رائٹرز کے تازہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی ہے، جو وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔
مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور ایران تنازع کے معاشی اثرات نے ریپبلکن ووٹرز میں بھی بے چینی بڑھا دی ہے، جس سے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
سروے کے مطابق اب 21 فیصد ریپبلکن ووٹرز صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، جبکہ جنوری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے وقت یہ شرح صرف 5 فیصد تھی۔
اسی طرح 79 فیصد ریپبلکن اب بھی ٹرمپ کی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہیں، لیکن یہ شرح بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں یہ 82 فیصد جبکہ ان کی صدارتی مدت کے آغاز پر 91 فیصد تھی۔
ٹرمپ کی جانب سے زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت پر قابو پانے کے وعدوں کے باوجود مہنگائی کا مسئلہ ریپبلکن ووٹرز میں ناراضی کا باعث بن رہا ہے۔
سروے کے مطابق صرف 47 فیصد ریپبلکن سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ زندگی گزارنے کے اخراجات سے متعلق بہتر کام کر رہے ہیں، جبکہ 46 فیصد اس معاملے میں ان کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر صرف ہر 5 میں سے ایک امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی مہنگائی اور اخراجات زندگی سے نمٹنے کی حکمت عملی سے مطمئن نظر آیا۔