ایک وقت تھا جب دنیا بھر کے لوگوں کا خواب ہوتا تھا کہ کسی طرح امریکہ پہنچ جائیں۔ اچھی نوکری ملے، ڈالر میں کمائی ہو، بچوں کا مستقبل بہتر ہو اور امریکی پاسپورٹ ہاتھ آ جائے۔
مزید پڑھیں
یہ خواب تو آج بھی ختم نہیں ہوا، لیکن تصویر کا ایک دوسرا نیا رخ سامنے آ رہا ہے۔
اب ایسے امریکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو امریکہ سے باہر رہنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ کچھ لوگ مستقل طور پر دوسرے ملک جا رہے ہیں، جبکہ ایک چھوٹا مگر بڑھتا ہوا طبقہ امریکی شہریت تک چھوڑ رہا ہے۔
امریکی خواب کا وہ رخ جو کم لوگ جانتے ہیں
+
مستقل وابستگی کی قیمت اور نئی حقیقت
تہذیبی تغیرجس پاسپورٹ کے حصول کے لیے دنیا دہائیوں تک انتظار کرتی ہے، اسی دستاویز کے ساتھ عائد ہونے والی عالمی مالیاتی نگرانی اور اندرونی معاشرتی کڑھن نے امریکی شہریوں کے ایک طبقے کو وطن چھوڑنے یا شہریت سے دستبردار ہونے پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دنیا میں کہیں بھی رہیں، واشنگٹن کو جوابدہ
امریکہ دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو رہائش کے بجائے شہریت کی بنیاد پر ٹیکس لیتے ہیں۔ بیرونِ ملک حاصل کردہ تنخواہ، جائیداد اور بینک بیلنس کی مسلسل رپورٹنگ امریکی دستاویز کو بہت سے تارکین کے لیے مالی بوجھ بنا دیتی ہے۔
صرف ڈالرز نہیں، ذہنی سکون اور معیارِ حیات
نوجوان نسل کے لیے اب کامیابی کا معیار صرف امریکی کارپوریٹ تنخواہ نہیں رہا، بلکہ کم لاگت صحت کا نظام، محفوظ گلیاں، بچوں کے لیے پرسکون ماحول اور یورپ یا لاطینی امریکہ سے ریموٹ کام کی آزادی زیادہ پرکشش خواب بن چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر امریکی پاسپورٹ جیسی طاقتور شہریت کوئی کیوں چھوڑنا چاہے گا؟
ہزاروں نام سرکاری ریکارڈ میں آ گئے
امریکی حکومت ہر 3 ماہ بعد ایسے لوگوں کی ایک فہرست جاری کرتی ہے، جنہوں نے امریکی شہریت یا مخصوص صورتوں میں طویل عرصے کی مستقل رہائش ختم کی ہو۔
سخت ٹیکس پابندیوں اور ملکی سیاسی کشیدگی کے باعث امریکی شہریت اور مستقل رہائش ترک کرنے کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ سے باہر رہائش کے باوجود غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور عالمی آمدنی کی کڑی رپورٹنگ اخراجات اور قانونی پیچیدگیوں کو ناقابل برداشت بنا دیتی ہے۔
بڑھتی ہوئی ملکی تفریق اور مہنگے طرزِ زندگی کے باعث نوجوان طبقہ محفوظ ماحول، سستی صحت کی سہولیات اور پرسکون زندگی کے لیے متبادل ممالک کا رخ کر رہا ہے۔
جون 2026 میں ختم ہونے والے 3 ماہ کے دوران اس سرکاری فہرست میں 1,781 نام شامل ہوئے۔ اس سے پہلے سال کے پہلے 3 ماہ میں 1,462 نام سامنے آئے تھے۔ یوں 2026 کے پہلے 6 ماہ میں مجموعی تعداد 3,243 ہو گئی ہے۔
حیران کن طور پر تازہ ترین 3 ماہ کا عدد ایک سال پہلے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 68 فیصد زیادہ ہے۔
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ان تمام 1,781 افراد نے لازماً امریکی پاسپورٹ ہی واپس کر دیا ہے۔
🚪
لوگ آخر امریکی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
◀
بینکنگ رکاوٹیں اور آڈٹ کا خطرہ
غیر ملکی بینک امریکی شہریوں کو کھاتے کھولنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ انہیں IRS کو سخت رپورٹس دینی پڑتی ہیں۔ ٹیکس مشیروں کے بھاری بل اس پریشانی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔
