امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے تاہم امریکی میڈیا رپورٹس دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ مشرق وسطیٰ سے آگے تک پھیل سکتی ہے، جبکہ پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔
آج اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا ہم ایران کے ساتھ جنگ کو جلد از جلد ختم کریں گے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت شدید خواہش رکھتی ہے کہ معاہدہ طے پا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایران سے مذاکرات کر رہے ہیں، امید ہے مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اگر ضرورت پڑی تو ایک اور سخت حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے ہدف پر زور دیا تاہم ساتھ ہی کہا کہ ایران سے متعلق اپنے مقاصد کے حصول میں وہ جلد بازی نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے ایران میں معاشی مشکلات اور عوامی غصے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں میں غصہ موجود ہے، ایسا غصہ ہم نے پہلے نہیں دیکھا۔
دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، جسے بعض حلقے ایران میں ممکنہ عوامی احتجاج کی طرف اشارہ قرار دے رہے ہیں۔