اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ایران کشیدگی، مہنگائی کا خوف، منڈیاں دباؤ میں، گولڈ بھی گر گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی منڈیاں
ٹرمپ کی نئی دھمکیوں، مشرق وسطیٰ کشیدگی اور شرح سود کے خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط

ایران سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے باوجود عالمی مالیاتی منڈیوں میں دباؤ برقرار رہا۔
تیل اور سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کار جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات، بڑھتی مہنگائی، شرح سود اور توانائی سپلائی کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی بانڈز، ڈالر اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاری ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔

جس وقت یہ سطور لکھی جارہی تھیں، گولڈ کی قیمت ہفتہ وار کم ترین سطح پر تھی۔

گولڈ اس لمحے 4478 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا جبکہ آج کے دن اس نے 4453 کی بھی لو لگائی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کی نئی دھمکیوں کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار ممکنہ فوجی تصادم کے بجائے جنگ کے معاشی اثرات، بڑھتی مہنگائی اور شرح سود کے مستقبل پر زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے نئی خریداری سے گریز کیا۔ 

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ ماضی میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور بعد ازاں ان میں نرمی کے باعث مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ 

ChatGPT Image 20 مايو 2026، 12 30 58 م
اسپاٹ مارکیٹ میں گولڈ کا چارٹ

اسی دوران گولڈ اور عالمی حصص بازاروں پر بھی دباؤ بڑھا کیونکہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی بحران مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں، جس سے امریکی مرکزی بینک ’فیڈرل ریزرو‘ کے لیے شرح سود میں کمی کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

یہ خدشات اس وقت مزید گہرے ہوئے جب امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 

توانائی کی بڑھتی قیمتیں، امریکی بجٹ خسارے پر تشویش اور معیشت کی مضبوطی کے اشارے مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

اسی ماحول میں امریکی فیڈرل ریزرو کی ممکنہ قیادت کے امیدوار کیون وارش بھی ابتدائی چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ ایک طرف وائٹ ہاؤس 

شرح سود میں کمی چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب مرکزی بینک کے اندر مہنگائی کے باعث فوری نرمی کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ 

تیل کی قیمتوں میں کمی، مگر خدشات برقرار

عالمی مارکیٹوں میں دباؤ کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار ایران کے حوالے سے امریکی بیانات کا جائزہ لیتے رہے۔ 

برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل تقریباً 104 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ 

برینٹ خام تیل
111 ڈالر سے
نیچے جبکہ
امریکی خام تیل
104 ڈالر کے
قریب آ گیا

ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بھی مسلسل چوتھے روز دباؤ کا شکار رہیں۔
بدھ کے ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 110.23 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، جبکہ امریکی خام تیل 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 103.08 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت مزید بڑھا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی تصادم دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کسی سیاسی مفاہمت یا امن معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی تیل مارکیٹ پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ 

مشرق وسطیٰ کشیدگی تیل قیمتیں عالمی منڈی
آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ توانائی سپلائی سے متعلق خدشات برقرار ہیں

 مالیاتی ادارے بھی توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ سپلائی خطرات کے باعث تیل کی قیمتیں آئندہ عرصے میں بلند رہ سکتی ہیں، چاہے سیاسی سمجھوتہ ہو بھی جائے۔

سونے میں کمی، ڈالر مضبوط

توانائی بحران اور شرح سود کے خدشات نے قیمتی دھاتوں کو بھی متاثر کیا۔ 

امریکی ڈالر اور بانڈز کی پیداوار میں اضافے کے باعث سونے کی کشش بطور محفوظ سرمایہ کاری کم ہوئی۔ 

اسپاٹ گولڈ میں 0.35 فیصد جبکہ امریکی فیوچر گولڈ میں تقریباً 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی۔ 

چاندی اور پلاٹینم کی قیمتوں میں بھی کمی آئی جبکہ پیلیڈیم میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

closeup shot of shiny gold bars and financial conc 2026 01 07 07 20 24 utc
سونے کی قیمتوں میں کمی، مضبوط ڈالر اور بلند بانڈز پیداوار نے دباؤ بڑھایا

دوسری جانب امریکی ڈالر 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، کیونکہ سرمایہ کار یہ توقع کر رہے ہیں کہ مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے امریکی مرکزی بینک آئندہ مہینوں میں سخت مالیاتی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔ 

امریکی ڈالر انڈیکس میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جاپانی ین دوبارہ ان سطحوں کے قریب پہنچ گیا جہاں جاپانی حکام ماضی میں مارکیٹ میں مداخلت کر چکے ہیں۔ 

عالمی منڈیاں اب بھی سیاسی مذاکرات، جنگی خطرات، توانائی بحران اور شرح سود سے متعلق خدشات کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، اور سرمایہ کار آنے والے دنوں میں نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