موجودہ کشیدہ حالات میں بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بہت بڑا سوال بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
یمنی حوثیوں کا، جزیرہ میون(جسے پریم بھی کہا جاتا ہے) اور آبنائے باب المندب کے قریب دوسرے اہم علاقوں تک پہنچ جانا محض یمن کی جنگ کا نیا موڑ نہیں ہے۔
اس پیش قدمی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے صرف ایک ماہ پرانے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پہلی بار حقیقی امتحان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
⚠️
پاکستان کے سامنے اصل مشکل کیا ہے؟
+
پاکستان کے سامنے اصل مشکل کیا ہے؟
ایک طرف دیرینہ دفاعی و مالیاتی حلیف، دوسری طرف براہِ راست ہمسایہ
اسلام آباد کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے تحفظ کے مطالبات کو کس طرح پورا کرے، جبکہ اسی دوران ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد پر امن اور سفارتی ثالثی کا کردار بھی داؤ پر نہ لگے۔
مکہ معاہدے کے تحت دفاعی ذمہ داری
معاہدے کی شق کہ 'ایک پر حملہ سب پر حملہ ہے' پاکستان کو عملی مدد کی طرف کھینچتی ہے۔ اگر امریکہ حوثیوں پر براہِ راست حملوں سے گریز کرتا ہے تو ریاض کا دارومدار اسلام آباد پر بڑھے گا۔
تہران کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ کا خطرہ
2024 کے سرحدی تصادم کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات نازک بحالی کے دور میں ہیں۔ یمن کی لڑائی میں براہِ راست کودنے سے مغربی سرحد پر کشیدگی اور ملکی فرقہ وارانہ امن متاثر ہو سکتا ہے۔
پہلے سے موجود پاکستانی فوجیوں کی حفاظت
ہزاروں پاکستانی فوجی اور فضائیہ کا دستہ پہلے ہی سعودی سرزمین اور جنوبی سرحد پر موجود ہیں۔ کسی بڑے حوثی حملے میں پاکستانی اہلکاروں کا نقصان اسلام آباد کو جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔
ترسیلاتِ زر اور پٹرولیم ترسیل کی بندش
سعودی عرب سے ماہانہ 870 ملین ڈالر سے زائد کی ترسیلات اور توانائی کی سپلائی لائن جڑی ہے۔ اس تنازع کے بڑھنے سے درآمدی بل اور بیرونی کھاتے شدید غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد کے سامنے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاض کی مدد کرے یا نہ کرے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے کیسے برقرار رکھے جائیں؟۔
پاکستان اس کشمکش میں بھی ہے کہ ایک ایسے وقت میں ثالثی کا کردار کیسے بچایا جائے جب ایران اور امریکہ کی جنگ پہلے ہی پورے خطے کی معیشت اور سلامتی کو متاثر کررہی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے بعد باب المندب پر کشیدگی نے پاکستان کو اس دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی اتحاد اور ہمسایہ ایران سے سفارتی توازن بیک وقت لازم ہیں۔
آبنائے ہرمز کے متبادل راستے سے گزرنے والا یومیہ اکیاسی لاکھ بیرل تیل حوثیوں کی جزیرہ میون تک پیش قدمی کے بعد سنگین خطرے میں ہے۔
کسی ایک پر حملہ تمام پر حملہ تصور ہوگا، مگر پاکستان عملی عسکری کارروائی کے بجائے سفارتی اور دفاعی گنجائش کو بروئے کار لا رہا ہے۔
ماہانہ 873 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر، توانائی اور پہلے سے موجود عسکری دستے ریاض کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلق کو مضبوط رکھتے ہیں۔
