امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی گزشتہ دو دہائیوں میں کئی گنا بڑھی ہے۔
تعلیم، آمدنی، جائیداد اور کاروبار میں پیش رفت کے ساتھ اب پاکستانی نژاد امریکی سیاست اور اداروں میں بھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
نئی نسل اس تبدیلی میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
تقریباً پچیس سال پہلے امریکہ میں پاکستانی نسبتاً ایک چھوٹی کمیونٹی تھے، جو چند بڑے شہروں تک محدود تھی اور جس کی آبادی میں اضافہ زیادہ تر نئے آنے والے تارکینِ وطن کے ذریعے ہوتا تھا۔
آج تصویر بالکل مختلف ہے۔
پاکستانی کمیونٹی صرف تعداد میں نہیں بڑھی، بلکہ اب وہ ہجرت اور ابتدائی استحکام کے مرحلے سے نکل کر ایک زیادہ اہم دور میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے:
دولت بنانا، دوسری نسل کو اعلیٰ تعلیم دلانا، کاروبار قائم کرنا، گھر خریدنا اور پھر امریکی سیاست اور اداروں میں زیادہ نمایاں جگہ حاصل کرنا۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTامریکہ میں پاکستانی — اہم نکات ⌄
- ✓امریکہ میں پاکستانی نژاد افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار ہے۔
- ✓صرف پاکستانی شناخت رکھنے والوں کی تعداد 2000 کے 1 لاکھ 65 ہزار سے بڑھ کر 2023 میں تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار ہوگئی۔
- ✓تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار پاکستانی نژاد افراد امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں۔
- ✓25 سال یا اس سے زائد عمر کے تقریباً 59 فیصد پاکستانی بیچلرز یا اس سے اعلیٰ ڈگری رکھتے ہیں۔
- ✓پاکستانی سربراہ والے گھرانوں کی میڈین سالانہ آمدنی تقریباً 108,100 ڈالر ہے۔
- ✓تقریباً 60 فیصد پاکستانی گھرانے اپنے گھر کے مالک ہیں۔
Pew Research Center کے حالیہ اعداد و شمار اس تبدیلی کی وسعت ظاہر کرتے ہیں۔
2023 میں امریکہ میں تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار افراد نے خود کو پاکستانی نژاد قرار دیا، خواہ پاکستانی شناخت ان کی واحد شناخت ہو یا کسی دوسری شناخت کے ساتھ۔
اس طرح پاکستانی امریکہ میں ایشیائی نژاد آبادی کا ساتواں بڑا گروپ بن چکے ہیں۔
لیکن صرف یہ عدد پوری کہانی نہیں بتاتا۔
مزید پڑھیں
ایک لاکھ 65 ہزار سے نصف ملین سے زیادہ تک
اگر زیادہ محتاط پیمانہ اختیار کیا جائے، یعنی صرف وہ افراد جو خود کو ’صرف پاکستانی‘ قرار دیتے ہیں، تو ان کی تعداد 2000 میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار سے بڑھ کر 2023 میں 5 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں امریکہ میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 40 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 20 ہزار ہوگئی، جبکہ پاکستان سے ہجرت کرکے
آنے والوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار رہی۔
یہیں سے پاکستانی کمیونٹی کے مستقبل کی سب سے اہم تبدیلی سامنے آتی ہے۔
نئی پاکستانی نژاد امریکی نسل کی زندگی روایتی تارک وطن جیسی نہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXپاکستانی امریکی: فیکٹ باکس ⌄
ان میں بڑی تعداد امریکہ میں پیدا ہوئی، وہیں کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھی، انگریزی ان کی پہلی زبان ہے اور وہ امریکی سماج اور نظام کو اندر سے جانتی ہے۔
یعنی اب کمیونٹی کی ترقی صرف نئی ہجرت پر منحصر نہیں رہی، بلکہ امریکہ میں پیدا ہونے والی ایک مکمل پاکستانی نژاد نسل سامنے آچکی ہے۔
تعلیم.. ترقی کا دروازہ
پاکستانی کمیونٹی کی ترقی کا سب سے واضح اشاریہ تعلیم ہے۔