2,350 ڈالر سے گھٹ کر 450 ڈالر
اپریل 2026 میں امریکی محکمہ خارجہ نے شہریت ترک کرنے کی لاگت میں تاریخی کمی کی۔ اس مالی رکاوٹ کے ختم ہوتے ہی ان ہزاروں درخواست گزاروں کے کیسز آگے بڑھے جو فیس کم ہونے کے منتظر تھے۔
سیاسی قطبیت اور معاشرتی تلخی
انتخابی تقسیم، اسکولوں میں سیکیورٹی خدشات اور بڑھتے ہوئے ہیلتھ کیئر اخراجات نے متوسط اور خوشحال خاندانوں کو ایسے ممالک کی طرف جانے پر اکسایا ہے جہاں سماجی ہم آہنگی زیادہ ہے۔
ریٹائرمنٹ اور آبائی وطن واپسی
سرکاری فہرست میں صرف پیدائشی شہری نہیں بلکہ وہ غیر ملکی بھی شامل ہیں جنہوں نے دہائیوں امریکہ میں کام کیا اور اب ٹیکس جال سے نکل کر اپنے اصل وطن میں پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
امریکی قانون کے تحت اس فہرست میں کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو طویل عرصے سے گرین کارڈ رکھتے تھے اور پھر مستقل امریکی رہائش چھوڑ دیتے ہیں۔
اس کے باوجود اعداد ایک واضح بات بتا رہے ہیں کہ امریکہ سے اپنا قانونی اور مالی تعلق ختم کرنے والوں کی تعداد دوبارہ اوپر جا رہی ہے۔
سب سے بڑی پریشانی: بیرون ملک رہ کر بھی امریکی ٹیکس
بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ بات حیران کن ہو سکتی ہے کہ امریکی شہری اگر کسی دوسرے ملک میں جا کر رہنے لگے، تب بھی اسے امریکی ٹیکس قوانین کا سامنا رہتا ہے۔
یعنی اگر کوئی امریکی دبئی، لندن، پرتگال یا کسی اور ملک میں رہتا اور کماتا ہے تو اسے کئی صورتوں میں اپنی بیرون ملک آمدنی اور مالی اثاثوں کی معلومات بھی امریکی ٹیکس حکام کو دینی پڑتی ہیں۔
محرکات کا تجزیہ
ٹیکس، سیاست یا بہتر زندگی؟ اصل وجہ کیا ہے
3 بنیادی ستون
ٹیکس قوانین کی پیچیدگی
ڈبل ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدوں کے باوجود ہر غیر ملکی بینک اکاؤنٹ اور سرمایہ کاری کو ظاہر کرنے کے فارمز بھرنا شدید سر درد ہے۔ جو لوگ مستقل باہر سیٹل ہو چکے ہیں، ان کے لیے پاسپورٹ رکھنا صرف فیسوں اور کاغذی پریشانیوں کا باعث ہے۔
سیاسی محاذ آرائی اور بے چینی
امریکہ میں بڑھتی ہوئی نظریاتی تفریق نے خاندانی اور سماجی ماحول میں تلخی گھول دی ہے۔ گیلپ کے مطابق 20 فیصد شہری باہر جانا چاہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی عدم تحفظ بھی نقل مکانی کی بڑی وجہ ہے۔
سستی اور پرسکون طرزِ حیات
امریکہ میں رہائش، میڈیکل انشورنس اور اعلیٰ تعلیم کی ہوشربا قیمتوں کے مقابلے میں یورپ اور ایشیا کے پرامن شہروں میں وہی معیار کم لاگت میں مل جاتا ہے، جو آزاد پیشہ ور افراد کو باہر کھینچ رہا ہے۔
2010ء میں امریکہ نے FATCA نامی قانون بنایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ امریکی شہری بیرون ملک دولت یا بینک اکاؤنٹ چھپا کر ٹیکس سے نہ بچ سکیں۔
یہ بات زیادہ حیران کن ہے کہ اس قانون کے تحت بہت سے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو بھی امریکی اکاؤنٹ ہولڈرز کے بارے میں معلومات دینا پڑتی ہیں۔
امریکی ٹیکس ادارہ IRS بھی واضح کرتا ہے کہ مخصوص حد سے زیادہ بیرون ملک مالی اثاثے رکھنے والے افراد پر رپورٹنگ کی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر بیرون ملک رہنے والا امریکی دو ملکوں میں پورا ٹیکس ادا کرے۔ کئی چھوٹ اور ٹیکس کریڈٹ موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کاغذی کارروائی، اکاؤنٹس کی تفصیل اور ماہر ٹیکس مشیروں کی فیس خود ایک بڑا بوجھ بن سکتی ہے۔
📊
چند اعداد جو پوری تصویر بدل دیتے ہیں