نو سو کلومیٹر مشترکہ سرحد اور علاقائی استحکام کے تحفظ کی خاطر پاکستان تصادم سے بچنے کے لیے بندوق کے بجائے فون اور سفارت کاری پر کاربند ہے۔
چھوٹا جزیرہ، بہت بڑی جنگ
باب المندب تقریباً 18 میل چوڑی وہ آبی گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور آگے بحرہند سے ملاتی ہے۔
ایشیا سے یورپ جانے والے جہاز اسی راستے سے نہر سویز تک پہنچتے ہیں۔ دوسری جانب یمنی حوثیوں نے پہلے مخا اور ذباب کی جانب پیش قدمی کی اور اب پریم جزیرے تک پہنچ کر اس راستے کے عین وسط میں اپنی موجودگی مضبوط کردی ہے۔
⚓
باب المندب کیوں پوری دنیا کے لیے اہم ہے؟
▼
باب المندب کیوں پوری دنیا کے لیے اہم ہے؟
ایشیا، یورپ اور بحرِ ہند کا تجارتی پل
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے، جہاں سے گزر کر بحری جہاز نہر سوئز کے راستے یورپ پہنچتے ہیں۔ جزیرہ میون (پریم) پر تسلط کا مطلب اس پورے تجارتی راستے پر گن پوائنٹ قائم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کا متبادل خود نشانے پر آ گیا
ہرمز میں تناؤ کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کے ذریعے تیل ینبع منتقل کرنا بڑھایا، جس سے باب المندب سے گزرنے والا خام تیل 54 لاکھ سے چھلانگ لگا کر 81 لاکھ بیرل یومیہ ہو گیا۔ اب یہ متبادل خود بندش کے دہانے پر ہے۔
کنٹینر فریٹ اور مہنگائی کا عالمی جھٹکا
اس گزرگاہ کی بندش سے جہازوں کو راس الرجاء الصالح کا چکر کاٹنا پڑتا ہے، جس سے سفر میں 12 سے 15 دن کا اضافہ، جہاز رانی لاگت میں دوگنا اچھال اور عالمی منڈی میں سامان کی قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔
اس مقام کی اہمیت موجودہ ایران جنگ کے بعد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب نے مشرقی علاقوں سے خام تیل پائپ لائن کے ذریعے ینبع اور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی طرف منتقل کرنا بڑھایا۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں باب المندب سے روزانہ تقریباً 54 لاکھ بیرل تیل گزرتا تھا، جو 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر 81 لاکھ بیرل روزانہ ہوگیا۔
یعنی جو راستہ آبنائے ہرمز کا متبادل بن رہا تھا، اب وہ خود خطرے میں پڑ چکا ہے۔
⚖️
سعودی دفاع یا ایران سے تعلقات؟ پاکستان کیلیے کڑی آزمائش
◀
سعودی دفاع یا ایران سے تعلقات؟ پاکستان کیلیے کڑی آزمائش
سعودی عرب کا پلڑا: بقا، سرمایہ اور دفاع
ریاض پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی سہارا اور ماہانہ 873 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر کا منبع ہے۔ دہائیوں پرانے فوجی تعلقات اور مکہ معاہدے کے تحت ریاض کو تنہا چھوڑنا پاکستان کے تزویراتی کریڈٹ کو شدید دھچکا پہنچا سکتا ہے۔
ایران کا پلڑا: ہمسائیگی اور مغربی سرحد
ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر سرحد پہلے ہی عسکریت پسندی کی زد میں ہے۔ حوثیوں کے خلاف سعودی جنگ کا براہِ راست حصہ بننے سے تہران کے ساتھ تصادم کا نیا محاذ کھل سکتا ہے جسے سنبھالنے کی پاکستان سکت نہیں رکھتا۔
بندوق سے پہلے فون کا استعمال: فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دفترِ خارجہ نے اسی لیے تہران تک سعودی پیغام پہنچا کر ثالث کا کردار برقرار رکھنے کی ترجیح دی ہے، تاکہ لڑائی کے عملی دائرے سے باہر رہا جا سکے۔
مکہ معاہدہ: دستاویز سے میدان جنگ کے قریب