25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے پاکستانی نژاد افراد میں تقریباً 59 فیصد کے پاس بیچلرز یا اس سے اعلیٰ ڈگری ہے۔ یہ شرح مجموعی امریکی آبادی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔
اور امریکہ میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں میں یہ شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
↗ OVERSEAS POST | POPULATION165 ہزار سے 580 ہزار تک ⌄
2000: صرف پاکستانی شناخت رکھنے والوں کی تعداد تقریباً 165 ہزار تھی۔
2010: یہ تعداد تقریباً 330 ہزار تک پہنچ گئی۔
2019: پاکستانی آبادی تقریباً 5 لاکھ کے قریب پہنچ چکی تھی۔
2023: صرف پاکستانی شناخت رکھنے والوں کی تعداد تقریباً 580 ہزار ہوگئی۔
یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی اب امریکہ میں ایک مستقل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بن چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نژاد افراد طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، مالیاتی شعبے، کاروبار اور دیگر اعلیٰ مہارت والی ملازمتوں میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
اب یہ کہانی صرف کسی تارک وطن کے ملازمت تلاش کرنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ نئی نسل امریکی معیشت کے ان شعبوں میں داخل ہو رہی ہے جہاں آمدنی اور اثر و رسوخ دونوں زیادہ ہیں۔
ایک لاکھ 8 ہزار ڈالر سے زیادہ گھریلو آمدنی
اعلیٰ تعلیمی سطح نے معاشی صورت حال پر بھی اثر ڈالا ہے۔
2023 میں پاکستانی سربراہ والے گھرانوں کی اوسط سالانہ میڈین آمدنی تقریباً 108,100 ڈالر رہی، جو مجموعی ایشیائی نژاد امریکی گھرانوں کی تقریباً 105,600 ڈالر میڈین آمدنی سے کچھ زیادہ ہے۔
◎ OVERSEAS POST | NEXT GENERATIONاصل تبدیلی — دوسری نسل ⌄
امریکہ میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 40 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 20 ہزار ہوچکی ہے۔
یہ نسل امریکی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہے، امریکی نظام کو اندر سے جانتی ہے اور انگریزی اس کی پہلی زبان ہوسکتی ہے۔
اسی نئی نسل سے مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، کاروباری افراد، صحافی، وکلا، سیاست دان اور پالیسی ساز سامنے آسکتے ہیں۔
امریکہ میں پیدا ہونے والے پاکستانی سربراہ والے گھرانوں کی میڈین آمدنی تو تقریباً 114,900 ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی۔
تاہم یہ اعداد اس بات کا مطلب نہیں کہ پوری کمیونٹی خوشحال ہے۔
اسی ڈیٹا کے مطابق تقریباً 12 فیصد پاکستانی نژاد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔
یعنی کمیونٹی کے اندر بھی نمایاں معاشی فرق موجود ہے۔
ایک جانب ڈاکٹر، کاروباری افراد اور اعلیٰ پیشہ ور طبقہ ہے، جبکہ دوسری جانب محدود آمدنی والے خاندان اور نئے آنے والے تارکین وطن بھی موجود ہیں۔
گھر صرف رہائش نہیں، دولت بھی ہے
ایک اور اہم اشاریہ جائیداد ہے۔
تقریباً 60 فیصد پاکستانی گھرانے اپنے گھر کے مالک ہیں۔
امریکی معاشرے میں گھر خریدنا صرف رہائش کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ طویل مدت میں دولت بنانے اور اسے اگلی نسل تک منتقل کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
🎓 OVERSEAS POST | EDUCATIONتعلیم — ترقی کا سب سے بڑا دروازہ ⌄
25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے پاکستانی نژاد افراد میں تقریباً 59 فیصد کے پاس بیچلرز یا اس سے اعلیٰ ڈگری ہے۔
