براہ راست نشریات

خلیج میں نئی دفاعی صف بندی.. ہرمز سے باب المندب تک کیا بدل رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Pakistan Security

خلیج کی سکیورٹی پالیسی ایک ممکنہ تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
امریکا اب بھی سب سے اہم فوجی شراکت دار ہے، مگر ہرمز، باب المندب، حوثی حملوں اور سعودی تیل کی تنصیبات پر دباؤ نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ایک ہی سکیورٹی ضامن پر انحصار کافی ہے۔
اب پاکستان، ترکی، یورپی ممالک اور ایران کے ساتھ براہِ راست مفاہمت کو بھی ایک وسیع تر سکیورٹی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خلیج میں سکیورٹی بحران اب کسی ایک سمت سے نہیں آ رہا۔

مشرق میں امریکا، ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مغرب میں حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دیے ہیں اور باب المندب کے قریب اپنا اثر مضبوط کیا ہے۔ 

دوسری طرف سعودی عرب کے اندر ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن بھی حملے کا نشانہ بنی، جو ہرمز کے بحران سے بچنے کے لیے بنائی گئی اہم متبادل شریان تھی۔

15 ستمبر کو ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی روزانہ تقریباً 125 عبور، کے مقابلے میں بہت کم رہی، جبکہ باب المندب میں بھی سرگرمی متاثر ہوئی۔ اسی دوران سعودی ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن بھی حملے کے بعد بند رہی، جس سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • خلیجی سکیورٹی کا مسئلہ اب صرف ایران یا کسی ایک محاذ تک محدود نہیں رہا۔
  • آبنائے ہرمز، باب المندب اور توانائی کے زمینی راستے بیک وقت دباؤ میں ہیں۔
  • امریکا اب بھی سب سے اہم فوجی شراکت دار ہے، مگر ہر بحران میں براہِ راست جنگ نہیں لڑنا چاہتا۔
  • پاکستان اور ترکی جیسے شراکت دار اضافی سکیورٹی تہہ فراہم کر سکتے ہیں۔
  • ایران کو مکمل طور پر خارج کرکے مستقل خلیجی سکیورٹی نظام بنانا مشکل ہے۔
  • ممکنہ مستقبل: ایک امریکی چھتری نہیں، بلکہ متعدد شراکت داروں کا سکیورٹی نیٹ ورک۔
overseaspost.net

یہ سب اس بات کا ثبوت نہیں کہ امریکی سکیورٹی نظام خلیج میں ختم ہو گیا ہے۔

لیکن یہ ضرور ایک نئے سوال کو سامنے لا رہا ہے:

کیا صرف امریکی سکیورٹی چھتری آج کے خلیجی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے؟

مزید پڑھیں

سعودی عرب پرانا ماڈل آزما رہا ہے

سعودی عرب اس مشکل کی سب سے واضح مثال ہے۔

مملکت کے امریکا کے ساتھ گہرے فوجی اور سکیورٹی تعلقات ہیں، اور دفاعی ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور اسلحہ کے شعبوں میں واشنگٹن کی اہمیت اب بھی بہت زیادہ ہے۔

لیکن موجودہ بحران نے دکھایا ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور فوجی 

حلیف کے باوجود خطرات ختم نہیں ہوتے۔

حوثی اب بھی سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایران سے منسلک گروہ توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور خود آبنائے ہرمز بھی جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
مرکزی سوال
کیا خلیج ایک امریکی چھتری سے متعدد شراکت داروں کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے؟
اہم مشرقی خطرہ
آبنائے ہرمز
اہم مغربی خطرہ
باب المندب
اہم سعودی متبادل
ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن اور ینبع
امریکی کردار
دفاع، انٹیلی جنس، فضائی و بحری صلاحیت
ابھرتے شراکت دار
پاکستان، ترکی، یورپی ممالک
اہم سفارتی عنصر
ایران کے ساتھ محدود مگر ضروری مفاہمت
ممکنہ مستقبل
Multi-layered Security Network
overseaspost.net

حالیہ تجزیے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خلیجی ریاستیں امریکا کو چھوڑنے کے بجائے ایک اور سمت میں سوچ رہی ہیں: 

ایک سکیورٹی ضامن پر مکمل انحصار کم کیا جائے۔

یہ بنیادی نکتہ ہے۔

تبدیلی امریکا سے کسی دوسرے واحد متبادل کی طرف نہیں، بلکہ ایک چھتری سے متعدد شراکت داروں کے سکیورٹی نیٹ ورک کی طرف ہے۔ 

واشنگٹن موجود ہے، لیکن ہر جنگ نہیں لڑنا چاہتا

امریکا اب بھی خلیج میں سب سے بڑی بیرونی فوجی طاقت ہے، اور کوئی دوسری طاقت فی الحال اس کے اڈوں، انٹیلی جنس، فضائی دفاع اور بحری صلاحیتوں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتی۔