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کی بنیادی شق غیر معمولی طور پر واضح ہے کہ ’کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا‘۔ پاکستان نے اس وقت زور دیا تھا کہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
لیکن کسی دفاعی معاہدے کا اصل امتحان اسی وقت شروع ہو جاتا ہے، جب حملہ واقعی کردیا جائے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے 10 ستمبر کو کہا کہ حوثی حملوں کے جواب میں کسی فوجی کارروائی پر فی الحال بات نہیں ہورہی، تاہم مکہ معاہدے کے عملی طریقۂ کار اور ادارہ جاتی ڈھانچے بھی ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔
موجودہ صورت حال میں یہی وہ سفارتی گنجائش ہے، جسے اسلام آباد اس وقت استعمال کرنا چاہتا ہے۔
موجودہ بحران کے پاکستان پر 5 بڑے اثرات
▼
موجودہ بحران کے پاکستان پر 5 بڑے اثرات
تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے بجلی اور پٹرول پر دباؤ
پاکستان کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ خلیج اور بحیرہ احمر سے وابستہ ہے۔ اگر باب المندب میں جہاز رانی معطل ہوتی ہے تو فریٹ چارجز بڑھنے سے درآمدی بل میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوگا جو ملکی روپے کو گراوٹ کی طرف دھکیلے گا۔
سعودی عرب سے 873 ملین ڈالر ماہانہ
سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی ملکی زرمبادلہ کی شہ رگ ہیں۔ خلیج میں وسیع جنگ چھڑنے کی صورت میں روزگار اور ترسیلات کے تسلسل پر فوری سوالات کھڑے ہو جائیں گے۔
یمن بارڈر کے قریب تعینات جوان
سعودی عرب میں موجود پاکستانی جنگی اسکواڈرن اور فوجی اہلکار اگر حوثی بیلسٹک میزائلوں یا ڈرونز کی زد میں آتے ہیں تو پاکستان کے لیے جنگ سے الگ رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
مذہبی و سیاسی تقسیم کا بیدار ہونا
ماضی کی طرح یمن کی جنگ میں کھلم کھلا فریق بننے سے پاکستان کے اندر سیاسی کشمکش اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن میں تیزی آ سکتی ہے جسے ریاست برداشت نہیں کر سکتی۔
ثالثی کا کارڈ کھونے کا اندیشہ
اگر پاکستان دباؤ میں آ کر کسی ایک فریق کی صف بندی میں مکمل داخل ہو گیا تو وہ تہران اور ریاض کے مابین واحد فعال پل کی اپنی تاریخی حیثیت ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔
سعودی عرب سے فاصلہ بھی آسان نہیں
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعلق مکہ معاہدے سے کہیں زیادہ پرانا اور گہرا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پہلے سے موجود انتظامات کے تحت ہزاروں پاکستانی فوجی اور لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن سعودی عرب میں موجود ہے، جبکہ پاکستانی اہلکار سعودی اور یمن کی سرحد کے قریب بھی تعینات رہے ہیں۔
اگر ان اہلکاروں کو کسی بڑے حوثی حملے میں نقصان پہنچتا ہے تو اسلام آباد کے لیے معاملہ صرف سفارتی مذمت تک محدود رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوجائے گا۔
اس معاملے کا اقتصادی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔
🔥
اگر حوثی حملے بڑھے تو پھر کیا ہوگا؟
➤
اگر حوثی حملے بڑھے تو پھر کیا ہوگا؟
تہران کے ذریعے دباؤ اور حملوں میں وقتی کمی
پاکستان اور ترکیہ مل کر ایران کو قائل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے کہ وہ حوثیوں کو لگام دے، تاکہ بات عسکری کارروائی تک نہ پہنچے اور بحیرہ احمر میں تجارتی راستہ بحال رہے۔
