سعودی عرب میں قائم فن ٹیک کمپنی تابی کی مالیت نئی فنڈنگ کے بعد 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
25 ملین صارفین اور 18 ارب ڈالر سے زیادہ سالانہ لین دین رکھنے والی کمپنی اب ’ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں‘ سے آگے بڑھ کر صارف فنانسنگ، کاروباری قرضوں اور ڈیجیٹل مالی خدمات میں داخل ہو رہی ہے۔
اب ’تابی‘ کی کہانی صرف ایک ایسے ایپ کی نہیں رہی جس کے ذریعے صارف موبائل فون، کپڑے یا دیگر اشیا خرید کر رقم 4 قسطوں میں ادا کرتا ہے۔
کمپنی کی نئی فنڈنگ راؤنڈ کے بعد اس کی مالیت 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں تابی ایک عام ’Buy Now, Pay Later‘ کمپنی سے نکل کر ایک وسیع مالیاتی پلیٹ فارم بننے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ریاض میں قائم کمپنی نے Series F فنڈنگ راؤنڈ میں 233 ملین ڈالر حاصل کئے ہیں۔
اس راؤنڈ کی قیادت Blue Pool Capital نے کی، جبکہ HSG، Wellington Management اور Arbor Ventures نے بھی حصہ لیا۔
کمپنی کے سابق سرمایہ کاروں میں امارات کا معروف ادارہ مبادلہ بھی شامل ہے۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSتابی — اہم نکات ⌄
- ✓نئی Series F فنڈنگ میں 233 ملین ڈالر حاصل کئے گئے، جس کے بعد کمپنی کی مالیت 6.5 ارب ڈالر ہوگئی۔
- ✓تابی کے تقریباً 25 ملین رجسٹرڈ صارفین اور 70 ہزار تجارتی شراکت دار ہیں۔
- ✓کمپنی سالانہ 18 ارب ڈالر سے زیادہ کے لین دین پراسیس کر رہی ہے۔
- ✓سعودی عرب میں تابی کو صارف فنانسنگ اور SME فنانسنگ کے لائسنس مل چکے ہیں۔
- ✓امارات میں Stored Value Facility لائسنس نے اکاؤنٹس، کارڈز اور منی مینجمنٹ ٹولز کا راستہ کھولا ہے۔
- ✓تیز توسیع کے ساتھ ممکنہ کریڈٹ خساروں کے لیے مختص رقم میں نمایاں اضافہ کمپنی کے لیے اہم خطرہ بن رہا ہے۔
لیکن اصل کہانی 233 ملین ڈالر کی فنڈنگ نہیں، بلکہ کمپنی کی نئی مالیت ہے۔
6.5 ارب ڈالر کا ویلیوایشن یہ اشارہ دیتا ہے کہ سرمایہ کار تابی کو صرف قسطوں کی سہولت دینے والی کمپنی کے طور پر نہیں دیکھ رہے، بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کمپنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی بازاروں میں مالی خدمات کا ایک وسیع نیٹ ورک کھڑا کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
25 ملین صارفین اور 18 ارب ڈالر کے لین دین
تابی کے موجودہ اعدادوشمار اس تیز رفتار ترقی کو واضح کرتے ہیں۔
کمپنی کے تقریباً 25 ملین رجسٹرڈ صارفین ہیں، جبکہ 70 ہزار سے زیادہ دکاندار اور کمپنیاں اس کے نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔
ان میں Amazon اور SHEIN جیسے عالمی برانڈز بھی شامل ہیں۔
تابی کے پلیٹ فارم سے سالانہ ہونے والے لین دین کی مجموعی مالیت
18 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اب منافع کما رہی ہے، جو اس سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ کئی فن ٹیک کمپنیاں برسوں تک تیز رفتار توسیع کو ترجیح دیتی رہی ہیں، چاہے اس دوران منافع محدود ہی کیوں نہ ہو۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXتابی: فیکٹ باکس ⌄
اب نئی فنڈنگ صرف روایتی قسطوں کی سروس بڑھانے پر خرچ نہیں ہوگی، بلکہ کمپنی زیادہ پیچیدہ اور بڑی مالی مصنوعات میں داخل ہو رہی ہے۔
سعودی عرب نے کھیل بدل دیا
جون 2026 میں تابی کو سعودی مرکزی بینک ’ساما‘ سے صارفین کے لیے فنانسنگ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی فنانسنگ کے لائسنس ملے۔