▼
2026 کے ابتدائی 6 ماہ کا سرکاری ریکارڈ
جون 2026 کی سہ ماہی میں 1,781 نام شائع ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 68 فیصد اضافہ ہے۔ پہلی سہ ماہی کے 1,462 افراد ملا کر نصف سال کا عدد 3 ہزار سے تجاوز کر گیا۔
شہریت ترک کرنے کی فیس میں 80% کٹوتی
امریکی محکمہ خارجہ نے سالہا سال سے عائد 2,350 ڈالر کی بھاری فیس کو گھٹا کر 450 ڈالر کر دیا، جس سے عمل سستا ہوا اور فائلوں کے نمٹارے میں تیزی آئی۔
گیلپ سروے 2025 کا چونکا دینے والا اشاریہ
15 سے 44 سال کی 40 فیصد امریکی خواتین نے کہا کہ اگر موقع ملے تو وہ ملک چھوڑنا چاہیں گی۔ 2014 میں یہی شرح صرف 10 فیصد تھی، یعنی ایک دہائی میں یہ خواہش چار گنا بڑھی۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کا مائیگریشن ڈیٹا
2025 میں امریکہ آنے والوں اور ملک سے باہر جانے والوں کا خالص فرق کم از کم نصف صدی میں پہلی بار منفی رہا، یعنی آنے والوں کی رفتار سست اور جانے والوں کا حجم زیادہ رہا۔
شہریت چھوڑنا بھی پہلے بہت مہنگا تھا
امریکی شہریت چھوڑنا صرف جذباتی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قانونی عمل بھی ہے۔
کئی برس تک اس عمل کی سرکاری فیس 2,350 ڈالر تھی۔ اپریل 2026 میں امریکی محکمہ خارجہ نے اسے کم کرکے 450 ڈالر کر دیا۔ یعنی فیس میں تقریباً 80 فیصد کمی ہوئی۔
اس کے بعد سرکاری فہرست میں ناموں کی تعداد بڑھی، لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ اضافہ صرف فیس کم ہونے کی وجہ سے ہوا ہے یا پھر اس کی اور بھی وجوہات ہیں؟۔
🧭
امریکہ چھوڑنے کے بعد لوگ کہاں جا رہے ہیں؟
مقبول پناہ گاہیں
طرزِ حیات، ثقافت اور آسان ویزا
پرتگال، اسپین اور اٹلی جیسے ممالک نے ڈیجیٹل خانہ بدوش (Digital Nomad) ویزوں اور معقول ٹیکس سہولیات کے ذریعے ہزاروں امریکیوں کو راغب کیا ہے۔ یہاں کا پُرسکون لائف اسٹائل، سستا ہیلتھ کیئر اور یورپی ماحول امریکی ریٹائرڈ اور ریموٹ ورکرز کا اولین انتخاب بن چکا ہے۔
زیرو انکم ٹیکس اور کاروباری کشش
دبئی اپنے زیرو انکم ٹیکس، عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے اور محفوظ ماحول کے باعث امریکی فنانس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ دوسری جانب میکسیکو اور کوسٹاریکا جغرافیائی قربت اور انتہائی کم گھریلو اخراجات کی وجہ سے پرکشش ہیں۔
صرف ٹیکس نہیں، امریکی سیاست بھی وجہ بن رہی ہے
امریکہ کے اندر سیاسی تقسیم پچھلے کئی برسوں میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اس کا اندازہ گیلپ کے ایک سروے سے لگایا جا سکتا ہے۔ 2025 میں تقریباً ہر 5 میں سے ایک امریکی نے کہا کہ اگر اسے موقع ملے تو وہ مستقل طور پر کسی دوسرے ملک میں رہنا چاہے گا۔
نوجوان خواتین میں یہ سوچ اور بھی زیادہ تھی۔ 15 سے 44 سال کی 40 فیصد خواتین نے کہا کہ موقع ملنے پر وہ امریکہ سے باہر مستقل رہائش اختیار کرنا چاہیں گی۔ 2014 میں یہی شرح صرف 10 فیصد تھی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سب لوگ واقعی امریکہ چھوڑ دیں گے۔ خواہش اور حقیقت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ لیکن اتنی بڑی تعداد کا باہر جانے کے بارے میں سوچنا خود امریکی معاشرے میں بدلتے ہوئے مزاج کی نشانی ضرور ہے۔
🛡️
کیا امریکی پاسپورٹ کی کشش واقعی کم ہو رہی ہے؟
+
دنیا کا سب سے بااثر پاسپورٹ
امریکی پاسپورٹ اب بھی 180 سے زائد ممالک میں ویزا فری داخلے کی ضمانت دیتا ہے اور عالمی سطح پر تارکین وطن کی اکثریت کے لیے یہ تحفظ، معاشی برتری اور آزادی کی سب سے بڑی علامت بنا ہوا ہے۔
