مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور ایران کی خاموشی نے ایک نیا سفارتی اور سکیورٹی بحران پیدا کر دیا ہے۔
مضمون میں یمن، ایران، امارات، امریکہ اور اسرائیل کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا مکہ معاہدہ عملی صورت اختیار کرے گا یا خطے کے ممالک جنگ سے پہلے سفارتی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی تو سعودی عرب کی مشرق–مغرب تیل پائپ لائن ایک اہم متبادل بن گئی۔
یہ ملک کے مشرقی علاقوں سے تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچاتی ہے۔
لیکن اب اسی پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کے قریب جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھا دیئے ہیں۔
اس طرح مسئلہ صرف ایک غیر محفوظ سمندری راستے کا متبادل ڈھونڈنے کا نہیں رہا۔
سعودی عرب کو اب اس متبادل راستے کی بھی حفاظت کرنا ہے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب اسے کئی سمتوں سے خطرات کا سامنا ہے۔
✓OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSپانچ اہم نکات⌄
- 1سعودی عرب نے حملے کے بعد مشرق–مغرب پائپ لائن احتیاطاً بند کی۔
- 2سعودی بیان کے مطابق حملہ کرنے والی مسیّرات عراق سے آئیں؛ حملہ آور گروہ کی حتمی شناخت سامنے نہیں آئی۔
- 3حوثیوں کی پیش قدمی سے باب المندب کے قریب خطرہ بڑھا، مگر آبنائے مکمل بند ہونے کی تصدیق نہیں۔
- 4ریاض نے عراقی حکومت کو اقدامات کا موقع دیتے ہوئے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا۔
- 5پاکستان نے کہا کہ 10 ستمبر کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوجی جواب زیرِ بحث نہیں تھا۔
یہ معاملہ صرف تیل کی تنصیبات یا تجارتی جہازوں تک محدود نہیں۔
سعودی حکام کے مطابق جازان میں ایک گولہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے اور ایک مسجد سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
سعودی حکام نے اس کا ذمہ دار حوثیوں کو ٹھہرایا۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثیوں نے نجران کے علاقے شرورہ میں ایک فوجی اڈے سمیت سعودی عرب پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا، تاہم اس مخصوص دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کئے۔
مزید پڑھیں
فیصلہ کرنے کی گنجائش کم ہو رہی ہے؟
رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں خلل کے دوران مشرق–مغرب پائپ لائن روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کر رہی تھی۔
حملے کے بعد سعودی عرب نے احتیاطاً اس کا آپریشن روک دیا تاکہ متعلقہ ٹیمیں اس کی سلامتی کی جانچ کر سکیں۔
ادھر یمن کے ساحل پر حوثیوں نے بندرگاہ المخا اور باب المندب میں واقع
جزیرۂ میون پر قبضے کے بعد اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جیسا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
اس سے انہیں جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی زیادہ صلاحیت مل سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ باب المندب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔
◆OVERSEAS POST | SUMMARYخبر کا خلاصہ⌄
آبنائے ہرمز میں خلل کے بعد مشرق–مغرب تیل پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اہم متبادل بنی؛ اب اس پائپ لائن پر حملہ اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی ایک ساتھ دباؤ بڑھا رہی ہے۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔
سعودی عرب کے بحیرۂ احمر والے ساحل سے تیل لے جانے والے جہاز مصر اور یورپ کی طرف شمال میں جا سکتے ہیں، جبکہ ایشیائی منڈیوں کے لیے جنوب جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔
اس لیے حوثیوں کی پیش قدمی سعودی تیل کی تمام برآمدات نہیں روکتی، مگر ایک اہم راستے پر دباؤ ضرور بڑھاتی ہے۔
پہلا راستہ: فوجی جواب
ریاض اپنے فضائی اور بحری دفاع کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، یمنی حکومت کی افواج کو کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے میں مدد دے سکتا ہے، یا خطرے کے ذرائع کے خلاف محدود کارروائی کر سکتا ہے۔
اس راستے کا ممکنہ فائدہ یہ ہوگا کہ سعودی شہروں اور تنصیبات پر حملوں کی قیمت بڑھ جائے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس⌄
لیکن فوجی جواب سے خطرہ ختم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔
یمن میں برسوں کی لڑائی دکھا چکی ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی کو پائیدار سیاسی حل میں بدلنا آسان نہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا کہ کارروائیوں میں اضافہ سعودی تیل تنصیبات پر مزید حملوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ایک اور وسیع جنگ کی انسانی قیمت بھی ہوگی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جولائی سے لڑائی بڑھنے کے بعد یمن میں کم از کم 76 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔
کسی نئے فوجی فیصلے کا جائزہ لیتے وقت اس نقصان کو بھی حساب میں رکھنا ہوگا۔
دوسرا راستہ: بغداد اور سفارت کاری کو موقع
پائپ لائن پر حملے کے بعد سعودی عرب نے فوری جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق حملہ کرنے والے ڈرون عراق سے آئے تھے، لیکن عراقی وزیرِ اعظم کی درخواست پر ریاض نے ان کی حکومت کو ایسے حملے روکنے کے لیے اقدامات کا موقع دیا۔