امریکہ میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں میں اعلیٰ تعلیم کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہی تعلیمی برتری پاکستانی امریکیوں کو طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، مالیات اور دیگر اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس لحاظ سے پاکستانی کمیونٹی بھی بتدریج ایک ایسے تارک وطن معاشرے سے تبدیل ہو رہی ہے جو صرف کام کے لیے امریکہ آیا تھا، ایک ایسی مستقل کمیونٹی میں جو جائیداد اور دیگر اثاثے بنا رہی ہے۔
ٹیکساس اور نیویارک.. پاکستانیوں کے بڑے مراکز
پاکستانی آبادی چند اہم امریکی ریاستوں میں زیادہ مرکوز ہے۔
ٹیکساس، نیویارک اور کیلیفورنیا پاکستانی کمیونٹی کے بڑے مراکز ہیں، جبکہ الینوائے اور ورجینیا میں بھی قابل ذکر تعداد آباد ہے۔
$ OVERSEAS POST | INCOME108,100 ڈالر — آمدنی کی کہانی ⌄
Pew کے مطابق ’صرف پاکستانی‘ شناخت کے تحت ٹیکساس میں تقریباً 95 ہزار اور نیویارک میں تقریباً 90 ہزار پاکستانی رہتے ہیں۔
جہاں تعداد بڑھتی ہے، وہاں اس کے ساتھ ایک مکمل معاشی اور سماجی نیٹ ورک بھی بنتا ہے: ریسٹورنٹس، دکانیں، مساجد، اسکول، پیشہ ورانہ تنظیمیں، کمپنیاں، وکلا، ڈاکٹر اور کمیونٹی ادارے۔
یہ جغرافیائی ارتکاز سیاسی اعتبار سے بھی اہم ہے، کیونکہ ایک ہی پس منظر کے ہزاروں ووٹر خاص طور پر مقامی انتخابات میں اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
نیویارک نے تبدیلی کو محسوس کرلیا
مارچ 2026 میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹ نے Pakistan-American Heritage Day منانے کی قرارداد منظور کی، جس میں تعلیم، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار اور صنعت میں پاکستانی امریکیوں کی خدمات کو سراہا گیا۔
⌂ OVERSEAS POST | HOME OWNERSHIPگھر کی ملکیت — دولت بنانے کا راستہ ⌄
تقریباً 60 فیصد پاکستانی گھرانے امریکہ میں اپنے گھر کے مالک ہیں۔
امریکی معاشرے میں گھر صرف رہائش نہیں بلکہ خاندان کی طویل مدتی دولت بنانے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی عارضی ہجرت سے نکل کر مستقل معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
قرارداد پر گفتگو کے دوران سینیٹر جان لیو نے پاکستانی امریکی کمیونٹی کو محنتی اور کامیاب قرار دیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ کمیونٹی چھوٹے کاروباروں سے نکل کر بڑے کاروبار اور اعلیٰ پیشہ ورانہ شعبوں تک پہنچ رہی ہے۔
بظاہر یہ ایک علامتی اقدام ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔
تارک وطن کمیونٹیاں عموماً پہلے روزگار اور استحکام تلاش کرتی ہیں، پھر تعلیم اور دولت کی طرف بڑھتی ہیں، اور اس کے بعد سیاست اور اداروں میں اپنی جگہ بنانے لگتی ہیں۔
امریکہ میں پاکستانی واضح طور پر اسی اگلے مرحلے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
سوال اب تعداد کا نہیں رہا
آنے والے برسوں میں اصل چیلنج صرف پاکستانیوں کی تعداد بڑھانا نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا پاکستانی امریکی اپنی تعلیمی اور معاشی کامیابی کو سیاسی، میڈیا اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ میں تبدیل کرسکیں گے؟
⌖ OVERSEAS POST | WHERE THEY LIVEپاکستانیوں کے بڑے امریکی مراکز ⌄
نئی نسل کے لاکھوں بچے اور نوجوان آج امریکی سماج کے اندر پروان چڑھ رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہی لوگ ڈاکٹر، کاروباری افراد، وکلا، صحافی، ووٹر اور ممکنہ طور پر ریاستی اسمبلیوں اور کانگریس کے ارکان بنیں گے۔
اسی لیے شاید امریکہ میں پاکستانیوں کی اصل کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔
چند دہائیاں پہلے سوال یہ تھا:
ایک پاکستانی تارک وطن امریکہ میں کامیاب کیسے ہوسکتا ہے؟
اب ایک نیا سوال سامنے ہے:
پاکستانی امریکی خود امریکہ پر کتنا اثر ڈال سکتے ہیں؟