کیا خلیج کو جنگ کے خوف اور جوہری تعاون کی پیشکش کے درمیان ابراہیم اکارڈ قبول کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے؟
محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار ۔ ریاض
مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی جنگ کے دوران امریکا کی عسکری ساکھ، اسرائیل کے علاقائی عزائم اور خلیجی ممالک پر بڑھتے سیاسی دباؤ سے کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مضمون نگار کے مطابق سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود جنگ سے دور رہ کر دانش مندی کا مظاہرہ کیا، مگر اب جوہری تعاون اور علاقائی سلامتی کو اسرائیل سے تعلقات کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں ایک نئے امتحان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگی داؤ پیچ مسلسل جاری ہیں، لیکن بدقسمتی سے امریکا مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں اپنے ان فوجی اڈوں کی حفاظت میں بھی بری طرح ناکام ہوچکا ہے، جنہیں خطے کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا تھا اور جن کے عوض امریکا دہائیوں سے خلیجی ریاستوں سے بھاری معاوضہ وصول کررہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں کے بارے میں عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ براہِ راست کسی بھی قسم کی جارحیت میں ملوث ہوئے بغیر، اپنے معدنی وسائل کو اپنی ریاستوں کی ترقی و خوش حالی اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے بروئے کار لاتی ہیں۔
اس کے باوجود وہ نہ صرف اپنے گردوپیش بلکہ عالمی سیاسی بساط سے بھی بخوبی باخبر رہتی ہیں۔
وہ اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے نہیں چوکتیں اور ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ خطے اور دنیا بھر میں امن قائم رہے۔
اس کی واضح مثال غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران سامنے آئی، جب خلیجی ریاستیں بالعموم اور سعودی عرب بالخصوص انتہائی فعال اور متحرک رہے۔
مزید پڑھیں
ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح سفارت کاری کے ذریعے اسرائیلی جارحیت روکی جاسکے اور غزہ کے نہتے شہریوں کی نسل کشی کو لگام دی جاسکے۔
بدقسمتی سے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے اسرائیل کی جانب جھکاؤ کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
تاہم ٹرمپ نے دنیا میں چند جنگیں رکوائیں بھی، جن کا کریڈٹ وہ آج بھی لینے سے گریز نہیں کرتے، مگر اصل جنگیں—اسرائیل اور یوکرین—رکوانے میں ان کی ایک نہ چلی۔
ان جنگوں میں آج بھی انسانی جانوں کا زیاں ہورہا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت روکنے کی کوششوں میں ناکامی کہیں یا اسے ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا جائے، یہ جنگ دن بہ دن مزید پھیلتی جارہی ہے۔
اس کا دائرۂ کار اسرائیلی منصوبے کے مطابق بتدریج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا دکھائی دے رہا ہے۔
اہم نکات +
- مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے امریکی عسکری طاقت اور علاقائی دفاعی کردار پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
- خلیجی ریاستوں نے جنگ میں براہِ راست ملوث ہونے کے بجائے سفارت کاری اور علاقائی استحکام کو ترجیح دی۔
- سعودی عرب نے اشتعال انگیزی اور دباؤ کے باوجود خود کو جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔
- وسیع جنگ خلیجی ممالک کی سلامتی، معیشت اور کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی ترقی کو متاثر کرسکتی ہے۔
- مضمون نگار کے مطابق علاقائی کشیدگی کو ابراہام اکارڈز کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
- مضمون کا مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا امن، دفاع اور جوہری تعاون کو اسرائیل سے تعلقات کے ساتھ مشروط کیا جارہا ہے؟
جیسا کہ عرض کیا، امریکا بظاہر ایران میں ’رجیم چینج‘ کے منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایران پر چڑھائی تو کر بیٹھا، مگر غالب امکان یہی ہے کہ اس کے پسِ پردہ اسرائیلی کاوشیں موجود ہیں۔
انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکا 12 ہزار کلومیٹر دور آکر ایران سے سینگ پھنسا بیٹھا اور اپنی سپر پاور کی حیثیت کو بھی چیلنج کروا دیا۔
اب جب تک یہ جنگ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی، امریکا کی عالمی طاقت کی حیثیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا رہے گا۔
امریکا کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کو چند دنوں میں مسل کر رکھ دے گا، لیکن ابھی تک جنگ کا تخمینہ دیکھا جائے تو واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ اس میں تاحال ایران کا پلڑا بھاری ہے۔
گوکہ ایران کا بھی نقصان ہورہا ہے، لیکن دوسری طرف امریکا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے یہاں کے وسائل بری طرح ہڑپ کررہا تھا، اب اپنے اڈوں کی حفاظت میں ناکامی کا جھومر ماتھے پر سجائے ہوئے ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ اگر امریکا اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت نہیں کرپارہا تو وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت کس طرح کر پائے گا؟
البتہ سعودی عرب کو بالخصوص داد دینا بنتی ہے کہ اس نے جوش کے اس ماحول میں کسی بھی لمحے ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
گوکہ امریکا اور اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے سعودی عرب کو اکسایا جائے اور اسے اس جنگ کا حصہ بنایا جائے، لیکن وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوپائے۔
بہرحال اس معاملے میں پسِ پردہ پاکستان کی مشاورت بھی کہیں نہ کہیں شامل رہی ہے۔
ابھی بھی اس منصوبے کو مکمل طور پر خارج از امکان نہیں سمجھا جاسکتا کہ ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جن کے نتیجے میں خلیجی ممالک اس جنگ کا براہِ راست ایندھن بن جائیں اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ میں شامل ہوکر اس کا خرچ اٹھائیں۔
اس حکمتِ عملی میں امریکا اور اسرائیل کو بظاہر دو فائدے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک یہ کہ جنگ کے فریق مسلم ممالک ہوں گے، جبکہ دوسری جانب ایران، جس کا ہدف ابھی تک خلیجی ممالک میں صرف امریکی فوجی اڈے ہیں، براہِ راست خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں خلیجی ریاستوں نے کئی دہائیوں میں جو ترقی حاصل کی ہے، اس کا سفر معکوس ہوسکتا ہے۔
ان ریاستوں کے وسائل ایک طرف جنگ کی نذر ہوں گے اور دوسری طرف یہاں ازسرِنو تعمیر کا مرحلہ شروع ہوگا، البتہ بظاہر امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
فیکٹ باکس +
جنگ کی ابتدا اسرائیل نے کی تھی اور ایرانی رجیم کو پکی جاسوسی کی بنیاد پر شہید کردیا تھا۔
جواب میں ایران نے اسرائیل کی جو ٹھکائی کی، اسرائیل کی اب تک بس وہی ٹھکائی ہوئی ہے۔
اس کے بعد میدان امریکا اور ایران کے درمیان ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں، جبکہ اسرائیل اس جنگ کی آڑ میں بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے لبنان اور شام میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔
اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل ابھی تک اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
اسے لبنانی حکومت اور مسلح افواج کی لاپروائی کہا جائے یا امریکی دباؤ، لبنانی فوج براہِ راست اسرائیل کے مقابلے میں نہیں اتر رہی۔
ایک مرتبہ لبنان پر قابض ہونے کے بعد خودساختہ مہذب دنیا اسرائیل کی اس چیرہ دستی پر بھی بالکل اسی طرح خاموش ہوجاتی جس طرح وہ فلسطین پر قبضے کے معاملے میں نہ صرف خاموش ہے بلکہ اسرائیل کی حمایت اور حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے۔
اس قبضے کو بھی مذاکرات کی آڑ میں لٹکا دیا جاتا۔
جس طرح فلسطینیوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے، اسی طرح لبنان کے شہریوں پر بھی زمین تنگ اور زندگی اجیرن کردی جاتی۔
بہرحال یہ معاملہ ابھی تھما نہیں، بلکہ اسے کچھ وقت کے لیے مؤخر سمجھا جانا چاہیے۔ اسرائیل نام کی ناجائز ریاست نہ کسی بین الاقوامی قانون کے تابع دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین اس پر مؤثر انداز میں لاگو ہوتے ہیں۔
دنیا کے نام نہاد انصاف پسندوں، اصول پسندوں اور امن پسندوں کے پر اسرائیلی ریاست کے ناجائز اقدامات اور من مانیوں کے سامنے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے لب سلے ہوئے، آنکھوں میں بے شرمی اور کانوں میں سیسہ پڑا دکھائی دیتا ہے۔
