اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

جب مسجد الحرام کو 1422 قندیلوں سے روشن کیا جاتا تھا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مسجد الحرام 1422 قندیلیں

مسجد الحرام میں روشنی کا نظام ایک دور میں تیل کے چراغوں، قندیلوں اور شمعدانوں پر مشتمل تھا، جہاں تقریباً 1422 قندیلیں حرمِ مکی کو روشن کرتی تھیں۔
بعد ازاں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ کے عہد میں جدید برقی نظام متعارف ہوا، جس نے مسجد الحرام کی خدمت اور زائرین کی سہولت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

بانی مملکت شاہ عبد العزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ کے عہد میں مسجد الحرام کے نظامِ روشنی نے ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ 

یہ وہ تاریخی مرحلہ تھا جب روایتی چراغوں اور قندیلوں کی مدھم روشنی سے نکل کر حرمِ مکی جدید برقی روشنیوں سے جگمگانے لگا اور یوں حرمین شریفین کی خدمت و نگہداشت کے ایک روشن باب کا آغاز ہوا۔

اس دور کے ابتدائی زمانے میں مسجد الحرام کی روشنی زیادہ تر مطاف کے گرد محدود تھی، جہاں تیل کے چراغ، شمعیں اور فانوس روشنی کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ 

حرم کے صحن میں دھاتی ستون نصب تھے، جن کے اوپر کھجور کے درختوں کی شکل میں دیدہ زیب تانبے کے نقش و نگار بنائے گئے تھے، جن کی شاخوں سے قندیلیں آویزاں رہتی تھیں۔

مزید پڑھیں

برآمدوں کے ستونوں کے درمیان لوہے کی سلاخیں نصب کی گئی تھیں تاکہ چراغ لٹکائے جا سکیں۔ 

اُس زمانے میں مسجد الحرام میں تقریباً 1422 قندیلیں روشن ہوتی تھیں، جب کہ میناروں کی روشنی اس کے علاوہ تھی۔ چاروں فقہی مقامات پر پیتل کے شمعدانوں سے اجالا کیا جاتا تھا، جبکہ خانہ کعبہ کے دروازے کو سفید دھات کے خوبصورت شمعدان سے منور کیا جاتا تھا۔

مملکت کے قیام سے قبل مسجد الحرام میں بجلی کے محدود استعمال کا آغاز ہو چکا تھا۔ 

چند مقامات پر برقی روشنی کا انتظام موجود تھا اور مطاف کے بعض حصوں میں بجلی سے چراغ روشن کیے جاتے تھے۔ 

Untitled 10
مسجد الحرام میں ایک دور میں 1422 قندیلیں روشنی کا بنیادی ذریعہ تھیں (فوٹو: واس)

اس مقصد کے لیے تقریباً 3 کلوواٹ صلاحیت کا ایک چھوٹا برقی جنریٹر استعمال کیا جاتا تھا، جو مدرسہ اُم ہانی کے قریب نصب تھا، جبکہ اجیاد کے علاقے میں ایک برقی مرکز بھی قائم تھا، جسے اُس دور میں الفرن المیری کہا جاتا تھا۔

تاہم جب شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مسجد الحرام کی منظم خدمت اور ترقی کا آغاز کیا تو روشنی کے نظام کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ 

شعبان 1347 ہجری میں حکم جاری ہوا کہ تمام چراغ نئے سرے سے نصب کیے جائیں اور ان کی تعداد 300 سے بڑھا کر تقریباً 1000 کر دی جائے تاکہ مطاف، برآمدوں اور داخلی راستوں کو مکمل طور پر روشن کیا جا سکے۔ 

مزید برآں 30 طاقتور روشن دان بھی نصب کیے گئے، یہاں تک کہ اسی سال ماہِ رمضان تک پورا مسجد الحرام بجلی کی روشنی سے جگمگانے لگا۔

65465465 2
مطاف اور برآمدوں میں تیل کے چراغ، شمعیں اور پیتل کے شمعدان استعمال ہوتے تھے ( فوٹو: واس)

یہ نظام ایک منظم ترتیب کے تحت چلایا جاتا تھا، جہاں بڑے اور چھوٹے جنریٹر مختلف اوقات میں ضرورت کے مطابق استعمال ہوتے، رات کے اوقات سے لے کر فجر تک روشنی کا اہتمام کیا جاتا، جبکہ رمضان المبارک سے ذی الحجہ کے اختتام تک بعض اوقات دن کے وقت بھی مکمل برقی نظام فعال رکھا جاتا تھا۔

1349 ہجری میں شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مزید ترقی کے لیے 13 ہارس پاور کا نیا برقی جنریٹر منگوایا، جس سے روشنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ 

اسی دور میں حجرِ اسماعیل کے اطراف نئے شمعدان نصب کیے گئے اور حرم کے صحن میں درختوں کی طرز پر سیمنٹ کے خوبصورت ستون تعمیر کیے گئے، جن پر برقی قمقمے آویزاں کیے گئے۔

64654564 1
شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے روشنی کے نظام کو جدید بنانے پر خصوصی توجہ دی ( فوٹو: واس)

ترقی کا یہ سفر مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ 

1355 ہجری میں اخبار اُم القریٰ نے خبر دی کہ شاہ عبدالعزیز نے جدید ’کروسلی‘ کمپنی کا تیار کردہ برقی جنریٹر بطور تحفہ عطا کیا، جبکہ مسجد الحرام کے برآمدوں میں سنگِ مرمر کے ستون قائم کیے گئے، جن پر روشنی کے جدید یونٹ نصب کیے گئے۔

پھر 1369 ہجری میں مکہ مکرمہ الیکٹرک کمپنی کے قیام کا فرمان جاری ہوا، جسے مسجد الحرام اور مقدس شہر کو بجلی فراہم کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 

اس اقدام نے بکھرے ہوئے جنریٹرز کے نظام کو ایک مرکزی اور منظم ڈھانچے میں بدل دیا۔ 

بعد ازاں 1373 ہجری کے آغاز میں تنعیم کے مقام پر مرکزی بجلی گھر کا افتتاح ہوا، اور یوں مسجد الحرام میں جدید برقی روشنی کے ایک نئے اور مکمل دور کا آغاز ہوا۔

465465465 3
1355 ہجری میں اخبار اُم القریٰ کے صفحے کا عکس ( فوٹو: واس)

یہ تمام پیش رفت اس عظیم خدمت کے تسلسل کا حصہ تھی جو سعودی ریاست نے حرمین شریفین کی دیکھ بھال، سہولیات کی بہتری اور لاکھوں زائرین کی خدمت کے لیے انجام دی۔ قندیلوں کی مدھم روشنی سے جدید برقی نظام تک کا یہ سفر، مسجد الحرام کی تاریخ میں ایک شاندار تہذیبی، فنی اور تمدنی ارتقا کی روشن علامت بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