لیکن موجودہ جنگ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ہر بحران میں براہِ راست داخل ہونے کے لیے تیار نہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ رپورٹ کیوں اہم ہے؟
  • پرانا ماڈل: خطرہ آئے تو امریکا بنیادی ضامن کے طور پر مداخلت کرے۔
  • نیا دباؤ: ڈرون، میزائل، پراکسی گروہ اور سمندری خطرات ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھول دیتے ہیں۔
  • اصل تبدیلی: امریکا کو بدلنا نہیں، بلکہ ایک ہی ملک پر مکمل انحصار کم کرنا۔
  • نتیجہ: سکیورٹی اب دفاع + علاقائی شراکت دار + سفارت کاری + متبادل راستوں کا مجموعہ بنتی جا رہی ہے۔
overseaspost.net

حوثیوں کے حالیہ حملوں کے دوران امریکی مدد زیادہ تر انٹیلی جنس، معلومات اور شراکت داروں کی معاونت تک محدود رہی، جبکہ امریکا نے یمن میں ایک بڑی نئی فوجی مہم شروع کرنے سے گریز کیا۔

یہ صورتحال ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

واشنگٹن چاہتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں، اور ہر خطرے کا حل امریکی فوجی مداخلت نہ ہو۔

خلیجی ممالک کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی اتحاد اہم تو ہے، مگر ہر بحران میں فوری امریکی فوجی کارروائی کی ضمانت نہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ.. نئے ماڈل کا پہلا اشارہ

اسی تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خاص اہمیت اختیار کرتا ہے۔

اس معاہدے میں اجتماعی دفاع کا اصول موجود ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہو تو عملی طور پر کیا کیا جائے گا۔

OVERSEAS POST | UNITED STATESواشنگٹن موجود ہے، مگر ہر جنگ نہیں لڑنا چاہتا
  • امریکا خلیج میں سب سے بڑی بیرونی فوجی طاقت بدستور ہے۔
  • اس کے اڈے، انٹیلی جنس، فضائی دفاع اور بحری صلاحیتوں کا فوری متبادل موجود نہیں۔
  • لیکن ہر بحران میں براہِ راست امریکی فوجی مداخلت اب یقینی نہیں سمجھی جا سکتی۔
  • یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اضافی شراکت داروں اور علاقائی صلاحیتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
overseaspost.net

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے 10 ستمبر کو اپنے دفاعی عزم کی تصدیق کی، مگر یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک کسی فوجی ردعمل پر بات نہیں ہوئی۔

یہی بات اس معاہدے کی موجودہ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔

مکہ معاہدہ ابھی کسی مکمل فوجی اتحاد یا ’اسلامی نیٹو‘ کی شکل اختیار نہیں کر چکا۔

تاہم یہ ایک نئی سمت ضرور دکھاتا ہے: سعودی عرب چاہتا ہے کہ مستقبل کے خطرات کے خلاف ردع صرف امریکا کے ساتھ تعلقات تک محدود نہ رہے۔

پاکستان کے پاس بڑی فوج اور جوہری صلاحیت ہے، جبکہ ترکی ایک اہم علاقائی فوجی طاقت اور نیٹو کا رکن ہے۔

لیکن پاکستان خود ایک پیچیدہ پوزیشن میں ہے۔

ایک طرف اس کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں ثالثی بھی کر رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے خلیجی سکیورٹی نظام میں شراکت دار صرف فوجی طاقت نہیں، بلکہ سفارتی پل بھی ہو سکتے ہیں۔

ایران: ایسا حریف جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

یہاں سب سے بڑی حقیقت سامنے آتی ہے۔

ایران خلیجی سکیورٹی کے لیے بہت سے خطرات کا بڑا ذریعہ ہے، مگر اسے کسی مستقل سکیورٹی نظام سے باہر رکھنا بھی آسان نہیں۔

آبنائے ہرمز اس کی سب سے واضح مثال ہے۔

OVERSEAS POST | MECCA PACTمکہ دفاعی معاہدہ کیوں اہم ہے؟
  • سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون نئے علاقائی سکیورٹی ماڈل کی علامت بن سکتا ہے۔
  • معاہدے کی اصل طاقت صرف سیاسی بیان نہیں بلکہ اجتماعی ردع کے تصور میں ہے۔
  • ابھی تک یہ مکمل فوجی اتحاد یا ’اسلامی نیٹو‘ میں تبدیل نہیں ہوا۔
  • اصل سوال یہ ہے کہ کسی بڑے حملے کی صورت میں یہ معاہدہ عملی طور پر کہاں تک جائے گا۔
overseaspost.net

عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہرمز کے مستقبل پر بات چیت کی کوشش کی، لیکن اختلافات اور کشیدگی کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔

