اقدار پوری طرح دکھائی دیتی ہیں۔ 

اس کے باوجود اسے آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔

پاکستان جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، مگر اسے سیاسی اور جمہوری اعتبار سے دانستہ طور پر بنجر کیا گیا۔ 

اس کی جمہوری جڑیں کاٹی گئیں، جمہوریت پسندوں کو نشانِ عبرت بنایا گیا اور سیاسی نرسریوں میں ایسے کردار پروان چڑھائے گئے جن کے ذاتی مفادات ہمیشہ قومی مفادات سے کہیں بڑے ثابت ہوئے۔ 

اس کے باوجود آج بھی انہی کرداروں کی پرورش پر اصرار جاری ہے۔

حقیقی جمہوریت میں کسی ریاستی ادارے کی حیثیت آئین میں طے شدہ حدود سے زیادہ نہیں ہوتی، مگر ہمارے ہاں طاقت ور حلقے اپنی آئینی حدود میں واپس جانے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ 

اقتدار اور اختیار کا ذائقہ ایک مرتبہ منہ کو لگ جائے تو اسے چھوڑنا آسان نہیں رہتا، خواہ اس کی قیمت ملک و قوم کی تباہی ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب بونے اور خوشامد پسند درباری ہاتھ باندھے اور سر جھکائے آقاؤں کے حضور عرض کرتے دکھائی دیتے ہیں:

جھکا کر سر سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور کا شوق سلامت رہے، شہر اور بہت

چار اہم نکات
  • جمہوری نظام کی کامیابی کا بنیادی معیار عوام کی حقیقی حکمرانی اور حکمرانوں کی جواب دہی ہے۔
  • سیاسی بندوبست میں عوامی مینڈیٹ کے بجائے غیر منتخب طاقت کے مراکز فیصلہ کن دکھائی دیتے ہیں۔
  • نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی بات کے باوجود مداخلت اور آئینی حدود کے سوالات برقرار ہیں۔
  • حقیقی اصلاحات کا آغاز عوام کو ان کا حقِ حاکمیت واپس دینے سے ہونا چاہیے۔

وہ سر جھکائیں بھی کیوں نہ، جب عوامی حمایت کی حالت یہ ہو کہ صرف سترہ نشستیں حاصل کرنے والوں کو 25 کروڑ عوام کی قسمت کا مالک بنا دیا جائے۔ 

ایسی صورت میں سرتابی کی جرأت کون کرے؟ 

جو مزاحمت کرے، وہ اڈیالہ کا مہمان بن سکتا ہے، شہرِ اقتدار میں مسندِ اقتدار پر کیسے بیٹھ سکتا ہے؟

یہاں اقتدار کا راستہ عوامی تائید سے زیادہ سر جھکانے سے کھلتا دکھائی دیتا ہے۔ 

فردِ جرم عائد ہونے سے ایک رات پہلے ’رجیم چینج‘ ہو جاتی ہے اور اقتدار کا ہما ایک مخصوص سر پر جا بیٹھتا ہے۔ 

پھر یہ تاج اس مضبوطی سے سجایا جاتا ہے کہ اگلی مدت کے لیے بھی تخت کی ضمانت ملنے لگتی ہے۔ 

اس پورے عمل میں گھروں کے گھر جلیں یا شہروں کے شہر، اس کی پروا کس کو ہوتی ہے؟

یہ بھی بے معنی بنا دیا جاتا ہے کہ کل تک جمہوریت کے بارے میں کسی سیاسی شخصیت، اس کی جماعت اور اس کے قائد کی کیا رائے تھی۔ 

جب مطمحِ نظر صرف اقتدار ہو تو اصول، نظریات اور ماضی کے مؤقف سب پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

ایک منٹ میں کالم
پاکستان کے نظام کو ناکام قرار دینا کافی نہیں؛ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اسے ناکام کس نے بنایا اور اس ناکامی سے فائدہ کس نے اٹھایا۔ اگر حکومت، سیاسی جماعتیں اور طاقت ور ادارے سب اسی بندوبست کا حصہ رہے ہیں تو محض نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کا نعرہ مسئلے کا حل نہیں۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس جائیں، سیاسی فیصلے عوامی مینڈیٹ کے مطابق ہوں اور اقتدار کا سرچشمہ حقیقتاً عوام بنیں۔

اب یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے چراغوں سے روشنی ختم ہو رہی ہے اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں کا موسم اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ 

حکومت کے ایک اہم ترین وزیر کی جانب سے سامنے آنے والی چارج شیٹ نے یقیناً بہت سے طبق روشن کر دیے ہوں گے۔ 

حکمرانوں کا یہ اعتراف بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر وزیر موصوف چاہتے تو انہیں وزیراعظم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ حکمرانوں کا یہ اندیشہ اب حقیقت میں بدلنے کے قریب ہے۔ 

وزیر داخلہ محسن نقوی کی بطور وزیر داخلہ کارکردگی شاید غیر معمولی یا بہت زیادہ متاثر کن نہ کہی جا سکے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں ان کے جو روابط قائم ہوئے، غالباً اب انہیں بروئے کار لانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ 

شاید اسی تناظر میں انہوں نے وہ باتیں کہہ دی ہیں جو موجودہ نظام کی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف معلوم ہوتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف نظام کی ناکامی ہے یا اسے ان لوگوں کی ناکامی بھی قرار دیا جائے جو خود اس نظام کا حصہ ہیں؟ 

