براہ راست نشریات

سعودی ’مدى‘ اب قطر میں، قطری ’هميان‘ سعودی عرب میں قابلِ استعمال

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Himyan Card Saudi Arabia

سعودی عرب اور قطر نے اپنے قومی ادائیگی کارڈز کی باہمی قبولیت شروع کردی ہے۔
نئے نظام کے تحت سعودی ’مدى‘ کارڈ قطر میں جبکہ قطری ’هميان‘ کارڈ سعودی عرب میں استعمال کیا جا سکے گا۔ سروس مرحلہ وار فعال ہوگی اور اس کا مقصد خلیجی ممالک کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالیاتی رابطے اور سرحد پار لین دین کو زیادہ آسان اور مؤثر بنانا ہے۔

سعودی عرب اور قطر نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اپنے قومی ادائیگی کارڈز کی ایک دوسرے کے ملک میں قبولیت شروع کردی ہے۔ 

اس نئے انتظام کے تحت سعودی عرب کے قومی ادائیگی نیٹ ورک ’مدى‘ کے کارڈ قطر میں استعمال کئے جا سکیں گے، جبکہ قطر کا قومی ادائیگی کارڈ ’هميان‘ سعودی عرب میں ادائیگی کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTS«مدى» اور «هميان» — اہم نکات
  • سعودی «مدى» کارڈز کی قطر میں قبولیت مرحلہ وار شروع کردی گئی ہے۔
  • قطر کے قومی کارڈ «هميان» کو سعودی عرب میں قبول کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔
  • پیش رفت کا اعلان 15 ستمبر 2026 کو ریاض میں Money20/20 Middle East کے موقع پر سامنے آیا۔
  • نیا انتظام دونوں ملکوں کے قومی ادائیگی نظاموں کے درمیان براہِ راست رابطہ بڑھاتا ہے۔
  • ابتدائی مرحلے میں ہر پوائنٹ آف سیل پر سہولت یکساں دستیاب ہونا ضروری نہیں۔
  • اقدام خلیجی ڈیجیٹل ادائیگی اور مالیاتی انضمام کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
overseaspost.net

اس پیش رفت کا اعلان منگل 15 ستمبر 2026 کو ریاض میں منعقدہ Money20/20 Middle East کانفرنس کے موقع پر کیا گیا۔ 

سعودی مرکزی بینک ساما اور قطر مرکزی بینک کے مطابق اس سہولت کو مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے شہریوں اور مقیم افراد کے لیے ادائیگیوں کو زیادہ آسان، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

مزید پڑھیں

نئے نظام کے عملی نفاذ کے بعد سعودی صارفین ’مدى‘ کارڈ کے ذریعے قطر میں ایسے پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز پر خریداری کر سکیں گے جہاں متعلقہ نیٹ ورک کی سہولت فعال ہو، جبکہ قطر کے ’هميان‘ کارڈ رکھنے والے صارفین سعودی عرب میں اسی نوعیت کی ادائیگیاں کر سکیں گے۔

 چونکہ سروس کا آغاز تدریجی بنیادوں پر ہو رہا ہے، اس لیے ابتدائی مرحلے میں تمام تجارتی مراکز یا ادائیگی مشینوں پر اس کی دستیابی یکساں نہ ہونے کا امکان ہے۔

خلیجی مالیاتی انضمام کی جانب قدم

دونوں مرکزی بینکوں کے مطابق یہ اقدام صرف سعودی عرب اور قطر کے درمیان کارڈ استعمال کی سہولت تک محدود نہیں بلکہ خلیجی ممالک کے مشترکہ مالیاتی اور ادائیگی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXمدى–هميان فیکٹ باکس
سعودی قومی نیٹ ورکمدى (mada)
قطری قومی کارڈهميان (Himyan)
پیش رفتباہمی قبولیت کا آغاز
تاریخ15 ستمبر 2026
نفاذمرحلہ وار
مقصدسرحد پار ادائیگی آسان بنانا
overseaspost.net

خلیجی ادائیگی نیٹ ورک GCC-Net پہلے ہی رکن ممالک کے بینکنگ نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑتا ہے۔ 

اس نظام کے تحت صارفین دوسرے خلیجی ممالک میں اے ٹی ایم سے مقامی کرنسی میں رقم نکال سکتے ہیں اور بعض قومی ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے پوائنٹ آف سیل پر ادائیگی بھی کرسکتے ہیں۔ 

قطر مرکزی بینک کے مطابق اس نیٹ ورک میں سعودی ’مدى‘، کویت کا KNET، بحرین کا BENEFIT، قطر کا NAPS، متحدہ عرب امارات کا UAE SWITCH اور عمان کا OMANNET شامل ہیں۔

OVERSEAS POST | HOW IT WORKSعملی طور پر کیا بدلے گا؟

1سعودی صارف قطر میں ایسے پوائنٹ آف سیل پر «مدى» کارڈ استعمال کرسکے گا جہاں متعلقہ قبولیت فعال ہو۔