اس اجازت کے بعد کمپنی کی خدمات صرف مختصر مدت کی چھوٹی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہیں۔
اب وہ ایسے خریداری منصوبے پیش کر سکتی ہے جن کی مالیت 50 ہزار ریال تک ہو، جبکہ ادائیگی کی مدت 12 ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
↗ OVERSEAS POST | GROWTHتابی کی تیز رفتار ترقی ⌄
تابی کا آغاز خلیج میں Buy Now, Pay Later ماڈل کے ساتھ ہوا۔
کمپنی کی مالیت تقریباً 1.5 ارب ڈالر تک پہنچی۔
توسیع اور نئی سرمایہ کاری کے ساتھ مالیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
Series F میں 233 ملین ڈالر کی فنڈنگ کے بعد مالیت 6.5 ارب ڈالر ہوگئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تابی اب صرف کپڑوں، موبائل فون یا چھوٹی خریداریوں تک محدود نہیں، بلکہ تعلیم، سفر، فرنیچر اور بعض آٹو سروسز جیسے بڑے اخراجات میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
اسی طرح چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو فنانسنگ دینے کا لائسنس کمپنی کے لیے ایک نیا دروازہ کھولتا ہے، کیونکہ اب وہ اپنے نیٹ ورک سے منسلک تاجروں اور کمپنیوں کو ورکنگ کیپیٹل بھی فراہم کر سکتی ہے۔
یوں تابی آہستہ آہستہ ایک عام ادائیگی پلیٹ فارم سے نکل کر زیادہ جامع مالیاتی ادارے کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
امارات میں اگلا مرحلہ
متحدہ عرب امارات میں بھی کمپنی کا سفر اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اپریل 2026 میں تابی کو امارات کے مرکزی بینک سے Stored Value Facility کا لائسنس ملا، جس کے تحت وہ صارفین کے فنڈز رکھ سکتی ہے اور ان کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹس، ادائیگی کارڈز اور منی مینجمنٹ ٹولز تیار کر سکتی ہے۔
SA OVERSEAS POST | SAUDI ARABIAسعودی عرب نے کھیل کیسے بدلا؟ ⌄
ساما کے لائسنسوں کے بعد تابی صرف مختصر قسطوں کی سروس نہیں رہی، بلکہ زیادہ بڑی مالی مصنوعات کی طرف بڑھ گئی۔
- ✓صارف فنانسنگ کے ذریعے بڑی خریداریوں کو فنانس کرنے کی گنجائش۔
- ✓کچھ منصوبوں میں 50 ہزار ریال تک خریداری کی فنانسنگ۔
- ✓ادائیگی کی مدت 12 ماہ تک بڑھانے کی سہولت۔
- ✓SME فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو ورکنگ کیپیٹل فراہم کرنے کا راستہ۔
یعنی ممکن ہے کہ ایک صارف پہلے تابی کو صرف قسطوں پر خریداری کے لیے استعمال کرے، پھر اسی ایپ کے ذریعے ادائیگیاں کرے، رقم منتقل کرے اور اپنے روزمرہ اخراجات کو بھی منظم کرنے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تابی جیسی فن ٹیک کمپنیاں روایتی بینکوں کے لیے حقیقی مسابقت بن سکتی ہیں۔
تیز ترقی کے ساتھ خطرات بھی
تاہم تصویر مکمل طور پر روشن نہیں ہے۔
سعودی عرب میں کمپنی کے مالی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں تابی کا خالص منافع تقریباً 12 فیصد کم ہو کر 79.7 ملین ریال رہ گیا، حالانکہ فنانسنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہوا۔
◉ OVERSEAS POST | UAEامارات میں اگلا مرحلہ: والٹ سے آگے ⌄
Stored Value Facility لائسنس نے تابی کے لیے قسطوں سے آگے روزمرہ مالی خدمات کی نئی راہ کھولی۔
- ✓Spending Accounts: روزمرہ اخراجات کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹس۔
- ✓Cards: ادائیگی کے لیے کارڈ پر مبنی خدمات۔
- ✓Money Management: خرچ اور رقم کے انتظام کے ٹولز۔
