اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ایران منتیں کر رہا ہے: ٹرمپ، حملہ ہوا تو نئے محاذ کھول دیں گے: ایران

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران حملہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملے کا امکان ظاہر کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب تھے مگر ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور خلیجی ممالک کی مثبت اطلاعات کے بعد کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
دوسری جانب ایران نے نئی امن تجاویز پیش کی ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کے روز کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ 

انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے تاہم مذاکرات کو موقع دینے کے لیے فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ پیش رفت کے اشارے ملنے کے بعد فوجی کارروائیوں کی بحالی کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے، اور آئندہ چند دن اس بحران کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔

مزید پڑھیں

انہوں نے کہا کہ وہ حملے کی منظوری دینے کے قریب تھے، لیکن چند دن کی محدود مہلت دے کر سفارتی راستہ کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 

ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، چاہے یہ مقصد کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ انہیں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات

 کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق مثبت اطلاعات موصول ہوئیں جنہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت معاہدے تک پہنچنے کے لیے منتیں کر رہی ہے تاہم خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکہ آئندہ چند روز میں ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

ChatGPT Image 19 مايو 2026، 09 12 05 م
ایران نے امریکی مؤقف موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا جائزہ شروع کر دیا

دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں مختلف محاذوں پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، ایران کے قریب علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کو
جوہری ہتھیار
حاصل کرنے سے
روکنے کا عزم دہرایا

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کو فوجی نوعیت کی جوہری صلاحیت حاصل نہیں کرنے دے گا، اور دعویٰ کیا کہ اگر تہران کو ایسی صلاحیت ملی تو وہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ حالیہ پیش رفت نے ایران کے داخلی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم عالمی گزرگاہ ہے اور اسے معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔
ادھر ایرانی فوج نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو ایران نئے محاذ کھول سکتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران مسلح افواج نے اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات

اسی دوران امریکی حکام نے ایران کے شہر میناب میں ایک مقام پر ہونے والی بمباری سے متعلق تحقیقات جاری رہنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ حملے کے ہدف اور اس کی نوعیت پر بحث جاری ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ جاری ہے تاہم جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جبکہ آئندہ چند دن معاہدے یا نئے فوجی تصادم کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