2قطری صارف سعودی عرب میں «هميان» کارڈ سے ادائیگی کرسکے گا جہاں سروس سپورٹ کی جا رہی ہو۔

3کارڈ جاری کرنے والا بینک، ٹرمینل اور متعلقہ نیٹ ورک فعال ہونا ضروری ہے؛ اسی لیے آغاز تدریجی ہے۔

4فیس، کرنسی کنورژن اور روزانہ حد کے لیے متعلقہ بینک کی تازہ شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔

overseaspost.net

سعودی عرب اور قطر کے درمیان ادائیگی نیٹ ورکس کا تعاون نیا نہیں۔ 

اگست 2022 میں سعودی مرکزی بینک نے ’مدى‘ اور قطر کے قومی NAPS نیٹ ورک کے درمیان پوائنٹ آف سیل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

اس وقت ساما نے کہا تھا کہ خلیجی نیٹ ورک کے ذریعے براہِ راست ادائیگی سے صارفین کو عالمی کارڈ نیٹ ورکس پر مکمل انحصار کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ مربوط خلیجی ادائیگی نظام میسر آسکتا ہے۔

هميان کیا ہے؟

هميان قطر کا قومی ادائیگی کارڈ ہے، جسے قطر مرکزی بینک نے مقامی ادائیگی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرایا۔ 

قطر مرکزی بینک نے 31 مارچ 2024 کو «Himyan Debit Card» کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا تھا۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟
علاقائی انضمامقومی ادائیگی نیٹ ورکس ایک دوسرے کے زیادہ قریب آ رہے ہیں۔
کم رکاوٹمسافروں کے لیے مقامی ڈیبٹ کارڈ کا دائرۂ استعمال وسیع ہوسکتا ہے۔
ڈیجیٹل معیشتنقدی پر انحصار کم کرنے کی خلیجی حکمتِ عملی کو تقویت ملتی ہے۔

بڑی تصویر: قومی کارڈ نیٹ ورکس کی باہمی قبولیت GCC کے اندر زیادہ مربوط ادائیگی انفراسٹرکچر کی سمت پیش رفت ہے۔

overseaspost.net

قطر کا ادائیگی انفراسٹرکچر حالیہ برسوں میں تیزی سے ڈیجیٹل ہوا ہے۔ 

قطر مرکزی بینک کے نظام میں اے ٹی ایم، پوائنٹ آف سیل، ای کامرس، موبائل والٹس اور فوری بینک ٹرانسفر جیسی خدمات شامل ہیں، جبکہ هميان کارڈز کے لیے ٹوکنائزڈ ادائیگیوں اور ڈیجیٹل والٹس کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مدى سعودی عرب کا قومی ادائیگی نیٹ ورک ہے جو پوائنٹ آف سیل، اے ٹی ایم، ای کامرس اور کنٹیکٹ لیس ادائیگیوں سمیت متعدد خدمات فراہم کرتا ہے۔ 

ساما کے مطابق مدى کا مرکزی نظام مالی لین دین کو کارڈ جاری کرنے والے ادارے تک پہنچا کر چند سیکنڈ میں ادائیگی مکمل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

عام صارف کو کیا فائدہ ہوگا؟

اس فیصلے کا سب سے براہِ راست فائدہ دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور کاروباری افراد کو ہوگا۔ 

انہیں روزمرہ خریداری کے لیے لازماً کسی عالمی کارڈ نیٹ ورک سے منسلک متبادل کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے اور قومی ڈیبٹ کارڈز کا دائرۂ استعمال اپنے ملک سے باہر بھی بڑھ جائے گا۔

OVERSEAS POST | USERSمسافروں اور پاکستانیوں کو کیا فائدہ؟
  • قطر جانے والے سعودی رہائشیوں کے لیے اپنے مقامی «مدى» کارڈ کے استعمال کے امکانات بڑھیں گے۔
  • سعودی عرب آنے والے قطری صارفین کے لیے «هميان» ایک اضافی ادائیگی آپشن بنے گا۔
  • کاروباری سفر اور مختصر دوروں میں الگ کارڈ رکھنے کی ضرورت بعض حالات میں کم ہوسکتی ہے۔
  • سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھی قطر کے سفر کے دوران فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا بینک اور متعلقہ پوائنٹ آف سیل سروس سپورٹ کرے۔
overseaspost.net

اس پیش رفت کی بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ خلیجی ممالک اپنے قومی ادائیگی نظاموں کو بتدریج ایک ایسے علاقائی نیٹ ورک میں تبدیل کر رہے ہیں جہاں رقم کی ادائیگی، نقد نکالنے اور مستقبل میں دیگر مالیاتی خدمات زیادہ براہِ راست انداز میں انجام دی جا سکیں۔

’مدى‘ اور ’هميان‘ کی باہمی قبولیت اسی سمت میں ایک اور قدم ہے—یعنی ایسا خلیجی مالیاتی نظام جو زیادہ مربوط، کم نقدی پر منحصر اور قومی ڈیجیٹل ادائیگی نیٹ ورکس کے درمیان براہِ راست رابطے پر قائم ہو۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے