اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

کانگو: ایبولا وائرس سے 131 ہلاکتیں، عالمی سطح پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہیلتھ ایمرجنسی کا خاکہ
عالمی ادارہ صحت نے وبا کی شدت اور پھیلاؤ کی رفتار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی سطح پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق کانگو کے وزیر صحت نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 513 مشتبہ کیسز میں سے 131 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جس سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھانوم گیبریسس نے وبا کی شدت اور پھیلاؤ کی رفتار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

اس سلسلے میں انہوں نے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ہنگامی 

کمیٹی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا بھی باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارے کی جانب سے یہ انتباہ کا دوسرا بڑا درجہ ہے جس کا بنیادی مقصد پڑوسی ممالک کو الرٹ کرنا اور عالمی برادری سے فوری مدد حاصل کرنا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہیلتھ ایمرجنسی کا خاکہ
یہ وبا بونديبوغيو نامی ایبولا وائرس کی وجہ سے پھیلی ہے جو جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا کو متاثر کر رہی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

طبی ماہرین کے مطابق یہ وبا بونديبوغيو نامی ایبولا وائرس کی وجہ سے پھیلی ہے جو جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا کو متاثر کر رہی ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ صورتحال کسی عالمی وبائی مرض کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ اتوار تک کانگو میں ہلاکتوں کی تعداد 88 اور مشتبہ کیسز 300 رپورٹ ہوئے تھے جو اب تیزی سے بڑھ چکے ہیں۔ 

دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی اب تک ایک ہلاکت اور ایک مشتبہ کیس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی کمیٹی اس حوالے سے آج دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھے گی تاکہ موجودہ صورتحال پر نئی سفارشات پیش کی جا سکیں۔ 

اس اجلاس کا مقصد وائرس کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی تعاون بڑھانا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہیلتھ ایمرجنسی کا خاکہ
پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی اب تک ایک ہلاکت اور ایک مشتبہ کیس کی تصدیق کی جا چکی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)