سعودی حدود کے اندر فضائی دفاع اور انٹیلی جنس شیئرنگ
اگر حوثیوں نے آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا تو پاکستان اپنے ائیر ڈیفنس ماہرین اور ریڈار کور کے ذریعے صرف سعودی سرزمین کا دفاع مضبوط کرے گا، مگر یمن کے اندر جوابی حملوں سے انکار برقرار رکھے گا۔
یمن میں فضائی کارروائی اور ہمہ گیر علاقائی آگ
اگر مکہ معاہدے کے دباؤ تلے پاکستان نے یمن پر فضائی اسٹرائیکس میں حصہ لیا تو ایران کے ساتھ تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے، جبکہ حوثی پاکستانی مفادات اور بحری جہازوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اگست 2026 میں پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 3.66 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب سے آنے والے تقریباً 873 ملین ڈالر کا تھا۔
دفاعی تعاون، سرمایہ کاری، تیل اور پاکستانی افرادی قوت، یہ سب ریاض کے ساتھ تعلقات میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایران سے دشمنی کی قیمت بھی بھاری ہوگی
پاکستان کے لیے دوسری حقیقت بھی بہت واضح اور مشکل ہے۔ یعنی ایران اس کا ہمسایہ ہے۔ دونوں ممالک کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے آس پاس سیکیورٹی کے مسائل پہلے ہی موجود ہیں۔
2024 میں ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے کی حدود میں مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر حملے بھی کیے تھے۔ آج اگر اسلام آباد حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگ کا حصہ بنتا ہے تو تہران کے ساتھ تعلقات دوبارہ شدید دباؤ میں آسکتے ہیں۔
🛡️
مکہ دفاعی معاہدہ حقیقتاً کتنا عملی اور طاقتور ہے؟
+
مکہ دفاعی معاہدہ حقیقتاً کتنا عملی اور طاقتور ہے؟
مکہ دفاعی مثلث: 7 اگست 2026ء کو دستخط شدہ دستاویز کا پہلا بڑا ارضیاتی و عسکری امتحان۔
اجتماعی دفاع کا تزویراتی رعب
کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کا اصول کاغذ پر غیر معمولی دفاعی ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی روایتی حریف کو کھلی جارحیت سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مشترکہ ملٹری کمانڈ تاحال غیر فعال
معاہدے کو دستخط ہوئے ابھی صرف ایک ماہ گزرا ہے۔ ریاض میں سیکریٹریٹ اور مشترکہ آپریشنل طریقہ کار (SOPs) ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں، جس کے باعث ہنگامی فیصلے فوری طور پر نہیں ہو سکتے۔
حوثی باغیوں کی کارروائیوں کی تعریف
معاہدہ روایتی ریاستوں کی جنگ کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ غیر ریاستی ملیشیا کے گوریلا حملوں کی صورت میں فوجی کارروائی کے قواعد (ROE) میں ابہام ہے، جسے پاکستان سفارتی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ایٹمی قوت + جدید ڈرونز + لامحدود بجٹ
پاکستان کی جوہری و عسکری افرادی قوت، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی وسائل کا اشتراک مستقبل میں خطے کا سب سے طاقتور بلاک بننے کا بھرپور دم خم رکھتا ہے۔
اقتصادی معاملات کے علاوہ پاکستان کی توانائی سلامتی بھی خلیج اور بحیرہ احمر سے جڑی ہے۔
ایسے میں ایران یا حوثیوں کے ساتھ براہ راست تصادم سمندری تجارت، تیل کی قیمت، درآمدی بل اور ملک کے اندر سیاسی و فرقہ وارانہ ماحول، سب پر اثر ڈال سکتا ہے۔
