ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک طویل جنگوں سے امریکہ کو دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا، مگر ایران کے خلاف جاری جنگ اب ایک نئے سوال کو جنم دے رہی ہے:
کیا واشنگٹن ایک بار پھر ایسی جنگ میں پھنس رہا ہے جس کا اختتام واضح نہیں؟
آبنائے ہرمز، باب المندب، تیل کی بڑھتی قیمتیں، فوجی اخراجات اور امریکی وسط مدتی انتخابات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
نائن الیون حملوں کی 25 ویں برسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پینٹاگون میں موجود تھے، جہاں امریکہ نے اپنی جدید تاریخ کے سب سے بڑے سانحوں میں سے ایک کو یاد کیا۔
لیکن اس بار یادگار تقریب کے پس منظر میں ایک نیا اور اہم سیاسی سوال بھی موجود تھا:
کیا امریکہ نے واقعی نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں سے کوئی سبق سیکھا؟
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTٹرمپ–ایران جنگ: اہم نکات ⌄
- ✓امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی شروع کی۔
- ✓چھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود جنگ کا واضح سیاسی اختتام سامنے نہیں آیا۔
- ✓واشنگٹن زمینی قبضے کے بجائے فضائی، بحری، میزائل اور اقتصادی دباؤ پر انحصار کررہا ہے۔
- ✓آبنائے ہرمز اور باب المندب پر دباؤ نے جنگ کو عالمی تجارت اور توانائی کے مسئلے میں بدل دیا ہے۔
- ✓مہنگا تیل اور جنگی اخراجات امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کے لیے سیاسی بوجھ بن سکتے ہیں۔
یہ سوال اب صرف تاریخ کا حصہ نہیں رہا، کیونکہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک کھلی اور طویل ہوتی ہوئی فوجی کشمکش میں داخل ہو چکا ہے۔
یہی ٹرمپ کبھی عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کو امریکی پالیسی کی بڑی غلطی قرار دیتے تھے۔
ان کا مؤقف تھا کہ امریکہ نے دوسرے ملکوں میں کھربوں ڈالر خرچ کئے، ہزاروں فوجیوں کی جانیں گنوائیں اور اس کے بدلے اپنے ملک کے اندر بہت کم فائدہ حاصل کیا۔
مزید پڑھیں
اب صورتحال بدل چکی ہے۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
اس وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ شدید فوجی دباؤ تہران کو جلد اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا، لیکن 6 ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود جنگ ختم نہیں ہوئی۔
ایران اب بھی مقابلہ کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کشیدگی کا اہم مرکز بن چکی ہے اور جنگ کے اثرات یمن، بحیرہ احمر اور سعودی عرب تک پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سب سے بڑی مشکل کیا ہے؟
امریکہ کی موجودہ جنگ کو عراق یا افغانستان کی مکمل نقل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
واشنگٹن نے ایران میں لاکھوں فوجی نہیں بھیجے، نہ تہران پر قبضہ کیا اور نہ ہی ایرانی حکومت گرا کر وہاں نیا سیاسی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXجنگ ایک نظر میں ⌄
امریکی حکمت عملی بنیادی طور پر فضائی حملوں، بحری طاقت، میزائلوں، اقتصادی پابندیوں اور بحری دباؤ پر قائم ہے۔
یہ ایک بڑا فرق ہے۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ امریکی فوج کی طاقت نہیں بلکہ جنگ کے اختتام کی واضح حکمت عملی ہے۔
امریکہ ایرانی فوجی تنصیبات تباہ کر سکتا ہے، میزائل اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور معیشت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، لیکن اگر ایران ہتھیار نہ ڈالے، حکومت برقرار رہے اور جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہ ہو تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا؟
کیا جنگ مزید ایک ماہ جاری رہے گی؟ 6 ماہ؟ یا ایک سال؟
یہی سوال واشنگٹن میں افغانستان اور عراق کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
ایران کو امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں
اس جنگ کی ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ایران کو روایتی فوجی معنوں میں امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں۔