ساتھ ہی سعودی عرب نے اپنی سلامتی، شہریوں، مقیم افراد اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھا۔
3OVERSEAS POST | OPTIONSریاض کے سامنے تین راستے⌄
- 1فوجی جواب: حملے کی قیمت بڑھا سکتا ہے؛ وسیع جنگ اور مزید جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
- 2بغداد اور سفارت کاری: نیا محاذ روک سکتی ہے؛ کامیابی عراقی اقدامات اور سمندری مذاکرات پر منحصر ہے۔
- 3شراکت داروں کی مدد: انٹیلی جنس اور دفاع مضبوط ہو سکتا ہے؛ براہِ راست امریکی مداخلت کا اعلان نہیں ہوا۔
اس فیصلے کا فائدہ یہ ہے کہ عراق کو اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی روک تھام کی ذمہ داری ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ فوری طور پر دو ملکوں کے درمیان نئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی۔
تاہم اصل امتحان بیانات یا تحقیقات نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آیا بغداد دوبارہ حملہ ہونے سے روک پاتا ہے۔
سمندری محاذ پر بھی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام پر عُمان میں ایک اجلاس متوقع ہے، مگر فوری پیش رفت یقینی نہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اس اجلاس سے کسی دستخط شدہ معاہدے کی توقع کم ظاہر کی ہے۔ اس لیے سفارت کاری کشیدگی کم کرنے کے لیے وقت دے سکتی ہے، لیکن فی الحال معمول کی جہاز رانی کی فوری ضمانت نہیں۔
تیسرا راستہ: شراکت داروں سے زیادہ مدد
سعودی عرب اپنے شراکت داروں سے زیادہ انٹیلی جنس معلومات، دفاعی نظام اور سمندری تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
مگر اس معاملے میں سب سے اہم سوال امریکی مدد کی حد ہے۔
↔OVERSEAS POST | GEOGRAPHYدو آبنائیں، ایک پائپ لائن⌄
ہرمز میں خلل سے سعودی تیل کی مغرب کی طرف منتقلی کی اہمیت بڑھی۔ باب المندب بحیرۂ احمر سے جنوب میں ایشیا کی سمت جانے والے بعض جہازوں کے لیے اہم ہے۔
رائٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجی مدد طلب کی۔
ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ولی عہد سے بات ہونے کی تصدیق کی، لیکن براہِ راست مداخلت کا اعلان نہیں کیا۔
شراکت داروں کی مدد سعودی دفاع کو مضبوط بنا سکتی ہے، مگر یہ خودبخود جنگ یا امن کا فیصلہ نہیں کرتی۔ حملوں کی نشان دہی اور انہیں روکنے میں مدد دینا ایک بات ہے، امریکی افواج کا حوثیوں کے خلاف براہِ راست لڑائی میں شریک ہونا دوسری بات۔
اس معاملے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وابستگی اہم ہے، لیکن وہ ایران کے ساتھ بات چیت کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے 10 ستمبر کو کہا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کوئی فوجی جواب اس وقت زیرِ بحث نہیں۔
انہوں نے معاہدے سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا، مگر کسی ممکنہ مدد کی نوعیت نہیں بتائی جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔
?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا ثابت ہے، کیا نہیں؟⌄
- ✓سعودی حکومت نے پائپ لائن پر حملے، انسانی زخمیوں اور احتیاطی بندش کی تصدیق کی۔
- ✓سعودی دفاعی حکام کے مطابق جازان میں مقذوف سے دو افراد زخمی ہوئے۔
- ?شرورہ میں اڈے پر حملے کی تفصیلات حوثیوں کا دعویٰ ہیں؛ انہوں نے ثبوت پیش نہیں کیا۔
- ?باب المندب کے مکمل بند ہونے کی تصدیق نہیں۔
- ?پاکستان یا امریکہ کی براہِ راست جنگ میں شمولیت کا اعلان نہیں ہوا۔
رائٹرز کے تجزیے کے مطابق بحران یہ آزمائش بن گیا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار اور تہران تک پیغام پہنچانے والے ملک، دونوں کردار کس حد تک ساتھ نبھا سکتا ہے۔ اگر پاکستان سے مزید مدد مانگی جاتی ہے تو اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ معاہدہ فعال ہوتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ مدد کی شکل اور حد کیا ہوگی؟
سعودی سرزمین کے دفاع میں مدد اور یمن کے اندر جنگ میں داخل ہونا دو مختلف فیصلے ہیں۔
اب کس بات پر نظر رکھی جائے؟
سعودی عرب نے اپنے اعلانیہ مؤقف میں دفاع کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے عراقی کوششوں کو موقع دیا ہے۔
اگلا رخ 3 باتوں سے واضح ہوگا: کیا عراق اپنی سرزمین سے نئے حملے روک پاتا ہے؟
کیا باب المندب کے قریب جہاز رانی محفوظ رہتی ہے؟
اور کیا عُمان کے اجلاس سے ہرمز کے بارے میں کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے؟
PKOVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کے لیے کیا معنی؟⌄
اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار ہے، دوسری طرف ایران سے سفارتی رابطہ بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ 10 ستمبر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ فوجی جواب اس وقت زیرِ بحث نہیں۔
اگر ان محاذوں پر بہتری آئی تو جنگ پھیلائے بغیر سعودی مفادات کے تحفظ کی گنجائش بڑھے گی۔ لیکن شہروں، تیل تنصیبات یا جہازوں پر حملے جاری رہے تو ریاض پر سخت جواب کا دباؤ بھی بڑھے گا۔
سعودی عرب کے سامنے یہی بنیادی مشکل ہے: حملہ آوروں کے لیے مزید حملے مشکل بنانا، اور ساتھ ہی پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کی قیمت سے بچانا۔