بندوق سے پہلے فون کا استعمال
پاکستان نے اب تک اپنی سب سے اہم طاقت، یعنی دونوں طرف رابطوں کو استعمال کیا ہے۔
سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اسلام آباد نے تہران تک سعودی پیغام پہنچایا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرکے حملے کم کرائے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششیں بحال کرنے پر بھی بات کی ہے۔
🌐
عالمی طاقتیں اس بحران کو کیسے دیکھ رہی ہیں؟
▼
عالمی طاقتیں اس بحران کو کیسے دیکھ رہی ہیں؟
امریکہ: حملوں سے گریز، انٹیلی جنس تعاون
ٹرمپ انتظامیہ یمن میں نئے زمینی یا فضائی دلدل میں پھنسنے سے محتاط ہے۔ واشنگٹن نے سعودی درخواست پر براہِ راست حملے کرنے کے بجائے انٹیلی جنس مدد تک خود کو محدود رکھا ہے، جس نے دفاع کا بوجھ علاقائی حلیفوں پر ڈال دیا ہے۔
چین: خاموش مگر تزویراتی طور پر چوکس
بیجنگ کی یورپ جانے والی تجارت کا 60 فیصد حصہ بحیرہ احمر سے گزرتا ہے۔ چین ایران پر اپنا سفارتی اثر استعمال کر کے آبی گزرگاہ کے استحکام کا خواہاں ہے تاکہ اس کا 'بیلٹ اینڈ روڈ' لاجسٹکس بحران کا شکار نہ ہو۔
ترکیہ: بحیرہ احمر میں اثر و رسوخ
مکہ معاہدے کے تیسرے اہم رکن کی حیثیت سے انقرہ اس بحران کو قرنِ افریقہ اور بحیرہ احمر میں اپنے بحری و دفاعی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، مگر یمن میں براہِ راست دخل اندازی سے گریزاں ہے۔
یہ ایک عجیب مگر مفید پوزیشن ہے کہ پاکستان مکمل طور پر غیرجانب دار نہیں ہے۔ وہ سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار اور واشنگٹن کے قریب ہے۔
مگر یہی قربت اسے ایسا پیغام رساں بھی بناتی ہے، جس کی بات ریاض اور واشنگٹن سن سکتے ہیں اور جس کے دروازے تہران میں بھی مکمل بند نہیں۔
لیکن اصل مسئلہ وہاں شروع ہوگا، جہاں پیغام رسانی ختم اور عملی جنگی مدد شروع ہوگی۔
امریکہ پیچھے رہا تو دباؤ پاکستان پر بڑھے گا
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کی، لیکن رائٹرز کے مطابق واشنگٹن نے براہ راست حملوں سے گریز کیا، اگرچہ انٹیلی جنس اور ہدف بندی میں مدد دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس امریکی ہچکچاہٹ کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ریاض اپنے دوسرے دفاعی ساتھیوں، خصوصاً پاکستان اور ترکیہ کی طرف زیادہ دیکھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے محفوظ راستہ کتنا تنگ رہ گیا؟
اسلام آباد کے پاس عملاً 3 درجے ہیں۔ پہلا یہ کہ ثالثی جاری رکھنا اور تہران کے ذریعے حوثیوں پر دباؤ ڈالنا۔
دوسرا یہ کہ سعودی حدود کے اندر فضائی دفاع، تنصیبات کی حفاظت، تربیت اور انٹیلی جنس تک مدد محدود رکھنا۔
اور تیسرا سب سے خطرناک مرحلہ یمن کے اندر براہ راست فوجی کردار ہوگا۔
فی الحال پاکستان پہلے راستے پر ہے اور دوسرے کے لیے پہلے سے کچھ صلاحیت موجود ہے۔ تیسرے مرحلے سے وہ واضح طور پر بچنا چاہتا ہے۔
تاہم باب المندب کی موجودہ جنگ نے ایک حقیقت نمایاں کردی ہے کہ پاکستان بیک وقت سعودی عرب کا دفاعی اتحادی، ایران کا ہمسایہ اور دونوں کے درمیان ثالث رہ سکتا ہے۔
تاہم ایسا صرف تب تک، جب تک جنگ اسے کسی ایک کردار کے انتخاب پر مجبور نہ کردے۔ یہی مکہ معاہدے کا اصل امتحان ہے اور پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کی آزمائش بھی۔