امن کے ان ٹھیکیداروں کو اسرائیلی چیرہ دستیاں کہیں دکھائی نہیں دیتیں، بلکہ اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والے حریت پسندوں کی تعریف ہی ان کی لغت میں بدل جاتی ہے۔
وہ انہیں دہشت گرد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتے۔
حقوق کا مطالبہ کرنے والے ان انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے، ان کا خون اسرائیل کے لیے حلال قرار پاتا ہے اور اسے اسرائیل کا حقِ دفاع تسلیم کیا جاتا ہے۔
ایک جانب اینٹوں اور پتھروں سے مقابلہ کرنے والے آتشیں ہتھیار چلاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان پر دورِ جدید کا مہلک ترین اسلحہ برسایا جاتا ہے، جو نام نہاد عالمی طاقتوں کو پھولوں کی مانند دکھائی دیتا ہے۔
بہرحال مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہورہی ہے اور معاملات کو دانستہ الجھایا جارہا ہے، تاکہ کسی نہ کسی طرح خلیجی ریاستوں کو اس مقام تک لایا جائے کہ وہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیں۔
ٹرمپ کے گزشتہ دورِ صدارت میں بھی ایسی کوششیں کی گئی تھیں۔
خلیجی ریاستوں کو دفاع کے نام پر ڈرایا اور دھمکایا گیا، ان سے دفاعی معاہدوں کے عوض خطیر رقم ہتھیانے کی کوشش کی گئی اور دوسری طرف ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
یہ معاملہ صرف سعودی عرب یا دیگر خلیجی ممالک کے اسرائیل سے ممکنہ تعلقات تک محدود نہیں۔ اس کا براہِ راست تعلق خطے کی سلامتی، آزاد خارجہ پالیسی، معاشی ترقی اور مستقبل کے دفاعی و جوہری تعاون سے بھی ہے۔
اگر سلامتی کی ضمانتوں، جدید ٹیکنالوجی اور جوہری تعاون کو ابراہام اکارڈز کی قبولیت سے جوڑا گیا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی ترتیب پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
مگر امریکی نظام کے مطابق ٹرمپ اپنی مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب نہ ہوسکے اور ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوپایا۔
اب بھی ٹرمپ اپنے سابقہ منصوبے پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں، البتہ اس مرتبہ طریقۂ کار مختلف ہے۔
اس مرتبہ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا میدان بھڑکایا جاچکا ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا، خلیجی ریاستوں کو اس جنگ میں براہِ راست ملوث کرنے کی تمام کوششیں الٹی پڑ چکی ہیں۔
ایران کا خوف بھی بڑی حد تک غیر مؤثر ہوچکا ہے، کیونکہ خلیجی ریاستوں کے روابط ایران سے استوار ہوچکے ہیں۔
ایران نے بھی اپنے جوابی حملوں میں صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیلی فالس فلیگ آپریشنز کو خلیجی ریاستوں نے انتہائی دانش مندی کے ساتھ ناکام بنادیا ہے۔
مختصر تجزیہ +
مضمون نگار موجودہ جنگ کو ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی منصوبے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عسکری دباؤ، ایران کے خطرے، امریکی دفاعی تعاون اور سعودی جوہری پروگرام جیسے معاملات کو بالآخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی اب تک کی حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے کہ وہ جنگ میں شامل ہونے کے بجائے علاقائی استحکام، ایران سے رابطے اور مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ حل کو ترجیح دے رہا ہے۔
لہٰذا اب ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری پاور پلانٹ کی نئی پیشکش اس شرط کے ساتھ کی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرلیتا ہے تو امریکا اسے جوہری پلانٹ دے گا۔
بالفرض سعودی عرب جوہری پاور پلانٹ کے عوض اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا یا اپنے سابقہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کرتا ہے کہ دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کروایا جائے تو پھر اس کا حل کیا ہوگا؟
امریکا زبانی کلامی طور پر تو دو ریاستی حل کے حق میں بات کرتا ہے، مگر عملی طور پر اسے نافذ کرانے میں ناکام ہے، کیونکہ وہ اسرائیل سے یہ بات منوا ہی نہیں سکتا۔
تو کیا امریکا بین السطور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر ’ابراہیم اکارڈ‘ تسلیم کرتے ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ خطہ جنگ کے شعلوں کی نذر رہے گا؟