کیا یہ سمجھا جائے کہ کسی نئے نظامِ حکومت کی بنیاد رکھنے سے پہلے ہی مختلف شخصیات اپنی اپنی حیثیت کا تعین کرانے کی کوشش کر رہی ہیں؟

i فیکٹ باکس
بنیادی موضوع پاکستان کے سیاسی و جمہوری نظام کی ناکامی
مرکزی سوال کیا چہروں کی تبدیلی سے نظام کی اصلاح ممکن ہے؟
مصنف کا مؤقف اقتدار اور حقِ حکمرانی عوام کے پاس ہونا چاہیے
اصلاح کا راستہ آئینی بالادستی، سیاسی مکالمہ اور اداروں کی حدود

ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو گھر بھیج دیا جاتا ہے تو کیا وہ خاموشی اور سکون کے ساتھ اقتدار چھوڑ دیں گے؟ 

مزاحمت کے نتیجے میں تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہوا، کیا موجودہ حکمران بھی اسی نوعیت کی سختیاں برداشت کر پائیں گے، بشرطیکہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے؟

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے اور کچھ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو، یہ ضرور سیکھ لیا ہے کہ جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے نکلنے لگے، فوری طور پر اپنے دوسرے وطن کا رخ کر لیا جائے، جہاں ان کے کاروبار اور مفادات موجود ہیں۔ 

اس کے بعد اس وقت تک شور مچایا جاتا ہے جب تک طاقت ور حلقوں کے ساتھ رابطے دوبارہ بحال نہ ہو جائیں۔ 

پھر ایک مخصوص مدت تک خاموش رہ کر اقتدار میں واپسی کا انتظار کیا جاتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا کہ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد موجودہ حکمرانوں کو لازماً مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا، ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے درست دکھائی نہیں دیتا۔ 

جہاں تک قانون کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں قانون عموماً اسی وقت حرکت میں آتا ہے جب اسے متحرک کرنے والے آمادہ ہوں۔ 

ضرورت پڑنے پر وہ بلاجواز بھی متحرک ہو جاتا ہے اور جب سیاسی مصلحت کا تقاضا ہو تو ائیرپورٹ پر جا کر کسی مطلوب شخص کے لیے راستہ بھی صاف کر دیا جاتا ہے۔

؟ کالم کا مرکزی سوال
اگر موجودہ نظام ناکام ہے تو اسے ناکام بنانے والوں کا احتساب کون کرے گا، اور حقِ حکمرانی عوام کو کب واپس ملے گا؟

وزیر داخلہ نے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہی نظام قائم رہتا ہے تو یہ اگلے دس برس میں بھی ڈیلیور کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ 

ان کے مطابق نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 

ان کی رائے میں صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یہ کام نہیں کر سکتیں، بلکہ تحریک انصاف کو بھی نظام بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بات یہاں تک درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اصل مسئلے پر گفتگو کرنے کے بجائے وزیر داخلہ نے یہ کہہ کر ایک بار پھر خوف پیدا کرنے کی کوشش کی کہ اگر سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر نظام درست نہیں کرتیں تو مداخلت بھی ہو سکتی ہے، اگرچہ بظاہر ایسا کرنے کی خواہش نہیں ہے۔

یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ نظام میں آئینی ترامیم بھی مبینہ طور پر غیر سیاسی شخصیات کی خواہش پر ہوتی ہیں، لیکن وزیر داخلہ اتنی واضح مداخلت کے باوجود مزید مداخلت کی تنبیہ کررہے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ آخر مداخلت اور کس طرح ہوتی ہے؟

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

معاشی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔ 

مگر یہ راز آج اچانک کیسے آشکار ہوا؟ 

وہ خود بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ 

پھر ان ہی کے بیان کے مطابق اگر اس ملک سے سو ارب ڈالر چرائے گئے ہیں تو اس لوٹ مار کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کا تعین کیوں نہیں کیا جاتا؟

بدقسمتی یہ ہے کہ اربابِ اختیار آج بھی آدھا سچ بولنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ 

ایک طرف پاکستان میں موجود نظام کی ناکامی کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف آزاد کشمیر میں اسی بوسیدہ نظام کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 

آزاد کشمیر کے عوام اپنا حقِ حاکمیت مانگ رہے ہیں، لیکن انہیں یہ حق دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ 

ایسے میں پاکستان کے نظام کی ناکامی کا اعتراف دہرے معیار سے کم نہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

نقوی صاحب! 

اگر واقعی یہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو نظام کی اصلاح کا آغاز آزاد کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ حاکمیت دے کر کیجئے۔ 

بصورتِ دیگر یہ تمام باتیں کسی اور ہی سمت اشارہ کرتی ہیں: 

شاید موجودہ حکمرانوں سے جان چھڑانے کی تیاری تو ہو رہی ہے، مگر عوام کو طاقت کے موجودہ بندوبست سے نجات دینے اور انہیں ان کا حقِ حاکمیت واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

رہی بات جمہوریت کی تو پاکستان جیسے ملک میں طاقت کے مراکز شاید کسی بھی صورت مکمل جمہوریت دینے کے لیے تیار نہیں۔ 

تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ کوئی بھی نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اقتدار کا سرچشمہ حقیقتاً عوام ہوں، ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہیں اور حقِ حاکمیت کسی فرد، خاندان یا ادارے کے بجائے عوام کے پاس ہو۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے