عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج عین دوپہر کے وقت خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔
یہ منفرد لمحہ قمری اور شمسی نظام کے نایاب امتزاج کے باعث پیدا ہو رہا ہے، جو ماہرین کے مطابق کئی دہائیوں بعد دوبارہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔
ایک غیر معمولی فلکیاتی مظہر، جو طویل زمانی ادوار کے بعد دوبارہ وقوع پذیر ہوتا ہے، سال رواں 2026 میں عالم اسلام کو ایک منفرد منظر کا مشاہدہ کرائے گا، جہاں ’انتہائی مقدس اور بابرکت وقت‘ یعنی حج کا زمانہ اور ’مقام کی درستگی‘ یعنی خانہ کعبہ کی درست سمت کا تعین ایک تاریخی لمحے میں یکجا ہوں گے۔
اس موقع پر ہجری اور شمسی کیلنڈر ایک ایسے فلکیاتی لمحے میں ہم آہنگ ہوں گے جو کائناتی حسابات کی عظمت اور مذہبی مناسک کے ساتھ ان کے حیرت انگیز ربط کو نمایاں کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
بدھ، 27 مئی 2026، ایک عام دن نہیں ہوگا بلکہ وہ دن ہوگا جب سورج دوپہر کے وقت مکہ مکرمہ کے آسمان کے وسط میں خانہ کعبہ کے عین اوپر بالکل سیدھا ہوگا اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب دنیا بھر میں مسلمان عیدالاضحیٰ کی تکبیریں بلند کر رہے ہوں گے اور مسجد الحرام میں اذانِ ظہر دی جا رہی ہوگی۔
اس حیرت انگیز اتفاق کی بنیاد شمسی اور قمری سال کے فرق میں
پوشیدہ ہے۔
شمسی سال تقریباً 365.24 دن جبکہ قمری سال 354.36 دن پر مشتمل ہوتا ہے۔
تقریباً 10.8 دن سالانہ کا یہی فرق اسلامی مواقع اور مہینوں کو مختلف موسموں میں گردش کراتا رہتا ہے۔
اسی وجہ سے رمضان کبھی سردیوں میں آتا ہے تو کبھی گرمیوں میں۔
ہجری کیلنڈر کو شمسی سال کے اسی مقام پر واپس پہنچنے کے لیے تقریباً 33 سال درکار ہوتے ہیں۔
جب سائے غائب ہو جاتے ہیں
سورج سال میں دو مرتبہ، 27 مئی اور 15 جولائی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر آتا ہے، جب سورج کا زاویہ مکہ مکرمہ کے عرض البلد کے برابر ہو جاتا ہے۔
تعامد (یعنی سورج کا عمودی شکل میں کعبے کے اوپر آنا) کے لمحے، جو مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر ہوگا، خانہ کعبہ کا سایہ مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے اور اسی وقت دنیا کے کسی بھی ایسے مقام سے جہاں سورج نظر آ رہا ہو، قبلے کی سمت درست طور پر معلوم کی جا سکتی ہے۔
یہ فلکیاتی مظہر صرف ان علاقوں میں رونما ہوتا ہے جو مدارِ سرطان اور مدارِ جدی کے درمیان واقع ہیں۔
زمین کے محور کے تقریباً 23.5 درجے جھکاؤ اور سورج کے گرد گردش کے باعث سورج سال میں دو مرتبہ ان خطوں کے عین اوپر آتا ہے۔
بہار میں شمال کی جانب اور خزاں میں جنوب کی جانب سورج کی ظاہری حرکت اس مظہر کو جنم دیتی ہے تاہم مدارِ سرطان اور مدارِ جدی پر واقع شہروں میں یہ تعامد صرف ایک بار ہوتا ہے، جبکہ ان حدود سے باہر کے علاقوں میں یہ منظر کبھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔
2026 ’سنہری سال‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
ماہرین فلکیات کے مطابق ذوالحجہ کا مئی کے مہینے میں ہر 33 سال بعد واپس آ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ دونوں واقعات مکمل طور پر ایک ہی دن جمع ہو جائیں۔
1993 کے دور میں سورج کا تعامد عیدالاضحیٰ سے 4 دن پہلے آیا تھا، جبکہ 2059 میں یہ 4 دن بعد ہوگا۔
لیکن 27 مئی 2026 میں ایک غیر معمولی فلکیاتی ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے، جہاں عیدالاضحیٰ یا بعض علاقوں میں چاند کی رویت کے فرق کے باعث یوم عرفہ، سورج کے تعامد کے اسی مخصوص وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے گا۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سورج کے تعامد اور عیدالاضحیٰ کا یہ مکمل ملاپ کوئی معمول کی دورانی گردش نہیں بلکہ قمری اور شمسی نظام کے باریک زمانی فرقوں کے ایسے امتزاج کا نتیجہ ہے، جو تقریباً ہر 65 سے 100 سال بعد اس درجے کی درستگی کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے۔
یہ ایک نایاب فلکیاتی لمحہ ہوگا، جہاں زمین کا مرکزِ روحانیت (خانہ کعبہ)، روشنی کا منبع (سورج) اور قمری عبادتی نظام (حج) ایک سیدھ میں جمع ہوں گے اور یوں 2026 کا یہ دن فلکیات دانوں اور مسلمانوں دونوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش یادگار لمحہ بن جائے گا۔