تاہم صرف یہ حقیقت کہ ایسے مذاکرات زیرِ غور آئے، ایک اہم سیاسی تبدیلی ہے۔

یہ ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی ممالک سمجھتے ہیں کہ فوجی طاقت اکیلے ہرمز میں دائمی استحکام نہیں لا سکتی۔

کسی نہ کسی سطح پر ایران کے ساتھ سمجھوتہ یا قواعد طے کرنا بھی ضروری ہوگا۔

سعودی عرب کے لیے یہ مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں۔

وژن 2030 سرمایہ کاری، سیاحت، بڑے منصوبوں اور اقتصادی تنوع پر مبنی ہے۔ 

مسلسل جنگ، میزائل اور غیر یقینی ماحول ان تمام اہداف کی لاگت بڑھاتے ہیں۔

اسی لیے ایران کے ساتھ منظم بقائے باہمی ریاض کے لیے اعتماد کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن سکتی ہے۔

ردع سے ’خطرات کے انتظام‘ تک

یہ شاید سب سے اہم تبدیلی ہے۔

خلیج کی روایتی سکیورٹی سوچ بڑی حد تک ردع پر مبنی تھی: امریکا کی بڑی فوجی موجودگی دشمن کو حملے سے روکے گی۔

لیکن سستے ڈرون، میزائل، سمندری بارودی سرنگیں اور پائپ لائنوں پر حملے نے اس تصور کو کمزور کیا ہے۔

PK OVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کا ممکنہ کردار
  • پاکستان سعودی عرب کا دیرینہ دفاعی شراکت دار ہے۔
  • ساتھ ہی ایران اس کا ہمسایہ ہے، اس لیے اسلام آباد کو انتہائی محتاط توازن رکھنا پڑتا ہے۔
  • پاکستان کا مؤثر کردار صرف فوجی نہیں بلکہ دفاعی + سفارتی + ثالثی تینوں سطحوں پر ہو سکتا ہے۔
  • اگر خلیجی سکیورٹی نیٹ ورک وسیع ہوا تو پاکستان کی اہمیت براہِ راست بڑھ سکتی ہے۔
overseaspost.net

ہر بندرگاہ، ہر تنصیب اور ہر کلومیٹر پائپ لائن کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔

موجودہ جنگ نے یہ بھی دکھایا ہے کہ متبادل راستہ خود نشانہ بن سکتا ہے۔

جب ہرمز خطرے میں آیا تو سعودی عرب نے ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن پر زیادہ انحصار کیا۔

جب پائپ لائن متاثر ہوئی تو ینبع اور بحیرہ احمر کی اہمیت بڑھ گئی۔

لیکن باب المندب کے قریب حوثی پیش قدمی نے مغربی راستے کو بھی زیادہ حساس بنا دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ ’ایک محفوظ راستہ‘ تلاش کرنے کا نہیں، بلکہ ایسا نظام بنانے کا ہے جو ایک یا کئی راستوں کے متاثر ہونے کے باوجود کام کرتا رہے۔

یہی فرق روایتی ردع اور خطرات کے انتظام میں ہے۔

چین اور یورپ بھی تصویر میں شامل

سکیورٹی کے تنوع میں صرف پاکستان اور ترکی شامل نہیں۔

برطانیہ اور فرانس بحری دفاع، انٹیلی جنس اور فوجی ٹیکنالوجی میں زیادہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔

چین کی پوزیشن مختلف مگر اہم ہے۔

IR OVERSEAS POST | IRANایران: حریف جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
  • ایران خلیجی سکیورٹی کے اہم خطرات میں شامل ہے، مگر اسے مکمل طور پر خارج کرکے مستقل نظام بنانا مشکل ہے۔
  • ہرمز کی جغرافیائی حقیقت ایران کو کسی بھی پائیدار بحری سکیورٹی فارمولے میں اہم بناتی ہے۔
  • ریاض کے لیے ایران سے مفاہمت اعتماد کا نہیں بلکہ خطرات کم کرنے کا معاملہ ہو سکتا ہے۔
  • مستقبل کا ممکنہ ماڈل: مضبوط ردع + واضح قواعد + محدود براہِ راست مفاہمت۔
overseaspost.net

وہ ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور خلیجی ممالک کا بھی اہم تجارتی شراکت دار۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین جلد امریکا کی فوجی جگہ لے لے گا، لیکن اس کے بڑھتے اقتصادی مفادات اسے مستقبل میں زیادہ سیاسی اور سفارتی کردار کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

یوں خلیج کا مستقبل ایک ایسے نظام کی طرف جا سکتا ہے جہاں مختلف کام مختلف شراکت دار کریں۔

خلیج کے سامنے تین ممکنہ ماڈل

اگر موجودہ جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک کے سامنے تین بنیادی راستے دکھائی دیتے ہیں۔