امریکی فوجی طاقت ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، لیکن تہران کا مقصد جنگ کو ایسا مہنگا، طویل اور سیاسی طور پر تکلیف دہ مسئلہ بنانا ہو سکتا ہے جس کی قیمت خود واشنگٹن کے لیے بڑھتی جائے۔
? OVERSEAS POST | CORE QUESTIONاصل سوال: جنگ ختم کیسے ہوگی؟ ⌄
امریکہ کی فوجی طاقت پر سوال نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی اختتام کی شرط کیا ہے؟
مرکزی نکتہ: جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ایک دن میں ہوسکتا ہے، مگر اسے ختم کرنے کے لیے سیاسی راستہ درکار ہوتا ہے۔
اس حکمت عملی میں آبنائے ہرمز سب سے اہم ہتھیاروں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ یہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں میں فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معمول سے نمایاں طور پر کم رہی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔
یہاں سے جنگ سیدھی امریکی صارف تک پہنچتی ہے۔
تیل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور پھر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ آتا ہے۔
یعنی خلیج میں ہونے والی جنگ کا اثر آخرکار امریکہ کے پٹرول پمپ اور سپر مارکیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
اب مسئلہ صرف ہرمز نہیں
صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی جب حوثی باغیوں نے باب المندب کے قریب اہم مقامات پر پیش قدمی کی۔
باب المندب بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ ہے اور ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
⇄ OVERSEAS POST | COMPARISONعراق، افغانستان اور ایران — کیا فرق ہے؟ ⌄
اس لیے: ایران کی جنگ عراق یا افغانستان کی نقل نہیں، مگر واضح اختتامی حکمت عملی نہ ہونا ایک مشترک تشویش ضرور ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خطے کے دو اہم بحری راستے بیک وقت دباؤ میں آسکتے ہیں:
مشرق میں آبنائے ہرمز، اور مغرب میں باب المندب۔
اگر دونوں مقامات پر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اسی لیے ایران کے ساتھ امریکی تنازع اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے خلیج، بحیرہ احمر اور عالمی معیشت کا مسئلہ بن رہا ہے۔
جنگ امریکی انتخابات تک پہنچ گئی
ٹرمپ کے لیے خطرہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ امریکی سیاست میں بھی ہے۔
امریکہ اب وسط مدتی انتخابات کے قریب ہے اور ری پبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
↔ OVERSEAS POST | HORMUZآبنائے ہرمز کیوں اتنی اہم ہے؟ ⌄
ایران کو امریکہ کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ضروری نہیں؛ توانائی کی لاگت بڑھانا بھی دباؤ کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔
- 1ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس بحری راستوں میں شامل ہے۔
- 2جہاز رانی میں رکاوٹ یا خطرہ تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ کرسکتا ہے۔
- 3مہنگا تیل ٹرانسپورٹ، پیداوار اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں پر اثر ڈالتا ہے۔
ایسے میں اگر تیل اور پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، مہنگائی دوبارہ زور پکڑے اور عام امریکی کی روزمرہ زندگی مزید مہنگی ہو تو ایران کی جنگ انتخابی مسئلہ بن سکتی ہے۔
امریکہ میں بہت سے ووٹر مشرقِ وسطیٰ کی فوجی تفصیلات میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن وہ یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ پٹرول کتنے کا ہے، گھر کا خرچ بڑھ رہا ہے یا کم، اور ان کی آمدنی پر دباؤ کتنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جنگ کی سیاسی قیمت واشنگٹن میں تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اپنے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ حلقوں میں بھی سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔
