حرمین شریفین کی تاریخ میں ’اغوات‘ ایک منفرد اور پراسرار باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ میں خدمات انجام دینے والے یہ خدام اپنے مخصوص لباس، درجہ بندی، نظم و ضبط اور طرزِ زندگی کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے۔
تاریخی روایات ان کی خدمت کا سلسلہ ابتدائی اسلامی ادوار اور بعد میں صلاح الدین ایوبی کے زمانے سے جوڑتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کے فرائض، لباس اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی آتی رہی، تاہم روضۂ رسولﷺ اور حرمین شریفین کی خدمت ان کی شناخت کا بنیادی حصہ رہی۔
1/2
’اغوات‘ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی خدمت کیلئے خود کو وقف کر دینے والے باکمال، خوش خصال اور مشک افشاں لوگ ہیں۔
ان کی اپنی ایک تاریخ، تہذیب اور قاعدے قانون ہیں۔
اغوات کی تاریخ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے دور سے شروع ہوتی ہے۔
وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے خانہ کعبہ کیلئے خدام مقرر کئے تھے۔
یزید بن معاویہ پہلے امیر ہیں جنہوں نے خانہ کعبہ کی خدمت کیلئے ایسے خدام مقرر کئے تھے جو نامرد تھے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاغوات الحرمین — اہم نکات ⌄
- ✓
’’اغوات‘‘ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی خدمت سے وابستہ مخصوص خدام کو کہا جاتا تھا۔
- ✓
تاریخی روایت خانہ کعبہ کیلئے خدام مقرر کرنے کا سلسلہ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے دور سے جوڑتی ہے۔
- ✓
مسجد نبوی ﷺ میں اغوات کی خدمت کو صلاح الدین ایوبی کے عہد سے منسوب کیا گیا ہے۔
- ✓
ان کا لباس، رہن سہن اور داخلی ضابطہ عام خدام سے مختلف اور انتہائی مخصوص تھا۔
- ✓
مسجد نبوی ﷺ میں ان کیلئے مخصوص مقام ’’دکۃ الاغوات‘‘ کے نام سے معروف رہا۔
- ✓
متن کے مطابق مدینہ منورہ میں بعد کے دور میں صرف 10 اغوات باقی رہ گئے تھے۔
معروف مؤرخ نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ مسجد الحرام میں اغوات کی درجہ بندی کرنے والی پہلی شخصیت ابو جعفر المنصور کی ہے۔
جہاں تک مسجد نبوی شریف کے اغوات کا تعلق ہے تو ان کی تاریخ ملک الناصر صلاح الدین بن ایوب کے عہد سے شروع ہوتی ہے۔
وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مسجد نبوی شریف کی خدمت کیلئے اغوات تعینات کئے تھے۔
ہر دور میں اغوات کا لباس منفرد رہا ہے۔
معروف سیاح ابن بطوطہ نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’اغوات خوش اطوار ہوتے ہیں۔ ان کے ملبوسات دلچسپ انداز کے ہوتے ہیں۔
اغوات کے سردار کو شیخ الحرم کہا جاتا ہے جو اعلیٰ درجے کی امیر ترین شخصیات کے انداز میں رہتا سہتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں اغوات استنبول والے جبہ پہنا کرتے تھے۔
ان کی پوشاک خوب کشادہ ہوتی، پھول پتیاں کڑھی ہوتی تھیں۔
اغوات بیلٹ باندھا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ میں چھڑی لے کر چلتے تھے۔
سروں پر مخصوص قسم کا کپڑا استعمال کیا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ سلطان سلیمان قانونی نے اغوات کیلئے اس انداز کی شکل
و صورت مقرر کی تھی۔
ان دنوں اغوات لباس کے طور پر ایک چادر استعمال کرتے ہیں جسے ’الرجبیہ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ لوگ ایک چادر اپنے کندھے پر رکھتے ہیں جسے ’حزام‘ کہتے ہیں۔
یہ لوگ سر پر ایک مخصوص پوشاک رکھتے ہیں جسے ’القادوق‘ کہا جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں اغوات اپنی پوشاک کے سلسلے میں بڑے سخت ہوا کرتے تھے۔
اغوات کو آغا بھی کہا جاتا ہے۔ آغا غیر عربی لفظ ہے۔ یہ ترکی، کردی اور فارسی زبانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
کردی اپنے شیوخ اور بزرگوں کو آغا کہتے ہیں۔
ترک سردار اور سربراہ کیلئے آغا کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ فارسی میں آغا خاندان کے سربراہ کیلئے بولا جاتا ہے۔
سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں آغا شیخ یا آقا، زمیندار یا گھریلو خدمت پر مامورین کے سربراہ کیلئے بولا جاتا رہا ہے۔
فوجی مناصب پر فائز بہت سارے عہدیداروں کو آغا کے لقب سے پکارا جاتا رہا ہے۔
آغا کا لفظ محل کے نامرد خدام کیلئے بھی استعمال رہا ہے۔
مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کی خدمت پر مامور لوگوں کیلئے آغا کا لفظ مختص ہے۔
◎ OVERSEAS POST | EXPLAINERاغوات کون تھے؟ ⌄
اغوات ایسے مخصوص خدام تھے جو اپنی زندگی حرمین شریفین کی خدمت کیلئے وقف رکھتے تھے۔ ان کی اپنی درجہ بندی، مخصوص پوشاک، آداب اور خدمت کے قواعد تھے۔
قدیم زمانے میں آغا ایسا کرتا نہیں پہنتے تھے جس کی گردن کے بٹن کھلے ہوئے ہوں۔
اگر کوئی ایسا کرتا تو اسے زدوکوب کیا جاتا تھا۔
آغا حضرات گھڑی یا انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
یہ لوگ چھتری استعمال نہیں کرتے تھے۔
عصر حاضر میں ان کا لباس اتنا ہے جتنا اوپر بیان کیا گیا ہے۔
اغوات کئی درجے کے ہوتے ہیں۔
یہ لوگ مختلف علاقوں سے پہنچائے جاتے ہیں۔
یہ علامات ان کی پوشاک میں موجود ہوتی ہیں۔
ماضی قریب تک مدینہ منورہ میں صرف 10 اغوات بچے تھے۔
یہ لوگ اپنے آپ کو حرمین شریفین کی خدمت کیلئے نذر کئے ہوئے تھے۔
اغوات ایک گتھی ہیں جسے سلجھانے کے مشتاق بے شمار ہیں۔
↝ OVERSEAS POST | TIMELINEتاریخی سلسلہ — ایک نظر میں ⌄
متن کے مطابق خانہ کعبہ کیلئے خدام مقرر کرنے کا سلسلہ حضرت معاویہؓ کے دور سے جوڑا جاتا ہے۔
حضرت یزید بن معاویہ کے زمانے سے مخصوص خدام کے ذکر کی روایت ملتی ہے۔
مسجد الحرام میں اغوات کی درجہ بندی ابو جعفر المنصور سے منسوب کی گئی ہے۔
مسجد نبوی ﷺ کے اغوات کی تاریخ ملک الناصر صلاح الدین بن ایوب کے عہد سے جوڑی گئی ہے۔
مسجد نبوی شریف اور اس کے روحانی ماحول نے اغوات کو وقار اور فراست کا مرتبہ دے رکھا ہے۔
یہ لوگ روضہ رسولﷺ کے احترام میں بہت کم گفتگو کرتے ہیں۔
مسجد نبوی شریف میں ان کیلئے ایک مخصوص جگہ آج بھی موجود ہے جسے ’دکۃ الاغوات‘ کہا جاتا ہے۔
✦ OVERSEAS POST | HERITAGEاغوات کا مخصوص لباس ⌄
- •
عثمانی عہد میں کشادہ جبہ، بیلٹ، مخصوص سرپوش اور ہاتھ میں چھڑی ان کی پہچان کا حصہ تھے۔
- •
متن میں ’’الرجبیہ‘‘ نامی چادر، ’’حزام‘‘ اور ’’القادوق‘‘ جیسے ملبوساتی نام بھی درج ہیں۔
- •
پوشاک کے اصول سخت تھے اور لباس کو ان کی شناخت اور مرتبے سے جوڑا جاتا تھا۔
یہ جگہ مسجد نبوی شریف کے ایک گوشے میں ہے۔
وہاں یہ سفید عبائے، رنگین شال اور سر پر بیلٹ باندھے ہوئے بیٹھے نظر آتے تھے۔
جو ہی انہیں خدمت کیلئے طلب کیا جاتا ہے فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
بعض روایات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اغوات‘ کا رواج حبشی قبائل کے یہاں سے شروع ہوا ہے۔ یہ قبائل اپنی اولاد کو کم عمری میں نامرد بنا دیتے اور انہیں حرمین شریفین کی خدمت کیلئے وقف کر دیا کرتے تھے۔
نئے اغوات حرمین شریفین کے کارکنان کی مدد سے تلاش کئے جاتے تھے۔
A OVERSEAS POST | LANGUAGE’آغا‘ لفظ کہاں سے آیا؟ ⌄
’’آغا‘‘ عربی لفظ نہیں۔ متن کے مطابق یہ ترکی، کردی اور فارسی زبانوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
شیخ یا بزرگ کیلئے
سردار یا سربراہ کیلئے
خاندان یا گھر کے سربراہ کیلئے
مخصوص خدام کیلئے
حرمین شریفین کے کارکن جب بھی حبشہ جاتے تو انہیں ’آغا‘ والی خصوصیات کے حامل افراد تلاش کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی تھی۔
جب ان میں سے کسی ایک کو مطلوب شخص مل جاتا تو وہ اس کی اطلاع شیخ الاغوات کو دیتا اور وہ حرمین شریفین میں خدمت کیلئے رسمی تقرری کی خاطر اس کی درخواست حکام کو پیش کر دیتا۔
⌂ OVERSEAS POST | MADINAHدکۃ الاغوات کیا تھی؟ ⌄
مسجد نبوی ﷺ میں اغوات کیلئے ایک مخصوص جگہ تھی جسے ’’دکۃ الاغوات‘‘ کہا جاتا تھا۔
اغوات حرمین شریفین میں صفائی، نظم و ضبط اور خواتین و مردوں کو الگ الگ کرنے کے کام پر مامور تھے۔
اسی طرح جب مسجد نبوی شریف بند کی جاتی تو اغوات ہی خواتین کو مسجد سے نکالنے کی ذمہ داری انجام دیتے تھے۔
جاری ہے