ایران سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے باوجود عالمی مالیاتی منڈیوں میں دباؤ برقرار رہا۔
تیل اور سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کار جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات، بڑھتی مہنگائی، شرح سود اور توانائی سپلائی کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی بانڈز، ڈالر اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاری ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔
برینٹ خام تیل
111 ڈالر سے
نیچے جبکہ
امریکی خام تیل
104 ڈالر کے
قریب آ گیا
ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بھی مسلسل چوتھے روز دباؤ کا شکار رہیں۔
بدھ کے ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 110.23 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، جبکہ امریکی خام تیل 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 103.08 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت مزید بڑھا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی تصادم دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کسی سیاسی مفاہمت یا امن معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی تیل مارکیٹ پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مالیاتی ادارے بھی توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ سپلائی خطرات کے باعث تیل کی قیمتیں آئندہ عرصے میں بلند رہ سکتی ہیں، چاہے سیاسی سمجھوتہ ہو بھی جائے۔
سونے میں کمی، ڈالر مضبوط
توانائی بحران اور شرح سود کے خدشات نے قیمتی دھاتوں کو بھی متاثر کیا۔
امریکی ڈالر اور بانڈز کی پیداوار میں اضافے کے باعث سونے کی کشش بطور محفوظ سرمایہ کاری کم ہوئی۔
اسپاٹ گولڈ میں 0.35 فیصد جبکہ امریکی فیوچر گولڈ میں تقریباً 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی۔
چاندی اور پلاٹینم کی قیمتوں میں بھی کمی آئی جبکہ پیلیڈیم میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی ڈالر 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، کیونکہ سرمایہ کار یہ توقع کر رہے ہیں کہ مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے امریکی مرکزی بینک آئندہ مہینوں میں سخت مالیاتی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی ڈالر انڈیکس میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جاپانی ین دوبارہ ان سطحوں کے قریب پہنچ گیا جہاں جاپانی حکام ماضی میں مارکیٹ میں مداخلت کر چکے ہیں۔
عالمی منڈیاں اب بھی سیاسی مذاکرات، جنگی خطرات، توانائی بحران اور شرح سود سے متعلق خدشات کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، اور سرمایہ کار آنے والے دنوں میں نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