یہ وہی سیاسی تحریک ہے جو برسوں سے بیرونِ ملک طویل جنگوں کی مخالفت کرتی آئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ایران کی جنگ طویل ہوتی گئی تو ٹرمپ اپنے اسی سیاسی بیانیے کو کیسے برقرار رکھیں گے؟
جنگ کی ایک چھپی ہوئی قیمت
امریکی شہری کو پٹرول کی قیمت نظر آتی ہے، لیکن جنگ کی فوجی لاگت براہ راست نظر نہیں آتی۔
امریکہ جدید ترین میزائل دفاعی نظام اور مہنگے ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ کئی مرتبہ ایک سستا ڈرون گرانے کے لیے لاکھوں یا کروڑوں ڈالر کا میزائل استعمال کرنا پڑتا ہے۔
⌁ OVERSEAS POST | BAB AL-MANDABاب مسئلہ صرف ہرمز نہیں ⌄
خطرہ: اگر دونوں بحری راستے ایک ساتھ غیر یقینی کا شکار رہیں تو ایشیا، خلیج اور یورپ کے درمیان توانائی و تجارت کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔
طویل جنگ کی صورت میں یہی فرق بہت اہم ہو جاتا ہے۔
امریکی انتظامیہ 2027 کے لیے تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مانگ رہی ہے، جبکہ ملک پہلے ہی بہت بڑے قومی قرض اور بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔
اس لیے ایران کے ساتھ مسلسل جنگ صرف فوجی نہیں بلکہ مالی مسئلہ بھی بنتی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف مختلف ہے
ٹرمپ انتظامیہ اس تاثر کو مسترد کرتی ہے کہ امریکہ ایک اور ’’نہ ختم ہونے والی جنگ‘‘ میں پھنس گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی کارروائیوں نے ایران کی فوجی اور اقتصادی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، پابندیوں اور بحری دباؤ سے تہران پر مزید بوجھ بڑھ رہا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
$ OVERSEAS POST | OILتیل جنگ کو گھر تک کیسے پہنچاتا ہے؟ ⌄
خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے۔
تیل اور شپنگ مہنگی ہوتی ہے۔
ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ آتا ہے۔
امریکی ووٹر جنگ کو پٹرول پمپ اور روزمرہ خرچ میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
ٹرمپ کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کی جنگ کو عراق یا افغانستان سے تشبیہ دینا درست نہیں، کیونکہ امریکہ نے ایران پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی وہاں حکومت چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے۔
لیکن ایک بنیادی سوال پھر بھی باقی رہتا ہے:
ایسا کیا ہونا چاہئے جس کے بعد واشنگٹن یہ کہہ سکے کہ جنگ ختم ہوگئی؟
یہی موجودہ بحران کی اصل کمزوری ہے۔
امریکہ کے پاس جنگ جاری رکھنے کی فوجی صلاحیت ضرور موجود ہے، لیکن فوجی طاقت کو سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
نائن الیون کے بعد افغانستان کی جنگ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی۔ عراق میں حکومت بہت جلد گر گئی، لیکن اس کے بعد آنے والے مسائل برسوں تک امریکہ کا پیچھا کرتے رہے۔
◎ OVERSEAS POST | U.S. POLITICSجنگ امریکی انتخابات میں کیوں اہم ہے؟ ⌄
- 1وسط مدتی انتخابات نومبر 2026 میں ہیں اور ری پبلکن پارٹی کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
- 2مہنگا پٹرول اور بڑھتی مہنگائی براہِ راست ووٹر کے فیصلے کو متاثر کرسکتی ہے۔
- 3’’امریکہ فرسٹ‘‘ حلقوں میں بھی طویل بیرونی جنگ کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیاسی خطرہ: میدانِ جنگ کی کامیابی اگر گھریلو اخراجات کم نہ کرے تو اس کا انتخابی فائدہ محدود ہوسکتا ہے۔
ایران لازماً وہی راستہ اختیار نہیں کرے گا، لیکن خطرہ ایک بار پھر وہی ہے:
جنگ شروع کرنا آسان، اسے ختم کرنا مشکل۔
25 سال بعد امریکہ ایک بار پھر اسی سوال کے سامنے کھڑا ہے۔
اگر ایران امریکہ کو فوجی طور پر شکست نہیں دے سکتا، لیکن امریکہ بھی ایران پر اپنی مرضی کی سیاسی اختتامی شرط مسلط نہیں کر پا رہا، تو پھر آخر پہلے کون اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہوگا؟
شاید یہی اس جنگ کا سب سے بڑا سوال ہے۔
طاقت جنگ شروع کرا سکتی ہے، لیکن جنگ ختم کرنے کے لیے طاقت سے زیادہ ایک واضح سیاسی راستہ چاہئے۔