اہم خبریں
20 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد پر آ گئی، عوام ناراض

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ مقبولیت
مہنگائی، ایندھن قیمتوں میں اضافہ اور ایران جنگ کے اثرات، ریپبلکن ووٹرز میں بھی ٹرمپ کی حمایت کم ہونے لگی

رائٹرز کے تازہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی ہے، جو وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔
مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور ایران تنازع کے معاشی اثرات نے ریپبلکن ووٹرز میں بھی بے چینی بڑھا دی ہے، جس سے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

رائٹرز کی جانب سے شائع کئے گئے نئے سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی ہے، جو وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ان کی مقبولیت کی اب تک کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ 

اس کمی کی ایک بڑی وجہ ریپبلکن ووٹرز میں حمایت کا گھٹنا قرار دیا جا رہا ہے۔

4 روز تک جاری رہنے والے اس سروے، جو پیر کے روز مکمل ہوا، میں معلوم ہوا کہ صرف 35 فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔ 

مزید پڑھیں

یہ شرح ان کی موجودہ صدارتی مدت کے کم ترین ریکارڈ کے قریب ہے، جو گزشتہ ماہ 34 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اپنی موجودہ صدارتی مدت کا آغاز 47 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ کیا تھا تاہم رواں سال ایران پر امریکی حملوں کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے اثرات نے ان کی مقبولیت کو متاثر کیا۔

ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی تیل تجارت کا ایک حصہ متاثر ہوا، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 

اس صورتحال نے خاص طور پر ریپبلکن رہنماؤں میں تشویش پیدا کر دی، کیونکہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

21 فیصد
ریپبلکن ووٹرز
اب ٹرمپ کی
کارکردگی سے
غیر مطمئن ہیں

سروے کے مطابق اب 21 فیصد ریپبلکن ووٹرز صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، جبکہ جنوری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے وقت یہ شرح صرف 5 فیصد تھی۔
اسی طرح 79 فیصد ریپبلکن اب بھی ٹرمپ کی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہیں، لیکن یہ شرح بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں یہ 82 فیصد جبکہ ان کی صدارتی مدت کے آغاز پر 91 فیصد تھی۔
ٹرمپ کی جانب سے زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت پر قابو پانے کے وعدوں کے باوجود مہنگائی کا مسئلہ ریپبلکن ووٹرز میں ناراضی کا باعث بن رہا ہے۔
سروے کے مطابق صرف 47 فیصد ریپبلکن سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ زندگی گزارنے کے اخراجات سے متعلق بہتر کام کر رہے ہیں، جبکہ 46 فیصد اس معاملے میں ان کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر صرف ہر 5 میں سے ایک امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی مہنگائی اور اخراجات زندگی سے نمٹنے کی حکمت عملی سے مطمئن نظر آیا۔

ایران پر امریکی حملہ
مہنگائی اور اخراجات زندگی ریپبلکن ووٹرز کے لیے بڑا مسئلہ بن گئے

سروے میں ملک بھر سے 1271 بالغ افراد کی آراء شامل کی گئیں، جبکہ نتائج میں عمومی امریکی رائے کے لیے 3 فیصد اور ریپبلکن ووٹرز کے لیے 5 فیصد تک غلطی کا امکان ظاہر کیا گیا۔

ریپبلکن حکمت عملی سازوں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن ووٹرز کے جوش و خروش میں کمی کا اشارہ ہو سکتی ہے، جو کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے کنٹرول کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ریپبلکن ماہر جانٹ ہوف مین کے مطابق سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپبلکن ووٹرز انتخابات میں کم سرگرم دکھائی دے رہے ہیں، جو پارٹی کے لیے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