- ✓Beyond Credit: مقصد صارف کے ساتھ مکمل مالیاتی تعلق قائم کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم اعدادوشمار سامنے آیا: متوقع کریڈٹ خساروں کے لیے مختص رقم تقریباً 64 فیصد بڑھ کر 128.8 ملین ریال تک پہنچ گئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے جیسے کمپنی زیادہ صارفین کو قرض یا فنانسنگ دے رہی ہے، ادائیگی میں ناکامی کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
تابی کے مستقبل کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ کس حد تک تیزی سے فنانسنگ بڑھا سکتی ہے اور ساتھ ہی اپنے قرض لینے والے صارفین کی ادائیگی کی صلاحیت کو قابو میں رکھ سکتی ہے۔
سرمایہ کار 6.5 ارب ڈالر کیوں دے رہے ہیں؟
سرمایہ کار صرف قسطوں کی سروس پر شرط نہیں لگا رہے۔
تابی کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو ڈیجیٹل معیشت میں انتہائی قیمتی ہے: لاکھوں صارفین کے ساتھ براہِ راست اور مسلسل مالی تعلق۔
کمپنی کو معلوم ہے کہ صارف کہاں خرچ کرتا ہے، کتنی مالیت کی خریداری کرتا ہے، کب ادائیگی کرتا ہے اور اس کی ادائیگی کی صلاحیت کیسی ہے۔
$ OVERSEAS POST | INVESTORSسرمایہ کار 6.5 ارب ڈالر کی قیمت کیوں دے رہے ہیں؟ ⌄
اسی ڈیٹا اور صارف کے تعلق کی بنیاد پر کمپنی نئی مالی خدمات شامل کر سکتی ہے، جیسے صارف فنانسنگ، کاروباری فنانسنگ، ڈیجیٹل والٹس، اکاؤنٹس اور دیگر مالی مصنوعات۔
یعنی تابی کی کوشش یہ ہے کہ وہ آن لائن خریداری کے وقت نظر آنے والے ایک بٹن سے بڑھ کر ایسا مالیاتی ایپ بن جائے جسے صارف روزمرہ زندگی میں مسلسل استعمال کرے۔
کیا تابی مستقبل کا بینک بن سکتی ہے؟
ابھی تابی کو روایتی معنوں میں بینک کہنا قبل از وقت ہوگا، اور سعودی عرب و امارات میں اس کے لائسنسوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔
لیکن ایک بات واضح ہے: بینک، فنانسنگ کمپنی، ادائیگی پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل والٹ کے درمیان موجود پرانی سرحدیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISروایتی بینکوں کے لیے اصل چیلنج کیا ہے؟ ⌄
بینک عموماً اکاؤنٹ کھلوانے کے بعد صارف سے تعلق بناتا ہے، جبکہ تابی کا تعلق اکثر خریداری کے لمحے سے شروع ہوتا ہے۔
- ✓صارف پہلے ہی ایپ کو ادائیگی کے لیے استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
- ✓کمپنی کے پاس خریداری اور ادائیگی کا مسلسل ڈیٹا موجود رہتا ہے۔
- ✓نئی فنانسنگ یا والٹ سروس متعارف کرانے کی لاگت نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔
- ✓اگر روزمرہ خرچ بھی اسی ایپ میں آگیا تو روایتی بینکوں کے بعض کردار محدود ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب اس تبدیلی کے لیے خاص طور پر موزوں مارکیٹ ہے، جہاں نوجوان آبادی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑھتا استعمال، ای کامرس کی توسیع اور وژن 2030 کے تحت فن ٹیک کی سرکاری حمایت تابی جیسی کمپنیوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
کمپنی کے سی ای او حسام عرب نے حالیہ فنڈنگ کے بعد کہا ہے کہ فی الحال فوری IPO کا کوئی منصوبہ نہیں، اور کمپنی کی ترجیح اپنے کاروبار اور خدمات کو مزید پھیلانا ہے۔
اس لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ کتنے لوگ تابی سے قسطوں پر خریداری کریں گے، بلکہ یہ ہے کہ تابی صارف کی مالی زندگی کے کتنے حصے اپنے ایپ میں لے سکتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ روایتی بینکوں کی کئی خدمات کا حقیقی متبادل بن جائے؟