پہلا ماڈل: روایتی امریکی چھتری۔
امریکا بنیادی ضامن رہے، خلیجی ممالک اسی پر انحصار جاری رکھیں اور فضائی و بحری دفاع کو مزید مضبوط کریں۔ یہ سب سے واضح ماڈل ہے، مگر ہر بحران میں واشنگٹن کے فوری مداخلت نہ کرنے کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔

OVERSEAS POST | GLOBAL PLAYERSچین اور یورپ کہاں کھڑے ہیں؟
  • برطانیہ اور فرانس بحری دفاع، انٹیلی جنس اور فوجی ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  • چین خلیج اور ایران دونوں کے ساتھ بڑے اقتصادی مفادات رکھتا ہے۔
  • بیجنگ فوری طور پر امریکا کا فوجی متبادل نہیں، مگر سفارتی اور اقتصادی اثر بڑھا سکتا ہے۔
  • مستقبل کا سکیورٹی نظام ممکن ہے مختلف ذمہ داریاں مختلف شراکت داروں میں تقسیم کرے۔
overseaspost.net

دوسرا ماڈل: متعدد شراکت داروں کا سکیورٹی نظام۔

امریکا مرکز میں رہے، لیکن پاکستان، ترکی، یورپی ممالک اور دیگر طاقتیں زیادہ کردار ادا کریں، جبکہ خود خلیجی ممالک بھی دفاعی تعاون بڑھائیں۔ موجودہ اشارے اسی سمت زیادہ واضح ہیں۔

تیسرا ماڈل: ردع کے ساتھ ایران سے مفاہمت۔

خلیجی ممالک اپنی فوجی صلاحیت اور اتحاد برقرار رکھیں، لیکن ایران کے ساتھ ہرمز، انفراسٹرکچر پر حملوں اور پراکسی گروہوں کے استعمال سے متعلق واضح قواعد طے کریں۔

ممکن ہے مستقبل میں ان تینوں ماڈلز کا مجموعہ سامنے آئے۔

امریکا کا اختتام نہیں.. امریکا پر واحد انحصار کا اختتام

موجودہ جنگ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ امریکا خلیج کے لیے غیر ضروری ہو گیا ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔

امریکی فوجی، تکنیکی اور انٹیلی جنس صلاحیت اب بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

لیکن اس جنگ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکا ہر میزائل نہیں روک سکتا، ہر پائپ لائن کی حفاظت نہیں کر سکتا، اور ہر امریکی انتظامیہ ہر بحران میں خلیجی خواہش کے مطابق مداخلت نہیں کرے گی۔

3 OVERSEAS POST | SECURITY MODELSخلیج کے سامنے تین ماڈل
ماڈل 1
روایتی امریکی چھتری — امریکا بنیادی سکیورٹی ضامن رہے۔
ماڈل 2
متعدد شراکت دار — امریکا مرکز میں، پاکستان، ترکی اور یورپ اضافی کردار میں۔
ماڈل 3
ردع + ایران سے مفاہمت — فوجی طاقت برقرار، مگر قواعد اور براہِ راست رابطہ بھی۔
زیادہ امکان
مستقبل ان تینوں ماڈلز کا امتزاج ہو سکتا ہے۔
overseaspost.net

اسی لیے اصل تبدیلی شاید زیادہ خاموش اور زیادہ گہری ہو۔

سعودی عرب واشنگٹن کو اسلام آباد، انقرہ یا بیجنگ سے تبدیل نہیں کرے گا۔

لیکن وہ ان سب کو ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ بنا سکتا ہے، تاکہ اس کی سکیورٹی کسی ایک ملک کے فیصلے پر منحصر نہ رہے۔

اسی طرح ریاض اور تہران کو بھی شاید اس حقیقت کو قبول کرنا پڑے کہ زیادہ میزائل رکھنے کے باوجود دونوں کو مستحکم سمندری راستوں اور قابلِ پیش گوئی علاقائی معیشت کی ضرورت ہے۔

اس لیے 2026 کی جنگ کے بعد خلیج کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہوگا:

امریکا کی جگہ کون لے گا؟

بلکہ یہ ہوگا:

ایسا سکیورٹی نظام کیسے بنایا جائے جس میں امریکا سب سے بڑا شراکت دار تو رہے، مگر واحد نہ ہو، اور ایران ایسا حریف ہو جسے روکا بھی جائے اور نظر انداز بھی نہ کیا جا سکے؟

اگر خلیجی ممالک نے اس سوال کا جواب تلاش کرنا شروع کر دیا تو موجودہ جنگ واقعی اس دور کی ابتدا ثابت ہو سکتی ہے جس میں ایک امریکی سکیورٹی چھتری کی جگہ متعدد سطحوں اور شراکت داروں پر مشتمل نیا علاقائی سکیورٹی نیٹ ورک لے رہا ہو۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net