چمک ختم نہیں ہوئی، مگر کمزور ضرور پڑی ہے
گیلپ کے مطابق 2025 میں بیرون ملک ہجرت کے خواہشمندوں میں سے صرف 15 فیصد نے امریکہ کو اپنی اولین ترجیح کہا، جو 20 سال کی کم ترین شرح ہے۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ متوازی آپشنز کے طور پر ابھرے ہیں۔
کیا واقعی امریکہ سے زیادہ لوگ نکل رہے ہیں؟
یہاں ایک اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے اندازے کے مطابق 2025 میں امریکہ میں آنے اور باہر جانے والے تارکین وطن کا مجموعی فرق پہلی بار کم از کم 50 سال میں منفی ہو سکتا ہے۔
اس ادارے نے اندازہ لگایا کہ 2025 میں یہ فرق منفی 10 ہزار سے منفی 2 لاکھ 95 ہزار کے درمیان رہا، لیکن اسے بھی احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ صرف امریکی شہریوں کے ملک چھوڑنے کا عدد نہیں، بلکہ اس میں امریکہ آنے والے غیر ملکی، واپس جانے والے افراد، ملک بدر کیے گئے لوگ اور دوسری قسم کی ہجرت بھی شامل ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ کیا یہ رجحان مزید بڑھے گا؟
مستقبل کا جائزہ
پینڈنگ درخواستوں کی تیز پروسیسنگ
450 ڈالر فیس کا قانون لاگو ہونے کے بعد سفارت خانوں میں رکی ہوئی ہزاروں درخواستیں آنے والی سہ ماہیوں میں کلئیر ہوں گی، جس سے سرکاری فہرست کے اعداد مزید اونچے جا سکتے ہیں۔
عالمی نقل و حرکت ایک نیا معمول
لیپ ٹاپ کے ذریعے کہیں سے بھی کام کرنے کی آزادی نوجوان امریکیوں کو جغرافیائی قید سے آزاد کر رہی ہے۔ یہ طبقہ وطن چھوڑے بغیر بھی دوسرے ممالک میں طویل مدتی قیام کو ترجیح دے رہا ہے۔
سیاسی بے چینی اور ہجرت کی لہریں
امریکہ کے آئندہ انتخابی نتائج اور ممکنہ قانونی ترامیم یہ طے کریں گی کہ آیا مایوس ووٹرز کا ایک چھوٹا حصہ حقیقت میں ملک چھوڑ کر یورپی یا لاطینی پاسپورٹ کو مستقل اپنائے گا یا نہیں۔
اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ ’لاکھوں شہری امریکہ سے بھاگ گئے‘۔
اصل بات یہ ہے کہ امریکہ آنے والے لوگوں کی رفتار بھی کم ہوئی اور باہر جانے والوں کی تعداد بھی بڑھی۔
کیا امریکی خواب ختم ہو گیا؟
ابھی ایسا بالکل نہیں ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کے ان ممالک میں سب سے اوپر ہے جہاں دوسرے ملکوں کے لوگ مستقل طور پر منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
مگر گیلپ کے مطابق 2025 میں بیرون ملک جانے کے خواہش مند لوگوں میں سے صرف 15 فیصد نے امریکہ کو اپنی پہلی پسند بتایا۔ یہ تقریباً دو دہائیوں میں سب سے کم شرح ہے۔
یعنی امریکی خواب ختم نہیں ہوا، لیکن اس کی چمک پہلے جیسی نہیں رہی۔
کچھ امریکیوں کے لیے اب بہتر زندگی کا مطلب صرف زیادہ تنخواہ نہیں، بلکہ وہ کم ٹیکس، بہتر صحت کی سہولت، محفوظ ماحول، سیاسی سکون اور گھر سے کام کرنے کی آزادی کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔
اور یہی اس پورے معاملے کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔
جس امریکی پاسپورٹ کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کے لاکھوں لوگ برسوں انتظار کرتے ہیں، کچھ امریکی اسی پاسپورٹ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
یہ تعداد ابھی امریکہ کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے، اس لیے اسے ’امریکہ سے بڑے پیمانے پر فرار‘ کہنا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ رجحان ضرور قابلِ غور ہے۔