اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شیئرز میں بڑے بحران کا خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
وال اسٹریٹ اسٹاک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت کے شیئرز میں بحران کا گراف اور معاشی اتار چڑھاؤ کا خاکہ
امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس، بالخصوص سیمی کنڈکٹرز اب ممکنہ خدشات کی زد میں ہیں، بینک آف امریکہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے حصص کی اونچی پرواز کے بعد اب مالیاتی بحران کے خدشات زور پکڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق سرمایہ کار اپنی رقوم کو کسی بھی اچانک ممکنہ گراوٹ سے محفوظ رکھنے کے لیے پیچیدہ دفاعی حکمت عملیوں اور غیر روایتی ٹولز کا سہارا لے رہے ہیں۔

بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بینک آف امریکہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس، بالخصوص سیمی کنڈکٹرز اب ممکنہ خدشات کی زد میں ہیں۔

مارکیٹ کے بیشتر منافع کا انحصار چند بڑے اداروں پر ہے، جو طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

مارکیٹ میں تضاد

اسٹینڈرڈ اینڈ پورز 500 اور نیس ڈیک انڈیکس بدستور مصنوعی ذہانت کی علمبردار کمپنیوں، جیسے انوڈیا کی بدولت عروج پر ہیں۔

تاہم سرمایہ کاروں میں افراط زر، مشرق وسطیٰ کی جنگ اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث پیدا ہونے والی تشویش مصنوعی ذہانت کے گرد موجود پُرامیدی کے تاثر کو متاثر کر رہی ہے۔

وال اسٹریٹ اسٹاک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت کے شیئرز میں بحران کا گراف اور معاشی اتار چڑھاؤ کا خاکہ
مارکیٹ کے بیشتر منافع کا انحصار چند بڑے اداروں پر ہے، جو طویل مدتی استحکام کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

غیر روایتی دفاعی اقدامات

سرمایہ کاروں نے اپنے دفاع کے لیے ’لوک بیک پٹس‘(Lookback Puts) جیسے پیچیدہ آپشنز کا رخ کیا ہے۔

بینک آف امریکہ کے یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے ڈیرویٹوز ٹریڈنگ کے سربراہ نیرج چودھری کا کہنا ہے کہ ان کانٹریکٹس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 

سرمایہ کار اب اس ممکنہ منظرنامے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں مارکیٹ مزید بلندیوں کو چھونے کے بعد اچانک شدید مندی کا شکار ہو جائے۔

مرکزی خطرات

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خطرہ سرمایہ کاری کا چند اسٹاکس تک محدود ہونا ہے۔

لیوریجڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) تیزی کے دوران خریداری کا دباؤ بڑھاتے ہیں، لیکن مارکیٹ کا رخ پلٹنے پر یہی فنڈز نقصانات کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں، جس سے معاشی عدم توازن کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

وال اسٹریٹ اسٹاک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت کے شیئرز میں بحران کا گراف اور معاشی اتار چڑھاؤ کا خاکہ
اسٹینڈرڈ اینڈ پورز 500 اور نیس ڈیک انڈیکس بدستور اے آئی کمپنیوں مثلاً انوڈیا کی بدولت عروج پر ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

بارکلے کا تشویشناک ڈیٹا

بارکلے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لیوریجڈ فنڈز کے ذریعے خریداری یا فروخت کا دباؤ اب اسٹینڈرڈ اینڈ پورز 500 میں ایک فیصد کی تبدیلی پر 10.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

یہ مارچ کے اختتام پر موجود 6 ارب ڈالر کے دباؤ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور تشویشناک ہے۔

کوانٹیٹیٹو انویسٹمنٹ اور مستقبل

ادارے اب خطرات کو سنبھالنے کے لیے الگورتھم پر مبنی ’کوانٹیٹیٹو انویسٹمنٹ‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد ان حکمت عملیوں کا بنیادی مقصد منافع کے بجائے اپنے پورٹ فولیوز کا تحفظ اور میکرو اکنامک تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنا ہے۔

وال اسٹریٹ کی موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا کریز جہاں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر رہا ہے، وہیں مارکیٹ کے چند اسٹاکس پر انحصار اور بڑھتا ہوا لیوریج خطرے کی گھنٹی ہے۔ 

سرمایہ کاروں کا غیر روایتی ٹولز کی طرف رجوع مستقبل میں کسی بھی بڑی معاشی لہر سے نمٹنے کی احتیاطی تدبیر ہے۔